لوئر دیر کی تحصیل ادینزئی کے بعض پہاڑی علاقوں میں بچوں کی اموات اور شدید بخار و سانس لینے میں مشکلات کی اطلاعات پر ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسز نے متاثرہ دیہات میں 10 رکنی ریپڈ رسپانس ٹیم بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ لوئر دیر کی درخواست پر تشکیل دی گئی ٹیم متاثرہ علاقوں کا تفصیلی فیلڈ انویسٹی گیشن کرے گی، رپورٹ ہونے والی علامات کی تصدیق کے ساتھ ممکنہ وبائی، ماحولیاتی اور ویکٹر عوامل کا جائزہ لے گی۔

 

مراسلے کے مطابق ٹیم میں سرویلینس افسر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر ارمان حکیم، سرویلینس افسر ڈاکٹر گل سرتاج، اسسٹنٹ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ سبز علی، ڈاکٹر نعمان گوہر، انٹامولوجسٹ صلاح الدین، انٹامولوجسٹ جمل خان، سعد اعوان، مس ندا، ڈاکٹر نعمان اور دو نامزد ارکان شامل ہوں گے۔

 

یہ بھی پڑھیے: قبائلی مشران خیبرپختونخوا حکومت اور وفاق کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے متحرک

 

ٹیم کو متاثرہ دیہات کے دورے اور تحقیقات مکمل کرکے تین دن کے اندر اپنی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

ڈپٹی کمشنر لوئر دیر بشارت احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے پھیلنے والی خبروں کو ’میڈیا ہائپ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ دیہات میں کچھ اموات ہوئی ہیں تاہم ان کا تعلق کسی مخصوص بیماری سے ثابت نہیں ہوا۔

 

ضلع لوئر دیر انتظامیہ کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق گزشتہ 15 روز کے دوران مجموعی طور پر 7 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، جن میں 3 بچے قبل از وقت پیدا ہوئے تھے، 2 اموات طویل مدتی بیماریوں کے باعث ہوئیں جبکہ 2 افراد تیز بخار کے باعث جان سے گئے۔

 

انتظامیہ کے مطابق متاثرہ دیہات میں ہیلتھ اور لائیو اسٹاک کی ٹیمیں 4 ستمبر سے صورتحال کی نگرانی اور ضروری اقدامات میں مصروف ہیں۔ انتظامیہ، محکمہ صحت اور صوبائی حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اموات کی وجوہات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔