قبائلی جرگے نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مذاکرات کی کوششیں تیز کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے نمائندے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام سے ملاقات کی ہے۔
انجینئر شوکت اللہ خان، سابق گورنر خیبر پختونخوا، اور خان مرجان کی سربراہی میں قبائلی مشران پہلے صوبائی حکومت کے بعد وفاقی حکومت کے پاس پہنچے، جہاں جرگے نے انجینئر امیر مقام سے مذاکرات کیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان، سری لنکا ٹی ٹوئنٹی سیریز: ٹکٹ کی قیمتیں کتنی مقرر کی گئیں؟
سابق گورنر شوکت اللہ خان نے کہا کہ دونوں حکومتوں کے ساتھ ملاقات کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائدین ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جرگے کی کوشش ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آپس میں بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں۔
جرگے میں باجوڑ سے انجینئر شوکت اللہ خان، ملک سلطان زیب، ملک محمد ایاز، ملک ولی آف کمر ماموند، ملک بہادر شاہ اتمان خیل اور ملک حفظ الرحمن سالارزئی سمیت دیگر قبائلی مشران شامل تھے۔
دیگر مشران میں ملک نادر، حاجی صابر، حاجی صافی، منان، ملک احمد مہمند، ملک عبدالرزاق آفریدی، ملک انعام مہمند صافی، ملک ایاز مہمند اور ملک شیراعظم خان سالارزئی شامل تھے۔
