خیبرپختونخوا حکومت نے مویشی پالنے والے کسانوں کو ان کی دہلیز پر ویٹرنری سہولیات فراہم کرنے کے لیے 2.6 ارب روپے کی لاگت سے ’’احساس بے زبان صحت گاڑی‘‘ منصوبے کا افتتاح کردیا۔

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے منصوبے کا افتتاح کیا، جس کے تحت صوبے میں 145 موبائل ویٹرنری کلینکس اور 27 موبائل لیبارٹری ٹیسٹنگ یونٹس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ 202 ویٹرنری ڈاکٹرز اور اسسٹنٹس کی فراہمی بھی منصوبے میں شامل ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج؟ وفاقی حکومت کا اہم فیصلہ

 

بریفنگ کے مطابق موبائل کلینکس تحصیل کی سطح پر جانوروں کی ویکسینیشن، بیماریوں کی تشخیص، علاج اور ہنگامی ویٹرنری خدمات فراہم کریں گے، جبکہ موبائل ویٹرنری نیٹ ورک کو مرکزی ڈیجیٹل ڈیش بورڈ سے منسلک کیا جائے گا۔

 

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’احساس بے زبان صحت گاڑی‘‘ صرف موبائل ویٹرنری سروس نہیں بلکہ ایک سوچ، احساس اور عہد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کسان جغرافیائی فاصلے یا علاقے کی وجہ سے معیاری ویٹرنری سہولیات سے محروم نہیں رہے گا۔

 

 

انہوں نے کہا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے مویشی پالنے والے کسان بھی جدید ویٹرنری سہولیات سے مستفید ہوں گے، جبکہ حکومت کسانوں کو جدید، معیاری اور بروقت سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کر رہی ہے۔

 

وزیراعلیٰ کے مطابق منصوبے کا مقصد صرف جانوروں کا علاج نہیں بلکہ بیماریوں کی روک تھام اور مویشیوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ بھی ہے۔ صحت مند مویشی بہتر پیداوار اور کسان خاندانوں کے لیے زیادہ آمدن کا ذریعہ بنیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبے کے لاکھوں خاندانوں کے لیے مویشی آمدن، غذائیت اور مالی استحکام کا ذریعہ ہیں، اسی لیے کسان خاندانوں کی آمدن میں بہتری کے لیے لائیوسٹاک کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

 

محمد سہیل آفریدی نے بتایا کہ موبائل ملک کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز دودھ کے معیار کی نگرانی میں اہم کردار ادا کریں گی اور دودھ میں ملاوٹ و مضر آلودگیوں کی نشاندہی کے لیے مؤثر سہولت فراہم کریں گی۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایسا خیبرپختونخوا بنانا ہے جہاں کسان خوشحال، دیہی معیشت مضبوط، مویشی صحت مند اور عوام کو محفوظ و معیاری خوراک میسر ہو۔