وفاقی حکومت نے فی الحال خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سیاسی راستہ اختیار کرنے کا ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اہم مشاورتی اجلاس میں خیبرپختونخوا کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال سمیت پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے مجوزہ اسلام آباد مارچ پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے ممکنہ آپشنز زیرِ بحث آئے، تاہم فوری طور پر کسی بھی اقدام پر عمل درآمد نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ حکومت آئندہ چند دنوں میں پی ٹی آئی کے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہتی ہے، خصوصاً یہ کہ آیا پارٹی 4 اکتوبر کے مارچ پر نظرِ ثانی کرتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی کو کشیدگی کم کرنے اور اپنی سیاسی حکمتِ عملی میں تبدیلی کا موقع دینا چاہتی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق سڑکوں کی بندش، اسلام آباد میں ممکنہ احتجاج اور ریاستی اداروں سے متعلق سخت سیاسی بیانیہ بھی زیرِ غور آیا۔
ذرائع کے مطابق اگر پی ٹی آئی مارچ منسوخ کرکے سیاسی محاذ آرائی کم کرنے کی طرف جاتی ہے تو بعض معاملات کو سیاسی اور انتظامی سطح پر حل کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ان ممکنہ اقدامات میں عمران خان تک وکلا اور اہلِ خانہ کی رسائی، طبی ضرورت کی صورت میں علاج یا اسپتال منتقلی سے متعلق معاملات اور ملاقاتوں کے حوالے سے سہولت شامل ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی سے متعلق بھی اہلِ خانہ اور قانونی ٹیم کی ملاقاتوں سمیت بعض معاملات میں سہولت دینے کے آپشن پر غور کیا جا سکتا ہے۔
