خیبر پختونخوا میں بنیادی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کے مطالبے پر 24 روز سے ہڑتال کرنے والی نیوٹرل ڈاکٹرز کمیونٹی نے قلم چھوڑ ہڑتال کے ساتھ ہسپتالوں کے بائیکاٹ اور ڈاکٹروں کے گھروں کو منتقل ہونے کا اعلان کردیا۔
نیوٹرل ڈاکٹرز کمیونٹی کے چیئرمین ڈاکٹر عدنان آفریدی نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) پشاور میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کو سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ڈاکٹروں نے اپنی حفاظت کے لیے ہسپتالوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے گھروں کو منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: تین روز سستا ہونے کے بعد سونے کی قیمت نے پھر رخ بدل لیا، نئی قیمت کیا ہے؟
ڈاکٹر عدنان آفریدی کے مطابق قلم چھوڑ ہڑتال کے دوران بھی ایمرجنسی کور جاری رہے گا جبکہ ہسپتالوں کے وارڈز میں ایک ایک ڈاکٹر ڈیوٹی انجام دے گا تاکہ مریضوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ اپنا حق مانگنے والے ڈاکٹروں کو ہسپتالوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ڈاکٹر اب اپنے ہی ہسپتالوں میں محفوظ نہیں۔
ڈاکٹر عدنان آفریدی نے دعویٰ کیا کہ محکمہ صحت کی جانب سے مذاکرات کے نام پر ڈاکٹروں کو انتظار کروایا گیا اور ان کا وقت ضائع کیا گیا۔ ان کے مطابق ڈاکٹروں کی کمیٹی پہلے سے موجود ہے جبکہ حکومت کی جانب سے دوبارہ کمیٹی بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 24 روز سے ہڑتال جاری ہے لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اسے ڈاکٹروں کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب مذاکرات ہوئے تو صرف خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سے ہوں گے اور کسی دوسرے حکومتی نمائندے سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
چیئرمین نیوٹرل ڈاکٹرز کمیونٹی نے کہا کہ اگر گھروں میں موجود ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی تو ہراساں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے ایل آر ایچ میں ڈاکٹروں پر مبینہ تشدد کے واقعے کی تحقیقات اور ذمہ دار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت مبینہ طور پر تشدد کے احکامات دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
ڈاکٹر عدنان آفریدی نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا اور ہر صوبائی بجٹ میں ڈاکٹروں کو صرف یقین دہانیاں کرائی گئیں۔
ان کے مطابق اس وقت تقریباً 6 ہزار ٹی ایم اوز اور ایچ اوز ہڑتال پر ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کسی سانحے کے دوران ڈاکٹر اپنی ہڑتال کو پس پشت ڈال کر زخمیوں اور متاثرین کی مدد کے لیے پہنچتے رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا مطالبہ پورا ہونے تک احتجاج جاری رہے گا اور ضرورت پڑنے پر احتجاج کے مزید مراحل بھی اختیار کیے جائیں گے۔
