خیبر کے علاقے وادی تیراہ کے متاثرین کی آبائی علاقوں کو واپسی کا عمل 10 اکتوبر سے شروع کرنے کا اعلان کردیا گیا، تاہم متاثرین اور مقامی مشران نے واپسی سے قبل نقل مکانی کے وقت کیے گئے وعدے پورے کرنے، بقایاجات ادا کرنے اور گھروں سمیت بنیادی انفراسٹرکچر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر خیبر شاہد علی نے وادی تیراہ میدان کا دورہ کیا اور 24 رکنی کمیٹی، مقامی مشران اور فورسز کے گرینڈ جرگے میں شرکت کی، جہاں متاثرین کی واپسی، بحالی، بنیادی سہولیات اور باغ بازار کی دوبارہ آبادکاری سمیت مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔
جرگے میں ڈپٹی کمشنر شاہد علی نے کہا کہ متاثرین کی واپسی کا عمل 10 اکتوبر سے باقاعدہ شروع کیا جائے گا جبکہ واپسی کے دوران درپیش مشکلات کے ازالے کے لیے انتظامیہ اور متعلقہ محکمے اپنا کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے: سوات کا جاپانی پھل بدلتے موسم کی زد میں، ژالہ باری نے باغبانوں کو کتنا نقصان دیا؟
انہوں نے کہا کہ متاثرین کی واپسی صرف انہیں آبائی علاقوں تک پہنچانے تک محدود نہیں بلکہ بنیادی ضروریات اور سہولیات کی بحالی بھی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔
گرینڈ جرگے میں 24 رکنی کمیٹی کے سربراہ مولانا حضرت خان، ظاہر شاہ، کمال الدین، مقامی مشران اور ضلعی انتظامیہ کے حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر متاثرین کی واپسی کے دوران درپیش مسائل، علاقے کی موجودہ صورتحال اور بنیادی سہولیات کی بحالی سے متعلق امور ڈپٹی کمشنر کے سامنے رکھے گئے۔
مقامی مشران نے سڑکوں، پلوں، صحت، تعلیم، پانی، بجلی، مواصلاتی نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ متاثرین کی واپسی کے بعد انہیں بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
جرگے میں متاثرین کی باعزت، منظم اور مرحلہ وار واپسی کے لیے انتظامی اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی گفتگو کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے مشران اور 24 رکنی کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مسائل سنے اور متعلقہ افسران کو عوامی مشکلات کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔
شاہد علی نے کہا کہ متعلقہ محکموں کے تعاون سے وادی تیراہ میدان میں عوامی سہولیات کی بحالی اور ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جبکہ متاثرین کی واپسی اور بحالی کے عمل میں مقامی مشران، 24 رکنی کمیٹی اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے مسائل کو مرحلہ وار حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر خیبر نے باغ مرکز کا بھی دورہ کیا اور مقامی مشران سے ملاقات کی۔ ملاقات میں علاقے کی مجموعی صورتحال، متاثرین کی واپسی، مستقبل کے انتظامی امور اور باغ بازار کی دوبارہ آبادکاری و بحالی پر گفتگو کی گئی۔
مقامی مشران نے باغ بازار سمیت دیگر علاقوں کے مسائل اور عوامی ضروریات سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیا، جس پر انہوں نے مسائل متعلقہ فورمز پر اٹھانے اور ان کے حل کے لیے اپنی سطح پر کوششیں کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
سابق وفاقی وزیر حمید اللہ جان آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ متاثرین کی واپسی کا اعلان ’’دیر آید درست آید‘‘ کے مترادف ہے، تاہم صرف واپسی کافی نہیں بلکہ نقل مکانی کے وقت متاثرین سے کیے گئے وعدے بھی پورے کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین نے طویل عرصے تک مشکلات برداشت کیں اور واپسی کے حوالے سے کئی تاریخیں تبدیل ہوتی رہیں، اس لیے اب واپسی کا عملی عمل شروع ہونا ضروری ہے۔
حمید اللہ جان آفریدی نے کہا کہ تیراہ میں متاثرین کے گھر بار ویران پڑے ہیں، اس لیے ان کے نقصانات اور واجب الادا ادائیگیوں کا معاملہ بھی حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ گھروں، سڑکوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی بھی یقینی بنائی جائے۔
ان کے مطابق متاثرین امن و امان کی صورتحال کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے، اس لیے حکام کو واضح طور پر بتانا چاہیے کہ آیا اب وادی تیراہ مکمل طور پر کلیئر ہے۔
تحریک متاثرین تیراہ کے ترجمان صحبت خان آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تیراہ جرگہ عملی اقدامات کے بغیر بے معنی ہے اور اب تک متاثرین کے مسائل کے حل کے لیے عملی طور پر کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرین کی واپسی کے حوالے سے فوری طور پر باضابطہ سرکاری شیڈول جاری کیا جائے تاکہ متاثرین کو واپسی کے طریقہ کار، تاریخوں اور انتظامی اقدامات کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جا سکیں۔
صحبت خان آفریدی نے کہا کہ اگر 30 ستمبر تک تیراہ متاثرین کے مطالبات حل نہیں ہوئے تو یکم اکتوبر کو ڈی سی خیبر آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا شروع کریں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنما عزت اللہ ہمخیال نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وادی تیراہ کے متاثرین طویل عرصے سے مشکلات کا شکار ہیں اور ان کی واپسی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ میدان میں پائیدار امن کے قیام اور اسے برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر کردار ادا کرنا چاہیے جبکہ متاثرین سے کیے گئے وعدے 10 اکتوبر سے قبل پورے اور تمام بقایاجات ادا کیے جائیں۔
عزت اللہ ہمخیال نے کہا کہ متاثرین اپنے علاقوں میں واپس جا کر نئے سرے سے زندگی کا آغاز کریں گے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ واپسی کے بعد بنیادی سہولیات، انفراسٹرکچر اور دیگر ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے تاکہ متاثرین کو دوبارہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ڈپٹی کمشنر کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق، اسسٹنٹ کمشنر وادی تیراہ میدان محمد انور، تحصیلدار وادی تیراہ میدان شباب، تحصیلدار باڑہ داؤد آفریدی اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
متاثرین کی واپسی کے اعلان کے بعد اب متاثرین اور مقامی مشران کی توجہ باضابطہ سرکاری شیڈول، واپسی کے رجسٹریشن پوائنٹس، مالی ادائیگیوں، گھروں اور انفراسٹرکچر کی بحالی، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور علاقے میں پائیدار امن کے عملی اقدامات پر مرکوز ہے۔
