سوات کے باغات میں ستمبر اور اکتوبر کا موسم آتے ہی درخت نارنجی رنگ کے املوک سے لد جاتے ہیں۔ دور سے دیکھیں تو سبز پتوں کے درمیان جھلکتے یہ نارنجی پھل پورے باغ کو رنگوں سے بھر دیتے ہیں۔ باغبان کئی ماہ کی محنت کے بعد فصل اتارنے اور اسے منڈی تک پہنچانے کی تیاری کرتے ہیں، لیکن اس بار بے وقت ژالہ باری نے کئی باغات کا منظر بدل دیا ہے۔
کئی باغات میں پھل داغ دار ہو گئے، کچھ پھل درختوں سے جھڑ گئے جبکہ بعض مکمل طور پر خراب ہو گئے۔ اس صورت حال نے باغبانوں کے ساتھ ساتھ ان باغات میں کام کرنے والے مزدوروں کی آمدن کو بھی متاثر کیا ہے۔ کئی علاقوں میں داغ دار پھل کم قیمت پر فروخت ہوا، جبکہ کچھ باغات میں پھل مکمل طور پر ضائع ہو گیا۔
املوک کو سوات میں عام طور پر جاپانی پھل کہا جاتا ہے۔ مختلف روایات کے مطابق 1910 میں پرنس سردار عبدالرحمن افندی جاپان سے سرخ پرسمن ( املوک ) سوات لائے تھے، جبکہ ان کے بیٹے پرنس غازی سردار ارحم خان افندی کی اہلیہ بیگم بلقیس افندی بھی سوات میں زرعی سرگرمیوں کے حوالے سے معروف رہیں چاپانی پھل املوک بیگم بلقیس کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے ۔ وقت کے ساتھ املوک کی کاشت سوات کے مختلف علاقوں تک پھیل گئی۔

سوات میں "املوک" سیب اور آڑو کے بعد تیسرا بڑا پھل ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر املوک سوات، چترال اور مری میں پیدا ہوتا ہے، جبکہ ملک میں اس کی مجموعی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد سوات سے حاصل ہوتا ہے۔ سوات کا املوک ملک کے دیگر شہروں میں بھی بھیجا جاتا ہے، جہاں اسے فروخت کیا جاتا ہے۔
املوک نہ صرف ذائقے کے لیے پسند کیا جاتا ہے بلکہ غذائی اعتبار سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ املوک کی غذائی اہمیت کے بارے میں سوات سے تعلق رکھنے والے طبی ماہر ڈاکٹر ساجد علی کہتے ہیں کہ اس میں وٹامن اے، وٹامن سی اور فائبر پائے جاتے ہیں جو صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ دوسری جانب جہان آباد کے باغبان محمد اختر گزشتہ 15 سال سے املوک کی کاشت کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رواں سال ان کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں نصف رہ گئی ہے۔
محمد اختر کے مطابق: ’’پچھلے تین سال میں ستمبر اور اکتوبر میں بار بار ژالہ باری ہوئی، ہر بار باغ کو شدید نقصان ہوا۔ ژالہ باری سے 60 فیصد پھلوں پر داغ آ جاتے ہیں۔ اچھا پھل 200 روپے کلو بکتا ہے تو داغ والا 70 سے 80 روپے میں جاتا ہے۔‘‘
موسم میں تبدیلی کو اپنی فصل کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے محمد اختر کہتے ہیں: ’’پہلے سردی وقت پر آتی تھی، اب بے وقت بارش اور ژالہ باری زیادہ ہوتی ہے۔ اگر مدد نہ ملی تو ہم باغ کاٹنے پر مجبور ہو جائیں گے، املوک سے گزارا مشکل ہو جائے گا۔‘‘منگلور کے باغبان محمد سعید بھی املوک کے چھ باغات کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عام سال میں 200 سے 250 کریٹ پیداوار حاصل ہوتی ہے، لیکن اس سال صرف 140 کریٹ حاصل ہوئے۔محمد سعید کہتے ہیں: ’’اس سال ژالہ باری کی وجہ سے پیداوار 50 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔ میرا تقریباً تین سے پانچ لاکھ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ جو پھل خراب ہوا، وہ منڈی میں بہت سستا بکا، جبکہ مزدوری اور ٹرانسپورٹ کا خرچہ بھی پورا نہیں نکلا۔‘‘

ان کے مطابق ژالہ باری سے بعض پھل صرف داغ دار نہیں ہوتے بلکہ مکمل طور پر ضائع بھی ہو جاتے ہیں۔ محمد سعید کے مطابق: ’’داغ سے قیمت آدھی سے بھی کم ہو جاتی ہے۔ ژالہ باری سے پھل پھٹ بھی جاتا ہے اور پھر گل جاتا ہے۔ اس سال میرا تقریباً 50 فیصد پھل مکمل خراب ہو کر گر گیا۔‘‘وہ کہتے ہیں کہ باغبانوں کے لیے ژالہ باری سے بچاؤ کا ایک طریقہ حفاظتی جال (اینٹی ہیل نیٹ) ہے، مگر اس کی قیمت ان کے لیے بڑی رکاوٹ ہے۔محمد سعید کہتے ہیں: ’’ایک ایکڑ پر حفاظتی جال (اینٹی ہیل نیٹ) لگانے کا تقریباً دو سے پانچ لاکھ روپے خرچہ آتا ہے۔ ہم چھوٹے باغبان ہیں، اتنا بجٹ نہیں۔ اگر حکومت سبسڈی پر دے تو ضرور لگائیں گے۔‘‘
املوک کے باغات میں ہونے والے نقصان کا اثر مزدوروں کے روزگار پر بھی پڑا ہے۔ منگلور سے تعلق رکھنے والے مزدور حسن خان کے مطابق پھل کم ہونے سے باغات میں کام کے دن بھی کم ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں: ’’پہلے باغ میں پورا دن کام کرتے تھے تو 1200 سے 1400 روپے دیہاڑی مل جاتی تھی، اب پورے دن کا کام نہیں ملتا۔ اس موسم میں کئی باغوں میں کام ہی نہیں ہے، سب پھل ژالہ باری سے خراب ہو گیا ہے، تو دیہاڑیاں کم ہو گئی ہیں۔‘‘

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث باغبانوں کو ہر سال تقریباً 30 فیصد نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یونیورسٹی آف سوات کے شعبۂ ماحولیاتی سائنس کے لیکچرار اور پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر فیاض امین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی سوات کے پھلوں کو متاثر کر رہی ہے۔ڈاکٹر فیاض امین کہتے ہیں: ’’موسمیاتی تبدیلی نے سوات کے پھلوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ سیب اور آڑو کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے اور اب املوک سمیت دوسرے پھل بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘ان کے مطابق ماضی میں بارش اور برف باری اپنے معمول کے موسم میں ہوتی تھی، جبکہ اب موسم کے انداز میں تبدیلی آ رہی ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’پہلے وقت پر بارشیں اور برف باری ہوتی تھی، جس سے کئی ماہ تک زمین میں نمی رہتی تھی۔ اب برف باری کم ہو گئی ہے، گرمی بڑھ رہی ہے اور بارشوں اور ژالہ باری کے اوقات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔تو گرمی کی وجہ سے پھل بھی متاثر ہوئی اس مرتبہ املوک کے پھل بننے کے مرحلے میں ژالہ باری سے کچھ پھل گر گئے، کچھ خراب ہوئے اور بعض پر داغ پڑ گئے۔‘‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سوات کے 80 فیصد پھل متاثر ہوئے ہیں اور ہر سال باغبانوں کو تقریباً 30 فیصد نقصان ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نقصان کبھی ژالہ باری سے پھل متاثر ہونے اور کبھی بیماریوں کے باعث ہوتا ہے، جبکہ گزشتہ پانچ سال میں پھلوں کی بیماریاں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کافی بڑھی ہیں۔

تاہم املوک کی پیداوار کے بارے میں محکمۂ زراعت کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں سوات کے کئی علاقوں میں اس کی کاشت بڑھی ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں اس میں کمی بھی آئی ہے۔ ضلعی ڈائریکٹر زراعت توسیع سوات ڈاکٹر افتخار احمد کے مطابق املوک درہ، ملکی دم، شاہ ڈھیرئی، سربالا، سمی، توتانو بانڈئی، چارباغ، ملم، سیر تلیگرام، بشبنڑ، بنجوٹ، ملالئی، منگلور، جہان آباد، مٹہ، عالم گنج اور زرے سمیت مختلف علاقوں میں املوک کے باغات موجود ہیں۔
محکمۂ زراعت کے مطابق سوات میں املوک کے ایک لاکھ سے زائد پھل دار درخت ہیں، تقریباً نو ہزار ایکڑ رقبے پر اس کی کاشت ہوتی ہے اور پیداوار 80 ہزار میٹرک ٹن تک ہے۔
ژالہ باری سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں ڈاکٹر افتخار احمد کہتے ہیں: ’’گزشتہ تین سالوں میں مختلف علاقوں میں ژالہ باری سے املوک کو نقصان رپورٹ ہوا ہے، جو 35 فیصد تک ہے۔‘‘
محکمۂ زراعت کے مطابق باغبانوں کو کھیتوں کی نگرانی، موسمیاتی آگاہی اور موسمیاتی لحاظ سے بہتر زرعی طریقوں کے ذریعے رہنمائی دی جا رہی ہے، جبکہ مختلف منصوبوں کے تحت کسانوں میں پودے، کھاد اور زرعی ادویات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر افتخار احمد کے مطابق محکمہ کھیتوں کی نگرانی، موسمیاتی آگاہی، مربوط کیڑوں کے انتظام (آئی پی ایم) اور موسمیاتی لحاظ سے بہتر زراعت (کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر) کے ذریعے باغبانوں کی رہنمائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جبکہ حفاظتی جال (اینٹی ہیل نیٹس) اور ٹھنڈے ذخیرہ خانے (کولڈ اسٹوریج) کے لیے سبسڈی بھی دی جائے گی۔ محکمہ موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے منصوبوں کے تحت مفت پودے فراہم کر رہا ہے، جبکہ کھاد اور دیگر زرعی ادویات بھی دی جا رہی ہیں۔

باغبانوں کا کہنا ہے کہ اگر ژالہ باری سے تحفظ کے لیے حفاظتی جال، موسم کی پیشگی اطلاع اور ٹھنڈے ذخیرہ خانے جیسی سہولتیں میسر آئیں تو نقصان کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے لیے املوک کی فصل صرف ایک پھل نہیں بلکہ باغات سے وابستہ خاندانوں اور مزدوروں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔ بدلتے موسم اور بڑھتی ژالہ باری کے درمیان سوات کے باغبان اب ایسی زرعی سہولتوں اور حکومتی تعاون کے منتظر ہیں جو ان کی فصل، آمدن اور اس روایتی پھل سے وابستہ روزگار کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنانے میں مدد دے سکیں۔
