پاک افغان بارڈر طورخم کی بندش کو 327 دن گزر گئے، جس کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت میں تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے لاکھوں افراد متاثر اور چھوٹی صنعتوں سے وابستہ ہزاروں مزدور فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔

 

تاجروں کے مطابق افغانستان کے ساتھ تمام بارڈرز کی بندش سے برآمدات کی مد میں 1.644 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کی مد میں 817 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ بارڈر کی بندش کے باعث چھوٹے بڑے ٹرانسپورٹ کاروبار، ہوٹل اور بازار بھی بند ہو چکے ہیں، جس سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہوا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، فی تولہ سونا کہاں پہنچ گیا؟

 

تاجروں کا کہنا ہے کہ بارڈر کی بندش سے خیبر پختونخوا کو سیس ٹیکس کی مد میں 7.27 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ راہداری تجارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ بارڈر کی بندش کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی گئی، تاہم تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بارڈر کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے اور تجارت کو سیاست سے الگ رکھا جائے۔

 

 

تاجر رہنماؤں نے بتایا کہ بارڈر کی بندش کے معاملے پر اسلام آباد میں وزیر داخلہ کے ساتھ ایک اجلاس ہوا تھا، جس میں بلوچستان چیمبر آف کامرس اور سرحد چیمبر کے عہدیداران بھی شریک تھے۔ وزیر داخلہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ خیبر پختونخوا میں بیٹھ کر اس معاملے پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی، تاہم تاحال یہ اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔

 

خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی یوسف آفریدی نے خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گزشتہ 5 سال کے حسابات کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیمبر کا مرکزی دفتر ضلع خیبر میں فعال کیا جائے اور بعض غیر مقامی افراد کی مبینہ مداخلت ختم کی جائے۔

 

ان خیالات کا اظہار خیبر چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی یوسف آفریدی، نائب صدر واجد علی شینواری، حضرت علی بہلول، حاجی عابد اور دیگر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔