خیبرپختونخوا میں کرینوں کو زندہ پکڑنے کا سیزن شروع ہوگیا، صوبائی وائلڈ لائف حکام نے اس مقصد کے لیے 100 کیمپوں کی منظوری دے دی ہے۔ کرین پکڑنے کا سیزن یکم ستمبر سے 15 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
منظور شدہ کیمپ بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، کرک اور وزیرستان کے علاقوں میں قائم کیے جائیں گے۔ ہر کیمپ کو پورے سیزن کے دوران زیادہ سے زیادہ 15 کرینیں زندہ پکڑنے کی اجازت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے: سوات: سنٹرل ہسپتال سیدو شریف سے نومولود بچی اغواء کرنے والی ملزمہ گرفتار
جاری قواعد کے مطابق کیمپ صرف مقررہ اور مجاز کھلے علاقوں میں قائم کیے جاسکیں گے۔ لکی مروت میں چوکی جھند سے ڈیرہ تنگ تک، ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈیرہ دریا خان اور جنوبی وزیرستان کے زرملن کے علاقوں میں کرین پکڑنے پر پابندی ہوگی۔
کرینیں زندہ پکڑنے کے لیے صرف روایتی طریقہ استعمال کیا جاسکے گا، جبکہ الیکٹرانک آلات، فائرنگ یا جال کے ذریعے کرین پکڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ وائلڈ لائف ریفیوج، سینکچری اور دیگر محفوظ علاقوں میں بھی یہ سرگرمی ممنوع ہوگی۔
قواعد کے تحت کرین کی ملکیت کی فیس 400 روپے جبکہ درآمد و برآمد کے این او سی کی فیس 2500 روپے مقرر کی گئی ہے۔ پکڑی جانے والی ہر کرین کا ریکارڈ 24 گھنٹوں کے اندر متعلقہ افسر کے پاس جمع کرانا لازم ہوگا۔
کرین رکھنے والوں کو حلف نامہ دینا ہوگا کہ پرندوں کو صرف گھریلو استعمال کے لیے رکھا جائے گا، جبکہ تجارتی مقاصد کے لیے ان کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔
حکام کے مطابق قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس منسوخ کرنے کے ساتھ متعلقہ شخص کو 5 سال کے لیے بلیک لسٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔
