خولہ زرا فشاں
خوبصورتی ہمیشہ سے انسانی فطرت کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ انسان نہ صرف خود خوبصورت نظر آنا چاہتا ہے بلکہ خوبصورتی کو دیکھنا اور سراہنا بھی پسند کرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حسن و جمال کا تصور انسانی تہذیب کے آغاز سے ہی موجود رہا ہے۔
وقت کے ساتھ زندگی کے انداز بدلے تو خوبصورتی کے معیار اور اسے حاصل کرنے کے طریقے بھی بدلتے گئے۔ آج خوبصورتی جیسے دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے؛ ایک قدرتی حسن، جو سادگی، صحت مند طرزِ زندگی اور صاف ستھرے ماحول سے جنم لیتا ہے، اور دوسرا مصنوعی یا جدید حسن، جس کے لیے بیوٹی پارلرز، کاسمیٹکس، استھیٹکس کلینکس اور جدید طبی طریقوں سے مدد لی جاتی ہے۔

ایک وقت تھا جب لوگوں کی زندگی میں سادگی نمایاں تھی، مگر اسی سادگی میں ایک خاص کشش اور قدرتی خوبصورتی پوشیدہ ہوتی تھی۔ لوگ سادہ اور صحت بخش غذا استعمال کرتے، ماحول نسبتاً صاف تھا اور زندگی آج کی طرح تیز رفتار اور مصروف نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے: آئی سی سی کی نئی ٹیسٹ رینکنگ جاری، بابر اعظم ٹاپ 10 سے نکل کر کون سے نمبر پر آگئے؟
سب سے بڑھ کر یہ کہ لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت تھا۔ وہ مل بیٹھتے، خوشیاں اور غم بانٹتے، ایک دوسرے کا خیال رکھتے اور زندگی نسبتاً سکون اور اطمینان کے ساتھ گزارتے تھے۔

شاید یہی سکون اور اطمینان ان کے چہروں پر قدرتی تازگی اور شگفتگی کی صورت میں نمایاں ہوتا تھا۔ جلد کے مسائل آج کی طرح عام نہیں تھے اور خوبصورت نظر آنے کے لیے مہنگی مصنوعات یا مختلف جدید ٹریٹمنٹس کی ضرورت بھی کم محسوس ہوتی تھی۔

پرانے زمانے کی خواتین بھی اپنی خوبصورتی کا خیال رکھتی تھیں، مگر ان کے طریقے سادہ، قدرتی اور گھریلو ہوتے تھے۔ آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا، دانتوں کی صفائی کے لیے دنداسہ استعمال کیا جاتا، جس سے ہونٹوں پر بھی قدرتی سرخی آ جاتی تھی۔

بالوں کو خوبصورت اور صحت مند رکھنے کے لیے مہندی کا استعمال کیا جاتا، جبکہ چہرے کی صفائی اور نکھار کے لیے ملتانی مٹی اور مختلف گھریلو نسخے آزمائے جاتے تھے۔
ان طریقوں میں سادگی بھی تھی اور فطرت سے قربت بھی۔ شاید اسی لیے اس دور کی خوبصورتی میں ایک الگ تازگی اور کشش محسوس ہوتی تھی۔ اس سادگی میں جو حسن تھا، وہ آج کی مہنگی سے مہنگی ٹریٹمنٹ کا مکمل نعم البدل شاید نہ بن سکے۔

وقت کے ساتھ خوبصورتی کے معیار بھی تبدیل ہونے لگے۔ میک اَپ کا رجحان بڑھا اور تقریباً ہر گلی اور محلے میں بیوٹی پارلرز قائم ہونے لگے۔ اب صرف شادی یا کسی خاص تقریب کے لیے ہی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی بہت سی خواتین اور لڑکیاں اپنی ظاہری شخصیت کو بہتر بنانے کے لیے بیوٹی ٹریٹمنٹس کی طرف متوجہ ہونے لگیں۔

بالوں کی کٹنگ، کلرنگ، میک اَپ اور دیگر بیوٹی ٹریٹمنٹس زندگی کا معمول بنتے گئے۔ کسی کی منگنی ہو، شادی ہو، سالگرہ ہو یا کوئی اور تقریب، تیاری کے لیے بیوٹی پارلر جانا عام بات بن گئی۔

اس کے ساتھ ساتھ جلد، بالوں اور ناخنوں کی دیکھ بھال سے متعلق مختلف مصنوعات اور خدمات بھی عام ہوتی گئیں۔ خوبصورتی کی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی دستیابی نے لوگوں کے لیے اپنی ظاہری شخصیت میں مختلف تبدیلیاں لانا آسان بنا دیا۔
رفتہ رفتہ چہرے سے لے کر بالوں اور آنکھوں کے رنگ تک تبدیلیاں ممکن ہونے لگیں۔ کانٹیکٹ لینز کے ذریعے آنکھوں کا رنگ بدلنا بھی ایک عام رجحان بن گیا۔

اسی طرح گوری رنگت کو بھی خوبصورتی کا ایک معیار سمجھا جانے لگا۔ مختلف کریموں اور مصنوعات کے ذریعے رنگت کو تبدیل کرنے کا رجحان بڑھا، جبکہ قدرتی سانولا رنگ، جو اپنی الگ کشش اور خوبصورتی رکھتا ہے، اسے بھی کمتر سمجھنے کی کوشش کی جانے لگی۔

خاص طور پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بعض اوقات یہ بات نظر انداز کر دیتے ہیں کہ خوبصورتی کی ہر مصنوعات ہر جلد کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ غیر معیاری یا نامناسب مصنوعات جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، اس لیے کسی بھی کریم یا کاسمیٹک پروڈکٹ کے استعمال سے پہلے اس کے اجزا، معیار اور ممکنہ اثرات کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ریاض احمد کے مطابق بازار میں رنگت گوری کرنے اور جلد کو بہتر بنانے کے نام پر بے شمار کریمیں اور مصنوعات دستیاب ہیں، لیکن ہر پروڈکٹ لازماً محفوظ اور مؤثر نہیں ہوتی۔ بعض مصنوعات میں ایسے اجزا شامل ہو سکتے ہیں جو غلط یا طویل استعمال کی صورت میں جلد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خوبصورتی اہم ضرور ہے، لیکن محفوظ خوبصورتی اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔
اب معاملہ صرف بیوٹی پارلرز تک محدود نہیں رہا۔ استھیٹکس کلینکس اور جدید کاسمیٹک طریقۂ علاج بھی تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی ظاہری شخصیت میں بہتری لانے کے لیے مختلف جدید طبی اور کاسمیٹک پروسیجرز سے مدد لے رہے ہیں۔

سائنس، طب اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے ایسے طریقے متعارف کرائے ہیں جن سے عمر کے اثرات کم کرنے اور ظاہری خدوخال میں بہتری لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ جو چیزیں ماضی میں ممکن نہیں تھیں، آج جدید میڈیکل سائنس کی بدولت نسبتاً آسان ہو گئی ہیں۔
انسانی فطرت میں ہمیشہ سے بہتر اور خوبصورت نظر آنے کی خواہش رہی ہے۔ ماضی میں اس مقصد کے لیے ذرائع محدود تھے، جبکہ آج میڈیکل سائنس نے اس شعبے کو باقاعدہ سائنسی بنیادوں پر ترقی دی ہے۔
ڈاکٹر ریاض احمد کا کہنا ہے کہ جدید استھیٹکس میڈیسن اور پلاسٹک سرجری کے ذریعے عمر کے بعض ظاہری اثرات کم کرنے اور چہرے کے خدوخال میں توازن پیدا کرنا ممکن ہے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ قدرتی خوبصورتی کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔

ان کے مطابق اصل مقصد انسان کی قدرتی شخصیت اور ظاہری حسن کو بہتر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے کسی غیر فطری یا غیر حقیقی معیار میں ڈھالنا۔جدید استھیٹکس اور کاسمیٹک علاج کے فوائد صرف ظاہری شکل تک محدود نہیں۔ بعض افراد میں اپنی ظاہری شخصیت کے بارے میں اطمینان اور اعتماد بھی بڑھ سکتا ہے۔ تاہم ان طریقوں کے نتائج ہر فرد میں مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی علاج کا انتخاب ذاتی ضروریات اور طبی مشورے کو مدنظر رکھ کر کرنا چاہیے۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی طبی علاج مکمل طور پر خطرات سے خالی نہیں ہوتا۔ ادویات ہوں یا طبی پروسیجرز، ہر طریقۂ کار کے اپنے فوائد، ممکنہ خطرات اور حدود ہوتی ہیں۔ اسی لیے کسی بھی کاسمیٹک یا طبی پروسیجر سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشاورت ضروری ہے تاکہ متوقع نتائج، ممکنہ پیچیدگیوں اور متبادل طریقوں کو سمجھ کر مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا خوبصورتی کا مطلب صرف ظاہری تبدیلی رہ گیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ خوبصورتی صرف صاف رنگت، بالوں کے رنگ یا چہرے کے خدوخال کا نام نہیں۔ حقیقی حسن میں صحت، مسکراہٹ، شخصیت، اعتماد، سادگی اور سب سے بڑھ کر انسان کا کردار بھی شامل ہے۔
آج بھی قدرت کے قریب رہنے والے بہت سے لوگوں کے طرزِ زندگی میں سادگی نمایاں نظر آتی ہے۔ صاف ماحول، نسبتاً کم آلودگی، سادہ خوراک اور ذہنی سکون انسان کی مجموعی صحت اور تازگی پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔

دیہی اور پہاڑی علاقوں میں بہت سے خاندان آج بھی ایک دوسرے کو وقت دیتے ہیں۔ شام کے وقت گھر کے افراد اکٹھے بیٹھتے، باتیں کرتے، ایک دوسرے کے مسائل سنتے اور باہمی تعاون سے ان کے حل کی کوشش کرتے ہیں۔
زندگی کا یہی سکون، اپنائیت اور اطمینان انسان کی شخصیت پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ جب انسان ذہنی طور پر پرسکون ہو تو اس کی مسکراہٹ، گفتگو اور شخصیت میں بھی قدرتی کشش پیدا ہوتی ہے۔

ہمیں خوبصورت نظر آنے کی خواہش ضرور رکھنی چاہیے اور اپنی شخصیت اور صحت کا خیال بھی رکھنا چاہیے، لیکن اپنی قدرتی خوبصورتی کو کمتر سمجھ کر نہیں،کیونکہ بعض اوقات جس قدرتی حسن کو ہم بدلنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، وہی ہماری اصل پہچان اور سب سے خوبصورت خوبی ہوتا ہے۔

خوبصورتی وہ نہیں جو صرف آئینے میں دکھائی دے۔ حقیقی خوبصورتی انسان کے رویے، مسکراہٹ، شخصیت، اعتماد، کردار اور سادگی میں بھی نظر آتی ہے۔
قدرتی حسن اور جدید خوبصورتی کے طریقے ایک دوسرے کے مخالف نہیں، اصل بات توازن اور سمجھ داری کی ہے۔ جدید سائنس اور علاج سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، مگر اپنی فطری شناخت، صحت اور انفرادیت کو نظر انداز کیے بغیر۔
آخرکار، سب سے خوبصورت انسان وہی ہے جو اپنی شخصیت میں اعتماد، اپنے رویے میں اچھائی اور اپنی زندگی میں سکون رکھتا ہو۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
