کیمرے میں خاموش ہیں، مگر تماشا کے گھر میں سکون نہیں۔ گھڑی کی سوئیاں آگے بڑھ رہی ہیں اور شرکا ایک ایسی آزمائش سے گزر رہے ہیں جس میں انہیں مسلسل جاگتے رہنا ہے۔ تھکن آنکھوں پر حاوی ہوتی ہے تو کوئی باتوں میں وقت گزارتا ہے، کوئی رقص کرکے خود کو جگائے رکھتا ہے اور کوئی بھوک اور تھکن کے باوجود کھیل کے اصولوں پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہے۔
بظاہر یہ ایک تفریحی پروگرام کا کھیل ہے، لیکن اسی کھیل کے دوران شرکا کا رویہ، ان کے فیصلے، ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات اور اختلافات ناظرین کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہیں جو تماشا کے گھر سے نکل کر سوشل میڈیا اور عوامی گفتگو کا حصہ بنتے ہیں۔

تماشا پاکستان کا حقیقت پر مبنی تفریحی پروگرام ہے جو اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہوتا ہے۔ اس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ایک ہی گھر میں رکھا جاتا ہے اور ان کا رابطہ باہر کی دنیا سے منقطع رکھا جاتا ہے۔ شرکا ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہوئے مختلف کھیلوں، آزمائشوں اور نامزدگیوں کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر: بدامنی کے باعث تیراہ سے نقل مکانی کے بعد خصوصی افراد کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
شرکا کو کھیل جیتنے کے ساتھ ساتھ گھر کے اندر تعلقات بنانے، اختلافات سے نمٹنے، اتحاد قائم کرنے اور دباؤ میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کی کوشش بھی کرنا ہوتی ہے۔ یوں تماشا میں مقابلہ صرف کھیل کا نہیں بلکہ شخصیت، رویے اور حکمت عملی کا بھی بن جاتا ہے۔

پروگرام میں مختلف کھیل اور آزمائشیں ہوتی ہیں۔ کہیں جسمانی برداشت آزمائی جاتی ہے، کہیں ذہانت اور توجہ درکار ہوتی ہے اور کہیں مخصوص پابندیوں کے ساتھ وقت گزارنا پڑتا ہے۔ کھیل جیتنے والے شریک کو بعض مواقع پر نامزدگی سے بچنے کا فائدہ یا کوئی خصوصی اختیار ملتا ہے، جبکہ قوانین کی خلاف ورزی یا بعض احکامات کی نافرمانی مشکلات کا باعث بنتی ہے۔

تماشا کے گھر میں بادشاہ کے احکامات کے مطابق رہنا پڑتا ہے۔ اس کے حکم کو ماننا اولین فرائض میں شمار ہوتا ہے۔ وہ گھر کا حاکم ہوتا ہے۔ وزیر کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ وزیر کو مخصوص اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور وہ گھر کے بعض معاملات میں فیصلے کرتا ہے۔

اس کے ساتھ مشیر ہوتا ہے جو وزیر کی مدد کرتا ہے۔ وزیر کے احکامات یا گھر کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے شرکا کو بعض حالات میں جیل بھیجا جاتا ہے۔ یوں وزیر، مشیر، کھیل، نامزدگی اور جیل سب مل کر گھر کے اندر طاقت اور حکمت عملی کا ایک نظام بناتے ہیں۔

لیکن اس کھیل کا ایک اور میدان گھر سے باہر ہے، جہاں ناظرین اپنے پسندیدہ شرکا کے لیے ووٹ دیتے ہیں۔ عوام کا کردار تماشا میں سب سے اہم ہوتا ہے۔ تماشا کے مختلف مراحل میں عوامی ووٹ کسی کنٹسٹنٹ (کنٹسٹنٹ وہ ہوتا ہے جو تماشا پروگرام کا حصہ بنتا ہے، کنٹسٹنٹس یعنی شرکا) کے سفر اور حتمی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
گھر کے اندر شرکا ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے ہیں، جبکہ گھر سے باہر ناظرین اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ اپنے پسندیدہ کنٹسٹنٹ کو ووٹ دے کر اسے گھر میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ کسی کنٹسٹنٹ کو گھر میں رکھنا ہے یا باہر کرنا ہے، یہ فیصلہ عوام کرتے ہیں۔

تماشا نے پاکستان میں 2022 میں اپنا سفر شروع کیا۔ پہلے سیزن میں عمر عالم فاتح بنے، دوسرے سیزن میں عروبا مرزا نے کامیابی حاصل کی، تیسرے سیزن میں عقیل ملک فاتح رہے جبکہ چوتھے سیزن میں سیف علی خان نے ٹائٹل اپنے نام کیا۔

ہر سیزن میں کچھ ایسے شرکا بھی مقبول ہوئے جو فاتح نہ بن سکے، لیکن اپنی شخصیت، کھیل، مزاح، دوستی یا تنازعات کے باعث ناظرین کے درمیان اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔
عروبا مرزا کی مقبولیت، حمیرا اصغر کا جارحانہ انداز اور سیف علی خان کی غیر معمولی عوامی پذیرائی اس سفر کے نمایاں مرحلے رہے۔ سیف علی خان کے مداحوں نے انہیں ’’دلوں کا وزیر‘‘ کا لقب دیا، جو ان کی عوامی مقبولیت کی ایک نمایاں علامت بن گیا۔ سیف علی خان کی مقبولیت کے بعد مداح پختون کنٹسٹنٹس کو بھی پسند کرتے ہیں، اور تماشا سیزن 5 میں پختون پس منظر رکھنے والے شرکا کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

چوتھے سیزن میں سیف علی خان اور ملائکہ کے درمیان ہونے والی لڑائی سے متعلق ایک مختصر ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خاصی زیرِ بحث رہی۔ ملائکہ کے ’’آئی اسک ہر‘‘ والے جملے سے متعلق کلپ نے ناظرین کی توجہ حاصل کی اور بعد میں اسی معاملے پر گفتگو بھی سامنے آئی۔ ایک مختصر لمحہ اس طرح پورے سیزن کی یادگار بحثوں میں شامل ہو گیا۔
تماشا کے آغاز میں پروگرام کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بعض حلقوں نے اعتراض کیا کہ مرد اور خواتین کو ایک ہی گھر میں رکھنا مذہبی اور معاشرتی اقدار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تاہم وقت کے ساتھ کھیلوں، مزاح، شرکا کی شخصیات، دوستیوں، اختلافات اور اچانک پیش آنے والے واقعات نے پروگرام کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ یوں جس پروگرام کے تصور پر ابتدا میں اعتراضات سامنے آئے، وہی بعد میں اپنی تفریح اور شرکا کی وجہ سے عوامی گفتگو کا مستقل موضوع بن گیا۔

اب پانچواں سیزن جاری ہے اور اس بار پختون پس منظر رکھنے والے شرکا ناظرین کی خاص توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ ببرک شاہ، ایسرا عائشہ، ڈاکٹر زی، زیب خان اور حمزہ جوہر ایسے نمایاں نام ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر ناظرین کی ایک بڑی تعداد پسند کرتی دکھائی دیتی ہے۔

ببرک شاہ اور زیب خان دونوں کو پختون پس منظر رکھنے والے شرکا کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ حمزہ جوہر بھی پختون ہیں۔ ان میں ببرک شاہ اور زیب خان کو بعض ناظرین ممکنہ فاتح کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ حمزہ جوہر کی موجودگی بھی پختون شرکا کی اس فہرست کو مزید نمایاں کرتی ہے۔

ببرک شاہ کو بہت سے مداح اپنا پسندیدہ قرار دے رہے ہیں اور بعض انہیں پانچویں سیزن کا ممکنہ فاتح بھی سمجھتے ہیں۔ ان کی مقبولیت ان کے کھیل، شاعری، گھر کے اندر موجودگی اور دوسرے شرکا کے ساتھ تعلقات سے جڑی دکھائی دیتی ہے۔

ڈاکٹر زی کے ساتھ ان کے اختلافات ناظرین کی توجہ حاصل کرتے ہیں، جبکہ لیلیٰ اور ببرک شاہ کے درمیان ہونے والی لڑائیاں بھی ان کے مداحوں کی گفتگو کا حصہ بنتی ہیں۔ یوں ببرک شاہ کے لیے کھیل اور تنازع دونوں عوامی توجہ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

زیب خان بھی پختون پس منظر رکھنے والے ان شرکا میں شامل ہیں جنہیں ناظرین کی جانب سے پسند کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض ناظرین انہیں ببرک شاہ کے ساتھ ممکنہ فاتحین میں شمار کرتے ہیں۔ ان کی مقبولیت بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پانچویں سیزن میں پختون شرکا کی موجودگی اور ان کی شخصیات ناظرین کی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

حمزہ جوہر بھی پختون ہیں اور پانچویں سیزن میں پختون پس منظر رکھنے والے نمایاں چہروں میں شامل ہیں۔ مداح انہیں ان کے ایک گانے ’’بیلا چاو‘‘ کی وجہ سے ’’بیلا چاو‘‘ بھی کہتے ہیں، جو انہوں نے تماشا میں گایا تھا۔ ان کی موجودگی ببرک شاہ، ایسرا عائشہ، ڈاکٹر زی اور زیب خان کے ساتھ اس پہلو کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ اس سیزن میں پختون شناخت رکھنے والے متعدد شرکا ناظرین کی گفتگو کا حصہ بن رہے ہیں۔
ڈاکٹر زی نے اپنے مزاحیہ انداز سے الگ شناخت بنائی ہے۔ ان کی مزاحیہ گفتگو، غیر معمولی حرکات اور گھر کے مختلف معاملات میں موجودگی ناظرین کو محظوظ کرتی ہے۔ ببرک شاہ کے ساتھ ان کے اختلافات نے بھی انہیں مسلسل زیرِ بحث رکھا ہے۔

ایسرا عائشہ بھی پانچویں سیزن کے نمایاں چہروں میں شامل ہیں۔ سوشل میڈیا پر بعض ناظرین ان کے چہرے کو مشہور ترک ڈرامے ’’کورولش عثمان‘‘ کی گونچا خاتون کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ اس مشابہت نے ان کے ذکر کو مزید بڑھایا، تاہم گھر کے اندر ان کی واضح رائے، اختلافات اور کھیل میں نمایاں موجودگی بھی ان کی مقبولیت کی وجوہات میں شامل ہیں۔

جبکہ دوسری جانب ثاقب سمیر نے ناظرین کی توجہ ایک مختلف انداز سے حاصل کی۔ گھر کے دوسرے افراد کی مدد کرنا، ان کا ساتھ دینا اور مثبت رویہ اختیار کرنا ان کی شناخت بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ناظرین انہیں ایسے شریک کے طور پر دیکھتے ہیں جو صرف مقابلہ کرنے کے بجائے گھر کے دوسرے افراد کے لیے بھی تعاون کا رویہ رکھتا ہے۔
پانچویں سیزن کی موجودہ صورتحال میں ببرک شاہ، ایسرا عائشہ، ڈاکٹر زی، زیب خان اور حمزہ جوہر کی موجودگی اور مقبولیت ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کیا پختون پس منظر رکھنے والے شرکا واقعی ناظرین میں زیادہ مقبول ہو رہے ہیں؟

یہاں سوال صرف تماشا سیزن 5 کے چند مقبول شرکا کا نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑا ہے۔ پاکستان میں پختون کرداروں کو عام تفریحی مواد میں کئی مرتبہ محدود یا منفی تصورات کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا ہے۔ بعض کہانیوں میں پختونوں کو شدت پسندی، دہشت گردی یا بدامنی کے حوالے سے دکھایا جاتا ہے، جس سے ایک مخصوص تاثر مضبوط ہو سکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں تماشا جیسے تفریحی پروگرام میں جب پختون پس منظر رکھنے والے افراد بغیر کسی اسکرپٹ کے اپنی شخصیت، مزاح، کھیل، دوستی، اختلافات اور روزمرہ رویوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں تو ناظرین کو انہیں ایک مختلف انسانی زاویے سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پختون شرکا کو پسند کیا جاتا ہے۔ انڈیا، بنگلہ دیش اور دبئی سے تعلق رکھنے والے افراد سوشل میڈیا پر تماشا کے پختون شرکا کے لیے پیغامات جاری کرتے ہیں۔
سیف علی خان کی مقبولیت اور انہیں دیا جانے والا ’’دلوں کا وزیر‘‘ کا لقب اس تبدیلی کی ایک مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اب پانچویں سیزن میں ببرک شاہ، ایسرا عائشہ، ڈاکٹر زی، زیب خان اور حمزہ جوہر کی مقبولیت اس بحث کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ کیا تماشا پختون شناخت کو ایک مثبت تفریحی تناظر میں دکھانے کا ذریعہ بھی بن رہا ہے۔

ببرک شاہ کو بہت سے ناظرین ممکنہ فاتح سمجھتے ہیں، جبکہ بعض ناظرین زیب خان کو بھی فاتح کی دوڑ میں دیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر زی اپنے مزاح کی وجہ سے مقبول ہیں، ایسرا عائشہ اپنی واضح شخصیت اور موجودگی کی وجہ سے نہ صرف نمایاں رہیں بلکہ پانچویں سیزن میں ببرک شاہ، ایسرا عائشہ، ڈاکٹر زی، زیب خان اور حمزہ جوہر کی موجودگی نے پختون شرکا کو ایک بار پھر تماشا کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔
اگر یہ رجحان ووٹنگ اور ناظرین کی براہِ راست آراء میں بھی نظر آیا تو تماشا صرف ایک تفریحی مقابلہ نہیں رہے گا بلکہ یہ بھی دکھائے گا کہ پاکستانی ناظرین پختون شناخت کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔

دوسری جانب تماشا کے پانچ سیزنز کا سفر بھی یہی بتاتا ہے کہ گھر کے اندر ہونے والا کھیل اور گھر سے باہر بننے والی مقبولیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ وزیر کے پاس گھر کے اندر اختیارات ہیں، مشیر اس کی مدد کرتا ہے، کھیل شرکا کی صلاحیت آزماتے ہیں، جیل قوانین کی خلاف ورزی پر سزا کا حصہ بنتی ہے اور نامزدگیاں ہر شریک کے لیے اگلا امتحان کھڑا کرتی ہیں۔ لیکن گھر سے باہر ناظرین کے پاس اپنا اختیار ہے۔ وہ دیکھتے ہیں، رائے قائم کرتے ہیں اور ووٹ کے ذریعے اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ تماشا 5 کا فاتح کون ہوگا؟ ببرک شاہ؟ زیب خان؟ ڈاکٹر زی؟ ایسرا عائشہ؟ حمزہ جوہر؟ یا کوئی ایسا شریک جس کی مقبولیت ابھی خاموشی سے بڑھ رہی ہے؟
تماشا میں ہر سیزن ایک فاتح ضرور پیدا کرتا ہے، لیکن ہر فاتح لازماً سب سے زیادہ مقبول شریک نہیں ہوتا۔ کبھی کوئی شریک کھیل جیت کر ٹائٹل لے جاتا ہے اور کبھی کوئی دوسرا اپنی شخصیت، رویے یا کسی یادگار لمحے کی وجہ سے ناظرین کے دل میں زیادہ دیر تک رہتا ہے۔ اسی لیے تماشا 5 کی اصل کہانی شاید صرف اس گھر میں نہیں لکھی جا رہی جہاں شرکا کھیل رہے ہیں۔
اس کی ایک دوسری کہانی ان لوگوں کے درمیان بھی لکھی جا رہی ہے جو گھر سے باہر بیٹھ کر دیکھ رہے ہیں، تبصرہ کر رہے ہیں اور ووٹ دے رہے ہیں۔
