وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گزشتہ روز جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں بچوں سمیت 4 افراد کے زخمی ہونے پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مذمت کی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بچوں سمیت عام شہریوں کو نشانہ بنانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، جبکہ بے گناہ شہریوں بالخصوص بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں 30 اگست سے جاری بارشوں نے کتنا جانی و مالی نقصان کیا؟
انہوں نے زخمی بچوں اور دیگر متاثرین کے اہلخانہ سے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات امن و امان کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن کے لیے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت اور سیکیورٹی فورسز شہریوں کے تحفظ اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک کے نرگسائی میں مبینہ کواڈ کاپٹر ڈرون کے ذریعے مارٹر گولہ ایک گھر پر گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں باپ اور بچے بھی شامل ہیں۔
