خیبر پختونخوا کے سابقہ قبائلی ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے بعد گزشتہ سال نومبر میں شروع ہونے والی نقل مکانی نے مقامی آبادی کے لیے مشکلات پیدا کیں، تاہم ان مشکلات کا سب سے زیادہ سامنا ان افراد کو کرنا پڑا جو جسمانی یا دیگر نوعیت کی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
شدید سرد موسم، دشوار گزار راستوں اور محدود وسائل کے باوجود سینکڑوں خصوصی افراد نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ وادی تیراہ سے باڑہ اور دیگر علاقوں کا رخ کیا۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، جنہیں نقل مکانی کے دوران سفر کے ساتھ ساتھ رہائش، علاج، رجسٹریشن اور سرکاری امداد کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ نقل مکانی سے قبل ہی انہیں معاشرتی رویوں اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا تھا، لیکن بے گھر ہونے کے بعد یہ مسائل مزید بڑھ گئے ہیں۔
نقل مکانی کے دوران خصوصی افراد کو درپیش مشکلات
وادی تیراہ کے خصوصی افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی مقامی تنظیم کے صدر خیر محمد آفریدی بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے اپنے خاندان کے ہمراہ وادی چھوڑ کر باڑہ میں رشتہ داروں کے ہاں عارضی پناہ لی۔
خیر محمد آفریدی کی ایک ٹانگ پولیو وائرس سے متاثرہ ہے۔ ان کے مطابق نقل مکانی کے دوران شدید سردی، دشوار گزار راستوں اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی نے خصوصی افراد کے لیے سفر کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا، جبکہ اب بھی وہ نقل مکانی کی زندگی مشکلات کے ساتھ گزار رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’جب ہم نقل مکانی کر رہے تھے تو اس دوران شدید سرد موسم اور دیگر مشکلات کے باعث دو خصوصی بچیوں کی ہلاکت بھی ہوئی، جس نے اس وقت صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کیا۔‘‘
خیر محمد نے ایف اے تک تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ وہ وادی تیراہ میں ایک فاؤنڈیشن کے اسکول میں استاد بھی رہ چکے ہیں، تاہم منصوبہ ختم ہونے کے بعد انہوں نے میدان بازار میں دکان قائم کی اور روزگار کا سلسلہ شروع کیا۔ علاقے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے پر انہیں بھی اپنا گھر، کاروبار اور معمول کی زندگی چھوڑ کر نقل مکانی کرنا پڑی۔

اب وہ باڑہ میں رشتہ داروں کے ہاں رہائش پذیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے روزگار ختم ہوا، جس کے بعد انہوں نے مشکل سے ایک ریڑھی خریدی اور اس پر پھل فروخت کرکے روزگار کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا، تاہم اس کے باوجود وہ معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رجسٹریشن کے عمل میں خصوصی افراد کے لیے مشکلات
خیر محمد آفریدی کے مطابق بے گھر خاندانوں کی رجسٹریشن کے لیے قائم کیے گئے مراکز میں خصوصی افراد کے لیے نہ تو الگ کاؤنٹر موجود تھا اور نہ ہی قطاروں اور انتظار کے دوران ان کی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا۔

ان کے مطابق بیشتر خصوصی افراد کے پاس محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے جاری کردہ معذوری کے سرٹیفکیٹس موجود نہیں تھے۔ شناختی کارڈ پر مستقل پتے اور موجودہ رہائش کے درمیان فرق کی وجہ سے بھی بعض افراد کو رجسٹریشن کے عمل میں مشکلات پیش آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو مناسب رہنمائی بھی فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث کئی خصوصی افراد رجسٹریشن سے محروم رہ گئے اور وہ حکومتی معاونت کے حصول کے لیے بھی مشکلات کا شکار ہیں۔
کئی ہفتے گزر نے کے باوجود رجسٹریشن نہ ہوسکی
وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے سلیم خان (فرضی نام)، جو پشاور کے ایک نواحی علاقے میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں، نے بتایا کہ وہ بیساکھی کے سہارے چلتے ہیں۔ دو ماہ قبل وہ رجسٹریشن اور مالی معاونت کے حصول کے لیے دو مرتبہ مرکز جا چکے ہیں، مگر ان کا اندراج نہ ہوسکا۔

ان کا کہنا ہے کہ خصوصی افراد کو بھی عام لوگوں کے ساتھ قطار میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جو ان کے لیے جسمانی طور پر انتہائی مشکل عمل ہے۔
ساٹھ سالہ سلیم خان بھی ان خصوصی افراد میں شامل ہیں جو اس وقت رجسٹریشن کے لیے پانچویں مرتبہ مرکز کے چکر لگا رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ چار مرتبہ مرکز آکر خالی ہاتھ واپس جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ کبھی انہیں شناختی کارڈ میں تبدیلی کرانے کا کہا جاتا ہے اور کبھی عمر زیادہ ہونے کا مسئلہ بتایا جاتا ہے، جبکہ خصوصی افراد کے لیے کوئی الگ انتظام موجود نہیں کہ وہ عام لوگوں کی طرح طویل قطاروں میں کھڑے ہونے سے بچ سکیں۔
وادی تیراہ کے 400 سے زائد خصوصی افراد کا ڈیٹا موجود
خیر محمد آفریدی کے مطابق ان کی تنظیم کے پاس وادی تیراہ سے تعلق رکھنے والے 400 سے زائد خصوصی افراد کا ڈیٹا موجود ہے، تاہم ان کے خیال میں اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جو مختلف نوعیت کی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

خیر محمد کے مطابق متعدد خصوصی افراد کو بیساکھیوں، آلاتِ سماعت، مصنوعی ٹانگوں اور دیگر ضروری معاون آلات کی ضرورت ہے، لیکن نقل مکانی کے بعد ان ضروریات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ بعض افراد کو مقامی صحافیوں اور مخیر لوگوں کی مدد سے محدود معاونت ملی، تاہم مجموعی طور پر بڑی تعداد اب بھی بنیادی سہولیات کی منتظر ہے۔
خیر محمد آفریدی کے مطابق متعدد خصوصی افراد کے پاس اس وقت کوئی روزگار نہیں، جبکہ ایسی خواتین بھی موجود ہیں جو سلائی کا کام جانتی ہیں۔ اگر انہیں سلائی مشینیں فراہم کی جائیں تو وہ اپنے خاندانوں کے لیے آمدن کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔

وہ خود بھی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے کرائے اور دیگر مد میں کچھ معاونت فراہم کی گئی، تاہم طویل عرصے تک بے گھر رہنے کے باعث یہ رقم خوراک، ضروری سامان اور روزمرہ اخراجات پر خرچ ہوچکی ہے۔
34 ہزار سے زائد خاندانوں کی رجسٹریشن
ضلعی انتظامیہ کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق وادی تیراہ میں شدید بدامنی کے باعث نقل مکانی کا سلسلہ گزشتہ سال نومبر کے آخر میں شروع ہوا، جبکہ بے گھر خاندانوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کا عمل رواں سال 6 جنوری کو اپر باڑہ کے علاقے پائیندی چینہ کے سرکاری ہائیر سیکنڈری اسکول میں شروع کیا گیا۔

بعد ازاں مختلف مسائل اور رش کے باعث باڑہ بازار کے قریب برقمبر خیل، شلوبر قمبر خیل، ملک دین خیل، اکاخیل، آدم خیل اور کمر خیل قبائل کے لیے مزید پانچ رجسٹریشن مراکز قائم کیے گئے۔
حکام کے مطابق ان مراکز میں 34 ہزار سے زائد خاندانوں کا اندراج کیا گیا، جنہیں گاڑی کا کرایہ، بینک اکاؤنٹ اور موبائل سم فراہم کی گئی۔

حکام کے مطابق اب تک 19 ہزار سے زائد خاندانوں کی تصدیق مکمل ہوچکی ہے اور انہیں گاڑی کے کرائے کے علاوہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے موبائل سم کے ذریعے 2 لاکھ 40 ہزار روپے جاری کیے جاچکے ہیں، جن میں 35 ہزار روپے ماہانہ کی دو اقساط بھی شامل ہیں، جبکہ یہ عمل بدستور جاری ہے۔
خصوصی افراد کا ڈیٹا، سرکاری معاونت اور سہولیات کی فراہمی
محکمہ سماجی بہبود کے مطابق ضم اضلاع میں مجموعی طور پر 47 ہزار خصوصی افراد رجسٹرڈ ہیں، جن میں سب سے زیادہ تعداد ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے، جو تقریباً 15 ہزار ہے۔

محکمہ سماجی بہبود خیبر کے مطابق وادی تیراہ سے باڑہ اور دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کرنے والے خصوصی افراد میں سے تقریباً ساڑھے تین سو افراد کے لیے معذوری کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
محکمے کے مطابق ان افراد کی سہولت کے لیے باڑہ کے ڈوگرہ اسپتال میں 25 روز تک کیمپ بھی لگایا گیا، جبکہ شکایات کے ازالے کے لیے ایک ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔
محکمہ سماجی بہبود کے مطابق وادی تیراہ کے خصوصی افراد سے بیساکھیوں، آلاتِ سماعت اور دیگر ضروری معاون آلات کے لیے درخواستیں بھی وصول کی جاچکی ہیں، جن کی منظوری کے بعد متعلقہ افراد میں تقسیم کیا جائے گا۔
