مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے اشتہاری ملزم ممتاز عرف ممتازے کی لاش کے حصول کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔
درخواست ممتاز کی والدہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ممتاز کو بحرین سے پاکستان لاکر جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا، جبکہ اہل خانہ کو لاش بھی نہیں دی جا رہی۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور پولیس کو مطلوب ممتاز عرف ممتازے کو کب پاکستان لایا جائے گا؟ اہم معلومات سامنے آگئیں
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہل خانہ کو کہہ رہی ہے کہ جب تک ممتاز کے جانی تحفظ کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں دائر درخواست واپس نہیں لی جاتی، اس وقت تک لاش حوالے نہیں کی جائے گی۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ پولیس کو ممتاز کی لاش اہل خانہ کے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے۔
پولیس کے مطابق ممتاز عرف ممتازے 49 سنگین مقدمات میں پشاور پولیس کو مطلوب اشتہاری تھا، جسے گزشتہ روز انٹرپول کی کارروائی کے بعد ڈی ایس پی اعجاز نبی اور ڈی ایس پی اشفاق کی نگرانی میں بحرین سے اسلام آباد ایئرپورٹ کے ذریعے پاکستان واپس لایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا حکومت کا مدارس کے طلبہ کے لیے بڑا تعلیمی اقدام
پولیس کے مطابق ممتازے کو پشاور لانے والی پولیس پارٹی پر تھانہ شاہ پور کی حدود نادرن بائی پاس پر حملہ کیا گیا۔ حملہ آوروں نے فائرنگ اور دستی بموں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 2 ایس ایچ اوز زخمی ہوئے۔
پولیس کے مطابق حملے میں ممتاز عرف ممتازے بھی ہلاک ہوا جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں 2 حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔
