ضلع باجوڑ میں تقریباً 19 سال قبل شروع کیا گیا نرسنگ کالج آج بھی اپنی عمارت، کلاس رومز اور لیبارٹری کے سامان سمیت تعلیمی سرگرمیوں کا منتظر ہے۔

 

یہ وہ منصوبہ تھا جس سے نہ صرف باجوڑ کی طالبات کو اپنے ہی ضلع میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملنا تھا بلکہ پورے ضم قبائلی اضلاع میں صحت کے شعبے کے لیے تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف کی کمی دور ہونے کی امید بھی وابستہ تھی۔مگر تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ امید حقیقت نہیں بن سکی۔

 

 

کالج کی عمارت موجود ہے، کلاس رومز موجود ہیں اور لیبارٹری کا سامان بھی موجود ہے، لیکن ان کمروں میں آج تک وہ تعلیمی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکیں جن کے لیے یہ ادارہ تعمیر کیا گیا تھا۔

 

یہ بھی پڑھیے: ضلع خیبر میں منشیات کے عادی افراد کے لیے بڑا اقدام

 

کالج کے احاطے میں داخل ہوتے ہی بند دروازے، خاموش راہداریاں اور خالی کلاس رومز ایک ایسے منصوبے کی کہانی سناتے ہیں جس پر سرکاری وسائل خرچ ہوئے، مگر عوام کو اس کا عملی فائدہ نہ مل سکا۔

 

مقامی رکن صوبائی اسمبلی ڈاکٹر حمید الرحمان کے مطابق یہ ادارہ 2007 میں فاٹا سیکرٹریٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا، تاہم اس وقت علاقے میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث منصوبے پر مزید پیش رفت نہ ہو سکی۔

 

بعد ازاں خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے بھی اس ادارے کو اپنے کیمپس کے طور پر فعال کرنے کی کوشش کی، تاہم فیسوں کے معاملے کے باعث یہ کوشش مقامی آبادی کے لیے قابلِ عمل نہ بن سکی۔

 

ڈاکٹر حمید الرحمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو متعدد مرتبہ صوبائی اسمبلی میں اٹھایا اور کال اٹینشن نوٹس بھی جمع کرائے، جس پر اسمبلی کی متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں تفصیلی بحث ہوئی۔

 

 

ان کے مطابق انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے بھی اس معاملے پر بات کی، جس کے بعد بعد پروفیشنل ہیلتھ سائنسز اتھارٹی کی ٹیم نے نرسنگ کالج کا دورہ کیا۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ ادارے کو پی ایچ ایس اے کے تحت فعال کر دیا جائے گا۔

 

ٹی این این سے گفتگو میں ڈسٹرک ہیلتھ آفیسر باجوڑ ڈاکٹر گوہر ایوب نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پروفیشنل ہیلتھ سائنسز اتھارٹی پی ایچ ایس اے حکام نے نرسنگ کالج کا دورہ کیا ہے اور امید ہے کہ بہت جلد اسے فعال کرکے تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دی جائیں گی۔

 

انہوں نے بتایا کہ کالج کو فعال کرنے کی راہ میں ایک اہم مسئلہ اس کی افیلی ایشن کا بھی رہا ہے۔

ڈاکٹر گوہر ایوب کے مطابق اس سے قبل خیبر میڈیکل یونیورسٹی نے بھی نرسنگ کالج کو فعال کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم یونیورسٹی کے ساتھ افیلی ایشن کی صورت میں فیسیں مقامی طلبہ و طالبات کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی تھیں۔

 

 

ان کا کہنا تھا کہ باجوڑ میں بڑی تعداد میں خاندان محدود مالی وسائل رکھتے ہیں، اس لیے اگر ادارہ زیادہ فیسوں کے ساتھ فعال ہوتا تو مقامی غریب اور متوسط طبقے کے طلبہ اس سہولت سے مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔

 

 ڈاکٹر گوہر ایوب کے مطابق اسی لیے کوشش کی جا رہی ہے کہ نرسنگ کالج کو پی ایچ ایس اے کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جائے تاکہ مقامی طلبہ کو کم مالی بوجھ کے ساتھ نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔

 

 انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ صحت کی جانب سے اس حوالے سے مکمل دستاویزات تیار کر لی گئی ہیں۔ ان کے بقول اگر یہ کالج فعال ہو جاتا ہے تو ہزاروں بچے، خصوصاً مقامی نوجوان، اس ادارے سے مستفید ہو سکتے ہیں اور علاقے میں نرسنگ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

 

 

باجوڑ اور دیگر ضم قبائلی اضلاع میں صحت کے شعبے کو پہلے ہی تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں نرسنگ اسٹاف کی محدود دستیابی کے باعث مریضوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر نرسنگ کی تعلیم کا ایک ادارہ صرف ایک تعلیمی عمارت نہیں بلکہ پورے علاقے کے صحت کے نظام کے لیے ایک اہم اثاثہ بن سکتا ہے۔

 

اگر یہ کالج برسوں پہلے فعال ہو جاتا تو ممکن تھا کہ باجوڑ سمیت دیگر ضم اضلاع کو مقامی طور پر تربیت یافتہ نرسیں میسر آتیں، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملتے اور صحت کے مراکز میں نرسنگ اسٹاف کی کمی کسی حد تک پوری ہوتی۔

 

باجوڑ میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والی طالبات کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں تعلیم کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ طالبہ ماہ نور کہتی ہیں کہ میرا خواب نرس بن کر اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کرنا ہے، لیکن باجوڑ میں نرسنگ کالج فعال نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

 

 

 ہر خاندان اپنے بچوں کو پشاور یا دیگر شہروں میں بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اگر یہ ادارہ فعال ہو جائے تو سینکڑوں طالبات اپنے ہی ضلع میں تعلیم حاصل کر سکیں گی۔

 

یہ مسئلہ صرف تعلیم تک محدود نہیں۔ ایک طالبہ کے دوسرے شہر میں قیام، رہائش، سفر اور دیگر اخراجات ایسے خاندانوں کے لیے اضافی بوجھ بن جاتے ہیں جو پہلے ہی محدود آمدن پر گزارا کر رہے ہیں۔

 

سماجی کارکن مسیح اللہ دانش کے مطابق نرسنگ کالج کا غیر فعال رہنا صرف ایک تعلیمی ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ سرکاری وسائل، نوجوانوں کے مستقبل اور صحت کے نظام سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ 

 

انہوں نے ٹی این این کو بتایا کہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود اگر ایک منصوبہ تقریباً دو دہائیوں تک عوام کے استعمال میں نہ آ سکے تو اس کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو محض وعدوں تک محدود رہنے کے بجائے فوری طور پر عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار، جبکہ عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

 

اس صورتحال کے بعد یہ سوال بھی اہم ہے کہ تقریباً 19 سال گزرنے کے باوجود نرسنگ کالج مکمل طور پر فعال کیوں نہ ہو سکا؟ اس منصوبے پر کتنے سرکاری فنڈز خرچ ہوئے اور مختلف ادوار میں اسے فعال کرنے کی کوششیں کہاں تک پہنچیں۔ ان سوالات کے جوابات اور ادارے کا مؤقف جاننے کے لیے ٹی این این نے نرسنگ کالج کے پرنسپل سے متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی، تاہم رپورٹ کی تیاری تک وہ اپنا مؤقف نہیں دے سکے۔

 

باجوڑ کا یہ نرسنگ کالج تقریباً دو دہائیوں سے ایک ایسے سوال کی صورت میں کھڑا ہے جس کا جواب آج بھی عملی شکل میں سامنے نہیں آیا۔ ایک طرف عمارت موجود ہے، دوسری طرف علاقے میں نرسنگ اسٹاف کی ضرورت موجود ہے، نوجوانوں میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہش موجود ہے اور حکومت کی جانب سے اسے فعال کرنے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اب اصل امتحان وعدے کو عملی شکل دینے کا ہے۔

 

پی ایچ ایس اے کی جانب سے حالیہ دورے کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید اس بار اس ادارے کے بند دروازے واقعی کھل جائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ صرف ایک نرسنگ کالج کے فعال ہونے کی خبر نہیں ہوگی بلکہ باجوڑ کے نوجوانوں، بالخصوص طالبات، کے لیے اپنے ہی علاقے میں تعلیم اور روزگار کے ایک نئے راستے کا آغاز ہوگا۔