پاکستان کرکٹ بورڈ نے اوپنر امام الحق کی مبینہ جعلی انجری کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کر لیا۔
میڈیا رپورٹس اور بعض سابق کرکٹرز کی جانب سے امام الحق کی انجری پر شکوک کا اظہار کیے جانے کے بعد پی سی بی نے معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امام الحق کی میڈیکل رپورٹ اور ٹیم مینجمنٹ کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
لارڈز ٹیسٹ کے دوران امام الحق نے پہلے روز پنڈلی میں تکلیف کی شکایت کی تھی اور پہلی اننگز کے بعد دوسری اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا میں شرمپ فارمنگ کا پائلٹ منصوبہ، 3 اضلاع شامل
انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز سے شکست اور تین میچوں کی سیریز میں ناکامی کے بعد پاکستان ٹیم مینجمنٹ نے لندن میں ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا، جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے وکٹ کیپر محمد رضوان اور اوپنر امام الحق کو فوری طور پر پاکستان واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محمد رضوان کی ناقص کارکردگی، خصوصاً مسلسل دو ٹیسٹ میچز میں غیر ذمہ دارانہ انداز میں آؤٹ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امام الحق کی فٹنس سے متعلق معاملات پر سوالات اٹھتے رہے ہیں، جس کے باعث موجودہ معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب 9 ستمبر سے برمنگھم میں شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے، جبکہ صائم ایوب اور عرفات منہاس کو اسکواڈ میں شامل کیے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کو 16 سال بعد لارڈز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انگلینڈ نے تین میچوں کی سیریز میں 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے۔
