ضلع خیبر میں منشیات کے عادی افراد کے علاج اور بحالی کے لیے ریہیبلیٹیشن سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں مستحق افراد کو علاج، رہنمائی اور بحالی کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں گی، جبکہ تمام اخراجات خیبر پختونخوا حکومت برداشت کرے گی۔

 

یہ فیصلہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے شروع کیے گئے ’’منشیات سے پاک خیبر پختونخوا‘‘ پروگرام کے تحت ضلع خیبر میں منعقدہ اہم پروگرام کے دوران کیا گیا۔ پروگرام وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے حجرے میں منعقد ہوا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں اساتذہ کے سکول اوقات میں دفاتر کے دوروں پر پابندی عائد

 

شرکاء نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی صرف ان کے علاج تک محدود نہیں بلکہ انہیں دوبارہ معاشرے کا مفید شہری بنانا بھی ضروری ہے۔ منشیات نے نوجوانوں، خاندانوں اور معاشرے کو شدید متاثر کیا ہے، اس لیے متاثرہ افراد کو سزا یا نفرت کے بجائے علاج، توجہ اور معاشرے کا حصہ بننے کا موقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

 

شرکاء کے مطابق ریہیبلیٹیشن سینٹر میں منشیات کے عادی افراد کو علاج کے ساتھ رہنمائی اور بحالی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ معمول کی زندگی کی طرف واپس آ سکیں۔

 

علاقہ مکینوں نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین ڈیڈک عبدالغنی آفریدی اور رکن قومی اسمبلی حاجی محمد اقبال آفریدی کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس پروگرام سے ضلع خیبر کے نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ بنانے اور متاثرہ افراد کو نئی زندگی شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

 

اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بھائی نوید آفریدی، رکن قومی اسمبلی حاجی محمد اقبال آفریدی، رکن صوبائی اسمبلی و چیئرمین ڈیڈک عبدالغنی آفریدی، کمشنر پشاور، ڈپٹی کمشنر خیبر، ڈی پی او خیبر، ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر سمیت ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔