خیبرپختونخوا حکومت نے بنوں اور لکی مروت میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر حساس مقامات پر فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی 9 پلاٹونز تعینات کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے رابطہ کرلیا۔
ذرائع کے مطابق صوبائی محکمہ ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز کی جانب سے وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کیے گئے مراسلے میں بنوں اور لکی مروت کے حساس مقامات کے تحفظ کیلئے ایف سی پلاٹونز کی تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے۔
مراسلے کے مطابق لکی مروت میں ڈسٹرکٹ جیل کیلئے 2 ایف سی پلاٹونز جبکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس اور ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کیلئے ایک، ایک پلاٹون مانگی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیرہ اسماعیل خان: کلاچی کے ڈی ایس پی کفایت اللہ مروت کی گاڑی پر حملہ
اسی طرح ضلع بنوں میں ڈسٹرکٹ جیل، ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس، ڈپٹی کمشنر آفس، ہنگو کورٹ بنوں بنچ اور کے ٹی این اینڈ گرڈ اسٹیشن کیلئے ایک، ایک ایف سی پلاٹون تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق 9 پلاٹونز کیلئے مجموعی طور پر 450 ایف سی اہلکار درکار ہوں گے، جنہیں متعلقہ مقامات کی سکیورٹی اور مقامی پولیس کے ساتھ مل کر امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے تعینات کیا جائے گا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بنوں میں پولیس امن کمیٹی کی جانب سے مسلسل احتجاج اور دونوں اضلاع میں موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث حساس تنصیبات کے تحفظ کیلئے اضافی سکیورٹی ضروری ہے۔
پولیس حکام کے مطابق بنوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث جوڈیشل افسران، انتظامی افسران اور دیگر حکام کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے پیش نظر حساس مقامات اور اہم تنصیبات پر اضافی سکیورٹی کی ضرورت ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف سی کی تعیناتی کے حوالے سے خیبرپختونخوا پولیس اور صوبائی محکمہ داخلہ کے درمیان بھی خط و کتابت ہوچکی ہے، جس میں ایف سی پلاٹونز کی خدمات متعلقہ ڈسٹرکٹ پولیس افسران کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پولیس حکام نے وفاقی حکومت کو مراسلہ ارسال کیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاق کی جانب سے تاحال ایف سی کی تعیناتی کی منظوری نہیں دی گئی۔
واضح رہے کہ بنوں اور لکی مروت میں پولیس پر مسلسل حملے رپورٹ ہورہے ہیں، جبکہ دہشت گردوں کی جانب سے ڈرون حملے بھی کیے جارہے ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر خیبرپختونخوا حکومت نے حساس مقامات کے تحفظ کیلئے وفاق سے ایف سی کی تعیناتی میں تعاون طلب کیا ہے۔
