خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین ارکان کو ایوان کے اندر امتیازی سلوک اور مختلف نوعیت کے نامناسب رویوں کا سامنا ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ خواتین ارکان کے مطابق انہیں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے کے حوالے سے طنزیہ القابات بھی دیے جاتے ہیں۔

 

 

گزشتہ دنوں مسلم لیگ ن کی رکن خیبر پختونخوا اسمبلی ثوبیہ شاہد کو اسمبلی اجلاس کے دوران بات کرنے کا موقع نہ دینے اور مرد ارکان کی جانب سے نامناسب رویے کا سامنا کرنے کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ اس واقعے پر ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے ثوبیہ شاہد پر 2 ہفتوں کی پابندی عائد کی، تاہم بعد میں اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے یہ پابندی واپس لے لی۔

 

 

خیبر پختونخوا اسمبلی میں سب سے زیادہ طنزیہ اور نامناسب رویے کی شکایات مسلم لیگ ن کی خاتون رکن اسمبلی ثوبیہ شاہد کے حوالے سے سامنے آتی رہی ہیں، جن کے مطابق بعض ارکان اسمبلی نے کارروائی کے دوران ان کے لیے انتہائی نامناسب جملے استعمال کیے۔

 

وزیر اطلاعات شفیع جان نے مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین ارکان کو کئی بار ”خیراتی بہنیں“ قرار دیا، جس کا ذکر انہوں نے اپنی تقاریر میں متعدد مرتبہ کیا۔ ان کے اس طرزِ بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی خواتین کو نشستیں خیرات میں ملی ہیں۔

 

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خواتین ارکان قانون سازی اور عوامی مسائل اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم بعض سابقہ اور موجودہ خواتین ارکان اسمبلی کے مطابق خواتین کو سب سے پہلے سیاسی جماعتوں کی سطح پر مختلف نوعیت کے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین ارکان کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے کے بعد بھی انہیں فیصلہ سازی، ترقیاتی فنڈز، قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی اور دیگر معاملات میں مرد ارکان کے برابر مواقع نہیں ملتے۔

 

خواتین ارکان کے مطابق امتیازی رویہ صرف ترقیاتی فنڈز تک محدود نہیں بلکہ ایوان کے اندر خواتین کی بات سننے اور انہیں اپنی رائے مکمل طور پر بیان کرنے کے مواقع بھی اہم ہیں۔

 

 

پیپلز پارٹی سے خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب رکن خیبر پختونخوا اسمبلی شازیہ طہماس بھی خواتین ارکان کو درپیش مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی اجلاسوں میں خواتین ارکان کی حاضری اہم کردار ادا کرتی ہے اور اگر خواتین ارکان بھی اجلاسوں میں شرکت نہ کریں تو کئی مواقع پر کورم پورا کرنا مشکل ہو جائے گا۔

 

شازیہ طہماس کے مطابق خواتین ارکان باقاعدگی سے اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کرتی ہیں، اس لیے انہیں قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی اور دیگر ذمہ داریوں میں بھی مناسب مواقع ملنے چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس بھی باقاعدگی سے نہیں ہو رہے، جس کی وجہ سے قانون سازی اور اسمبلی کی نگرانی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔

 

شازیہ طہماس کے مطابق خواتین ارکان کو صرف اسمبلی اجلاسوں میں شرکت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ حکومت یا اپوزیشن، دونوں جانب کی خواتین ارکان کو ترقیاتی وسائل کے ساتھ ساتھ اہم فیصلوں میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران خواتین ارکان نے اپنے حقوق اور مساوی مواقع کے لیے اسمبلی ہال میں احتجاج بھی کیا۔

 

سابق رکن خیبر پختونخوا اسمبلی بصیرت شینواری، جو قبائلی اضلاع سے خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی پہلی خاتون رکن اسمبلی ہیں، کہتی ہیں کہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا آغاز انتخابات سے ہی ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتیں بعض اوقات خواتین کو ایسے دور دراز حلقوں سے ٹکٹ دیتی ہیں جہاں ان کے جیتنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور اس طرح خواتین کی نمائندگی محض خانہ پُری تک محدود رہ جاتی ہے۔

 

 

بصیرت شینواری کے مطابق مخصوص نشست پر اسمبلی پہنچنے کے بعد بھی خواتین کو مختلف طعنوں اور نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں پر منتخب خواتین ارکان کو بعض مرد ارکان یہ طعنہ دیتے ہیں کہ انہیں ”مفت کی پلیٹ میں“ نشست ملی ہے اور وہ دوسروں کے ووٹوں کے ذریعے اسمبلی پہنچی ہیں۔

 

بصیرت شینواری کا کہنا ہے کہ انہوں نے 3 سال اسمبلی میں گزارے، لیکن حکومت کی جانب سے انہیں ایک روپیہ بھی ترقیاتی فنڈز نہیں دیا گیا۔ دوسری جانب حلقے کے عوام ان سے سڑکوں، گلیوں، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن وسائل نہ ہونے کے باعث وہ اپنے حلقے کے عوام کے مطالبات پورے نہیں کر پاتیں۔

 

خواتین ارکان کے مطابق مخصوص نشست پر منتخب ہونے کے باعث ان کا کوئی مخصوص جغرافیائی حلقہ نہیں ہوتا، تاہم اس کے باوجود ان کے پاس عوامی مطالبات پورے کرنے کے لیے وسائل موجود نہیں ہوتے۔ بصیرت شینواری کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی خواتین ارکان کو فنڈز دیے بھی جائیں تو کئی مرتبہ متعلقہ حلقوں میں مرد ارکان اسمبلی کا اثر و رسوخ زیادہ ہونے کے باعث خواتین ارکان اپنی ترجیحات کے مطابق ان فنڈز کو استعمال نہیں کر پاتیں۔

 

 

خواتین ارکان کے ساتھ امتیازی سلوک کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے وزیر بلدیات و اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی سے بھی مؤقف لیا گیا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی میں سب سے زیادہ خواتین ارکان بات کرتی ہیں اور انہیں اپنی رائے کے اظہار کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت خواتین ارکان کو اپنے اقدامات کے حوالے سے مشاورت میں بھی شامل کرتی ہے۔

 

خواتین ارکان کو ترقیاتی فنڈز نہ ملنے کے سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر کسی خاتون رکن کو الگ سے فنڈز نہیں دیے جاتے تو حکومت متعلقہ خواتین ارکان کے حلقوں میں بھی دیگر حلقوں کی طرح یکساں طور پر ترقیاتی کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت خواتین کے ساتھ برابری کے اصول پر یقین رکھتی ہے۔

 

خواتین میں صرف ایک خاتون، ثریا بی بی، جنرل نشست پر چترال سے براہِ راست انتخاب لڑ کر اسمبلی تک پہنچی ہیں، جبکہ دیگر خواتین مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے مخصوص نشستوں پر منتخب ہو کر ایوان کا حصہ بنی ہیں۔

 

خیبر پختونخوا اسمبلی میں مجموعی طور پر 145 ارکان ہیں، جن میں خواتین کی تعداد 27 ہے، جبکہ اقلیت کی 4 نشستیں ہیں۔

 

 

اے این پی سے تعلق رکھنے والی سابق رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں مرد اور خواتین ارکان برابر ہوتے ہیں اور کسی بھی رکن کو دوسرے سے کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ سینیٹ کی ووٹنگ میں خواتین کے ووٹ مرد ارکان اسمبلی کے ووٹوں کے برابر ہوتے ہیں، ایسے میں دیگر امور میں بھی یکساں مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

 

شگفتہ ملک کے مطابق خواتین سوالات پوچھتی ہیں، قانون سازی میں حصہ لیتی ہیں اور عوامی مسائل ایوان میں اجاگر کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں بعض اوقات رکاوٹوں اور خلل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو زیادہ مؤثر انداز میں شامل کرنا چاہیے۔

 

 شگفتہ ملک کے مطابق سیاسی جماعتیں خواتین کو جلسوں اور جلوسوں میں تو بھرپور شرکت کا موقع دیتی ہیں، لیکن فیصلہ سازی اور حکومت سازی کے مرحلے میں خواتین کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جس کی وہ حقدار ہیں۔

 

شگفتہ کا کہنا ہے کہ حالیہ اسمبلی اجلاس میں بھی ایک خاتون رکن کو بات کرنے سے روکنے اور ان کے ساتھ نامناسب الفاظ استعمال کرنے کا واقعہ سامنے آیا، جو خواتین کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ 

 

ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے پہلے ہی سیاست میں آنا آسان نہیں، خصوصاً خیبر پختونخوا جیسے صوبے میں جہاں خواتین کو سماجی اور سیاسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر اسمبلی پہنچنے کے بعد بھی انہیں سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو یہ انتہائی مایوس کن صورتحال ہے۔

 

شگفتہ ملک کے مطابق وہ 2009 اور 2018 میں خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن رہ چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں انہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں کردار ادا کیا اور ٹورازم اور یوتھ افیئرز کمیٹی کی چیئرپرسن کی حیثیت سے بھی کام کیا۔

 

 

پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے سینئر صحافی لحاظ علی، جو گزشتہ 2 دہائیوں سے پارلیمانی رپورٹنگ کر رہے ہیں، کے مطابق خواتین ارکان اسمبلی بعض اوقات صرف کورم پورا کرنے تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسمبلی کے اندر خواتین ارکان کو بعض مرد ارکان کی جانب سے یہ طعنے بھی دیے جاتے ہیں کہ ان کا کوئی حلقہ نہیں اور وہ براہِ راست عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ مرد ارکان کے ووٹوں کی وجہ سے اسمبلی میں آئی ہیں۔

 

لحاظ علی کے مطابق گزشتہ حکومت میں عوامی نیشنل پارٹی کی ٹکٹ پر جنرل نشست پر منتخب ہونے والی ثمر بلور کے ساتھ بھی مرد ارکان اسمبلی کا رویہ مختلف رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی نگہت اورکزئی نے بھی خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں کے خلاف اسمبلی میں احتجاج کیا تھا۔

 

لحاظ علی کے مطابق یہ صورتحال صرف اپوزیشن کی خواتین ارکان تک محدود نہیں بلکہ حکومتی خواتین ارکان کو بھی بعض معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق خواتین سیاستدانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات کے دوران جنرل نشستوں پر پارٹی ٹکٹ کے لیے بھرپور انداز میں کوشش کریں اور براہِ راست انتخابات میں حصہ لیں۔

 

ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ امتیازی رویوں اور سلوک کی شکایات عام ہیں، لیکن جو خواتین صوبے کے عوام کے لیے قانون سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، انہیں بھی اسمبلی کے اندر ایسے ہی رویوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔