وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے میں کالجز اور یونیورسٹیز کی طالبات سمیت ملازمت پیشہ خواتین کے لیے ای وی بائیکس اسکیم شروع کی جا رہی ہے، جس کے تحت بائیکس میرٹ پر فراہم کی جائیں گی۔

 

57ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین کے لیے ای وی بائیکس اسکیم کا پہلا فیز جلد شروع کیا جائے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ ای وی بائیکس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت ای وی رکشوں کی اسکیم بھی شروع کرے گی، جو ماحول کو صاف اور سرسبز رکھنے کے لیے اہم اقدام ہوگا۔وزیراعلیٰ نے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں الیکٹرک بسز کی اسکیم پر کام تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر: کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے 2 مزدور جاں بحق، 2 بے ہوش

 

محمد سہیل آفریدی نے اے ڈی پی میں شامل عوامی مفاد کی تمام اسکیموں پر کام تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریٹک رکاوٹوں اور سیاسی غفلت سے بالاتر ہو کر نئے اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ بہترین کام کر رہا ہے، تاہم ترقیاتی منصوبوں پر کام مزید تیز کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ رواں مالی سال خیبرپختونخوا کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا۔

 

عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کا اظہار

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عدالتوں کی جانب سے عمران خان کے حوالے سے جاری احکامات پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کرتی ہے۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کی بہن اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کا حکم دیا تھا، تاہم وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر فراڈ کیا اور عمران خان کو رات کے اندھیرے میں جعلی طریقے سے ہسپتال لایا گیا۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت کی نگرانی میں عمران خان کی صحت خراب ہوئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کو جب ناحق گرفتار کیا جا رہا تھا تو وہ مکمل صحت مند اور سپر فٹ تھے، جبکہ انہیں 8، 9 ماہ سے مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا رویہ کبھی نہیں دیکھا گیا اور عمران خان کی صحت کے مسائل بھی اسی رویے کا نتیجہ ہیں۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتی احکامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنا عدلیہ اور ججز کی توہین ہے، تمام پاکستانی عدالتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی نظریں عدالتوں کی طرف ہیں، عدالتوں نے انصاف کرنا ہے۔