پشاور پولیس نے گلبہار میں کارروائی کرتے ہوئے 3 نائجیرین شہریوں اور خیبر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بازیاب کرکے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

 

پولیس کے مطابق ملزمان نے مغویوں کو حبس بے جا میں رکھا اور ان کی رہائی کے بدلے 25 ہزار امریکی ڈالرز کا مطالبہ کیا تھا۔ گرفتار ملزمان بین الاقوامی سطح پر آئس اور دیگر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔

 

ایس ایچ او اصغر خان کے مطابق اطلاع ملنے پر گلبہار نمبر 24 میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے 3 نائجیرین شہریوں آسٹن ولد نوان کواب، اس کے 12 سالہ بیٹے مائیکل، 14 سالہ بیٹے جنتن اور خیبر کے رہائشی نصرت خان کو بازیاب کرایا گیا۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کے سرکاری و نجی اسپتالوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کا فیصلہ

 

پولیس نے کارروائی کے دوران آصف محمود سکنہ شاہین بازار، عمر فاروق سکنہ گلبہار نمبر 1 اور عثمان غنی کو گرفتار کیا۔

 

پولیس کے مطابق دوران تفتیش آسٹن نے بتایا کہ ملزمان تقریباً 2 ہفتے قبل اسے دونوں کم عمر بیٹوں سمیت کھانے کی دعوت کے بہانے لاہور سے پشاور لائے اور گھر میں محبوس کرکے 25 ہزار امریکی ڈالرز کا مطالبہ کرتے رہے۔

 

بازیاب ہونے والے نصرت خان نے پولیس کو بتایا کہ اس کے رشتہ دار کے ذریعے ملزم جنید کے ساتھ 600 گرام آئس کا سودا 32 لاکھ 50 ہزار روپے میں طے ہوا تھا۔ ملزم جنید نے قطر میں منشیات حوالے کرکے 20 لاکھ روپے وصول کیے، جبکہ 12 لاکھ 50 ہزار روپے بقایا تھے۔

 

پولیس کے مطابق ملزمان نے بقایا رقم کی وصولی کے لیے نصرت خان کو 13 اگست سے بطور ضمانت حبس بے جا میں رکھا اور اس پر تشدد بھی کیا۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے ایک کلاشنکوف، 2 پستول، 6 پیکٹوں میں موجود 1500 گرام مشکوک مواد اور پیکنگ مشین برآمد کی گئی ہے۔

 

ملزمان کے خلاف اغوا اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ گروہ کے دیگر ممکنہ ساتھیوں اور ملزمان کے سابقہ جرائم سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔