سوشل میڈیا نے معلومات اور خبروں تک رسائی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور تیز بنا دیا ہے۔ اب خبر کسی ایک طبقے یا چند مخصوص اداروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ ہر شخص چند لمحوں میں دنیا بھر کی معلومات تک پہنچ سکتا ہے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ تاہم اس آسانی کے ساتھ کچھ مشکلات بھی پیدا ہوئی ہیں، کیونکہ معلومات کی یہی تیز رفتاری غیر مصدقہ اور جعلی مواد کے پھیلاؤ کو بھی آسان بنا دیتی ہے۔
2 اگست 2026 کو سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب دھماکے کی خبر سامنے آئی تو علاقے میں پہلے ہی خوف کی فضا موجود تھی۔
ایسے حساس واقعات کے بعد لوگوں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ انہیں فوراً معلوم ہو کہ کیا ہوا، کہاں ہوا اور ان کے اپنے علاقے میں صورتحال کیا ہے۔ لیکن اسی لمحے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک غیر مصدقہ خبر کسی حقیقی واقعے سے کہیں زیادہ خوف پیدا کر سکتی ہے۔ کبل میں ہونے والا دھماکا ایک حقیقی واقعہ تھا، مگر اس کے بعد پھیلنے والی ہر اطلاع لازماً حقیقت نہیں تھی۔

ایک خبر صرف چند سیکنڈ میں موبائل کی اسکرین سے نکل کر کسی گھر کے ماحول، کسی شخص کے فیصلوں اور کبھی اس کے ذہنی سکون کا حصہ بن سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان سیاسی کشیدگی، سیکیورٹی کے واقعات، پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی، بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال اور بار بار آنے والی قدرتی آفات جیسے حساس حالات سے گزر رہا ہو، تو پھر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک غیر مصدقہ تصویر، ویڈیو یا دعویٰ محض ایک غلطی نہیں رہتا۔

آج کسی خبر کو عوام تک پہنچنے کے لیے ضروری نہیں کہ وہ کسی نیوز روم، رپورٹر یا میڈیا ادارے سے گزرے۔ ایک عام صارف کے موبائل فون سے بننے والی پوسٹ، واٹس ایپ پیغام، کئی سال پرانی تصویر یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ غلط معلومات پھیل رہی ہیں، بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ لوگ انہیں سچ سمجھ کر اپنے فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ اور آگے بھی پھیلاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں نمایاں کمی، نئی قیمت کیا ہے؟
پاکستان میں اس مسئلے کی شدت کا اندازہ مختلف مطالعات سے بھی ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق 78.4 فیصد لوگ اکثر جعلی خبریں دیکھتے ہیں، جبکہ صرف 12 فیصد افراد ہی انہیں قابلِ اعتماد طریقے سے شناخت کر پاتے ہیں۔

اسی طرح انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) کے ایک سروے میں صرف 22 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر دیکھی جانے والی خبروں کی تصدیق کرتے ہیں، جبکہ 65 فیصد نے بتایا کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔ یہ اعداد پورے پاکستان کے ہر صارف کی نمائندگی نہیں کرتے، لیکن یہ ضرور بتاتے ہیں کہ معلومات دیکھنے اور اس کی تصدیق کرنے کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے۔
سوات کے علاقے چارباغ سے تعلق رکھنے والی سویرا کے لیے ایک ایسی ہی جھوٹی خبر کئی دنوں تک خوف کی وجہ بنی۔
سوات کے کبل میں دھماکے کے بعد سوشل میڈیا کے مختلف اکاؤنٹس سے یہ خبر گردش کرنے لگی کہ چارباغ میں دہشت گردوں کا ایک گروپ پہنچ گیا ہے اور چارباغ بازار ان کا اگلا ہدف ہے۔

سویرا بتاتی ہیں کہ یہ خبر انہیں واٹس ایپ اسٹیٹس، مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور یہاں تک کہ اپنی بعض اساتذہ کے اکاؤنٹس پر بھی نظر آئی۔ چونکہ ان کا گھر بازار میں ہے، ان کے تین بھائیوں کی دکانیں بھی اسی بازار میں ہیں، جبکہ ان کے والد کی کپڑوں کی دکان بھی بازار میں واقع ہے، اس لیے اس خبر نے ان کے لیے خوف کو کئی گنا بڑھا دیا۔
وہ کہتی ہیں کہ کئی دن تک انہیں نیند نہیں آتی تھی۔ گھر میں، خصوصاً خواتین، اس خوف میں مبتلا تھیں کہ کہیں بازار میں کوئی دھماکا نہ ہو جائے۔ ان کی یونیورسٹی بھی چارباغ میں ہے اور تحقیق کے سلسلے میں ان کے لیے یونیورسٹی جانا ضروری تھا، مگر سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اطلاعات نے روزمرہ کا یہ سفر بھی خوف میں بدل دیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ بعض لوگوں نے ایسی تصاویر بھی شیئر کیں جن کے ساتھ یہ کہا گیا تھا کہ اگر یہ دہشت گرد قریب آئیں تو لوگوں کو اطلاع دی جائے۔ ان تصاویر اور دعووں نے سویرا کے خوف میں مزید اضافہ کر دیا۔
پھر انہوں نے ایک صحافی خاتون سے اس بارے میں پوچھا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نے اس پوری کہانی کا رخ بدل دیا۔ صحافی نے بتایا کہ چارباغ میں دہشت گردوں کے کسی گروپ کے پہنچنے کی خبر درست نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر بھی موجودہ واقعے کی نہیں بلکہ تقریباً آٹھ سے نو سال پرانی جنگی تصاویر تھیں، جنہیں ایک نئے واقعے کے ساتھ جوڑ کر دوبارہ پھیلایا جا رہا تھا۔
سویرا کے لیے یہ صرف ایک جعلی پوسٹ نہیں تھی۔ چند غلط تصاویر اور غیر مصدقہ دعووں نے ان کے گھر کے ماحول، یونیورسٹی جانے کے فیصلے اور ذہنی سکون کو کئی دنوں تک متاثر کیے رکھا۔

جعلی معلومات کا ایک دوسرا خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف خوف پیدا نہیں کرتیں بلکہ لوگوں کی محنت کی کمائی بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر روزگار کی تلاش میں موجود افراد سوشل میڈیا پر موجود جعلی اشتہارات کا آسان ہدف بن سکتے ہیں۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ثناء اللہ نے 2021ء میں بی ایس زولوجی مکمل کیا، لیکن وہ ملازمت سے محروم ہیں۔ روزگار کی تلاش کے دوران انہیں بیرونِ ملک جانے کے حوالے سے ایک اشتہار نظر آیا۔ انہوں نے اشتہار میں موجود رابطے پر بات کی تو انہیں بتایا گیا کہ پانچ لاکھ روپے ادا کرنے کے بعد بیرونِ ملک جانے کا پورا عمل مکمل کر دیا جائے گا۔

ثناء اللہ کے مطابق انہوں نے رقم ادا کی۔ متعلقہ افراد سے ملاقات بھی کی، پاسپورٹ بنوایا اور ان کی بتائی ہوئی تمام کارروائی مکمل کی، لیکن رقم وصول کرنے کے بعد وہ لوگ دوبارہ سامنے نہیں آئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جس اشتہار پر اعتماد کرتے ہوئے انہوں نے پانچ لاکھ روپے ادا کیے تھے، وہ جعلی تھا۔
ایک جعلی اشتہار نے ان سے صرف پیسے نہیں لیے بلکہ اس امید کو بھی نقصان پہنچایا جو وہ ایک بہتر مستقبل کے لیے لے کر چل رہے تھے۔
جعلی مواد ہمیشہ خوف یا مالی نقصان کی صورت میں سامنے نہیں آتا۔ بعض اوقات ایک جعلی تصویر کسی شخص کے جذبات کو اس قدر متاثر کرتی ہے کہ حقیقت سامنے آنے کے بعد بھی اس کا اثر برقرار رہتا ہے۔
سوات سے تعلق رکھنے والی46 سالہ خاتون عائشہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے عمران خان کی ایسی تصاویر دیکھیں جن میں انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی دکھائی گئی تھیں۔ عائشہ کے مطابق وہ عمران خان کو ایک کرکٹر کے طور پر پسند کرتی ہیں، خصوصاً ورلڈ کپ جیتنے کی وجہ سے ان کے لیے یہ شخصیت جذباتی اہمیت رکھتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ تصویر دیکھ کر انہیں بہت دکھ ہوا، ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہیں عجیب احساسات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تصویر جعلی تھی۔
یہ تینوں واقعات مختلف نوعیت کے ہیں، لیکن ان میں ایک چیز مشترک ہے: ایک غیر مصدقہ مواد پہلے انسان کے جذبات کو متاثر کرتا ہے اور پھر اس کا اثر اس کی حقیقی زندگی تک پہنچ جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں غلط معلومات کی نوعیت بھی بدل رہی ہے۔ کبھی پرانی تصویر کو نئے واقعے سے جوڑ دیا جاتا ہے، کبھی مصنوعی ذہانت سے تصویر یا ویڈیو تیار کی جاتی ہے، کبھی جعلی آڈیو کے ذریعے کسی شخصیت سے منسوب بیان پھیلایا جاتا ہے اور کبھی کسی قدرتی آفت، سیکیورٹی واقعے یا سیاسی صورتحال کے نام پر لوگوں میں خوف پیدا کیا جاتا ہے۔

ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے ماہرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن عدنان مہمند کے مطابق پاکستان میں غلط معلومات کی ایک بڑی قسم سیاق و سباق سے ہٹائی گئی تصاویر اور ویڈیوز ہیں۔ ماضی کے کسی حادثے، مظاہرے یا قدرتی آفت کی تصویر یا ویڈیو کو دوسرے واقعے سے منسوب کرکے پھیلایا جاتا ہے۔
ان کے مطابق سیاسی اور جعلی میڈیا، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ یا تبدیل شدہ تصاویر اور ویڈیوز، جعلی آڈیوز، مالی فراڈ، موسم اور قدرتی آفات سے متعلق غیر مصدقہ پیش گوئیاں، صحت سے متعلق غلط معلومات اور مذہبی و فرقہ وارانہ اشتعال انگیز مواد بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتا ہے۔
عدنان مہمند بتاتے ہیں کہ سیاسی رہنماؤں کے حوالے سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی آڈیو، ویڈیو اور تصاویر تیار کی جاتی ہیں، جبکہ بعض حقیقی مواد کو کاٹ چھانٹ یا ایڈیٹ کرکے اس کا مفہوم تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جعلی آڈیوز، مختلف مالی فراڈ، غیر ملکی سہولتوں یا بیرونِ ملک جانے کے نام پر جعلی اشتہارات بھی لوگوں کو مالی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق موسم اور قدرتی آفات سے متعلق جعلی پیش گوئیاں بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔ زلزلے، سیلاب، طوفان یا دیگر قدرتی آفات کے حوالے سے غیر مصدقہ اطلاعات لوگوں میں خوف پیدا کرتی ہیں۔ اسی طرح صحت سے متعلق غیر مصدقہ گھریلو علاج، ویکسین کے بارے میں غلط نظریات اور مختلف بیماریوں کے لیے جعلی ادویات کی تشہیر بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔

عدنان مہمند کے مطابق مذہبی اور فرقہ وارانہ نوعیت کا مواد بھی بعض اوقات غلط یا سیاق و سباق سے ہٹا ہوا ہوتا ہے، جسے مخالف فرقے کے خلاف اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
کسی وائرل مواد کو درست سمجھنے سے پہلے عدنان مہمند کے مطابق سب سے اہم چیز اس کے ماخذ کی تصدیق ہے۔ یہ دیکھا جائے کہ مواد سب سے پہلے کس نے شائع کیا، اکاؤنٹ معتبر ہے یا نہیں اور کیا کوئی باضابطہ ادارہ اس معلومات کی تصدیق کر رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد تصویر یا ویڈیو میں موجود بصری اور ماحولیاتی شواہد کو دیکھا جائے۔ موسم، جغرافیہ، سائن بورڈ، گاڑیوں کی نمبر پلیٹس، زبان، عمارتیں اور دیگر نشانیاں اس بات کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہیں کہ مواد واقعی اسی جگہ اور وقت کا ہے یا نہیں۔

ان کے مطابق کسی دعوے کو دوسرے معتبر ذرائع سے ملانا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی بڑا واقعہ پیش آیا ہے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ معتبر نیوز ادارے اسے رپورٹ کر رہے ہیں یا نہیں۔
پرانی ویڈیو کو نئے واقعے سے جوڑ کر پیش کرنا بھی غلط معلومات پھیلانے کا ایک عام طریقہ ہے۔ عدنان مہمند کے مطابق ایسی صورت میں ویڈیو کے اہم فریم کا اسکرین شاٹ لے کر ریورس امیج سرچ کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ وہ تصویر یا فریم پہلے کہاں استعمال ہوا تھا۔

ویڈیو کے اندر موجود کپڑے، گاڑیاں، موبائل فونز، سائن بورڈز، عمارتیں، موسم اور دیگر تفصیلات بھی اہم سراغ بن سکتی ہیں۔ کبھی ایک معمولی بصری نشانی یہ ثابت کر دیتی ہے کہ جس واقعے کو آج کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، وہ دراصل کئی سال پرانا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ تصویری تصدیق کے لیے گوگل لینز، ٹائن آئی اور یانڈیکس امیجز جیسے ریورس امیج سرچ ٹولز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ویڈیو کی جانچ کے لیے اِن ویڈ وی ویریفائی، یوٹیوب ڈیٹا ویور اور ویڈیو کے اہم فریمز کے اسکرین شاٹس مددگار ہو سکتے ہیں، جبکہ تحریری خبر کے لیے گوگل سرچ اور معتبر فیکٹ چیک پلیٹ فارمز سے مدد لی جا سکتی ہے۔

عدنان مہمند کے مطابق کسی بھی مشکوک دعوے کو صرف اس لیے درست نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسے بہت سے لوگ شیئر کر رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس دعوے کے پیچھے قابلِ اعتماد ذریعہ، بصری ثبوت اور دیگر معتبر ذرائع سے تصدیق موجود ہے یا نہیں۔
جعلی معلومات کی رفتار صرف ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بڑھی۔ اس کے پیچھے ہمارے معلومات حاصل کرنے اور آگے پہنچانے کے رویوں میں آنے والی تبدیلی بھی اہم ہے۔
پشاور میں ماحولیات اور گورننس کے امور پر رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافی منظور علی کہتے ہیں کہ ماضی میں معلومات ایک باقاعدہ صحافتی عمل سے گزر کر عوام تک پہنچتی تھیں۔ رپورٹر خبر کے ذرائع تلاش کرتا، متعلقہ اداروں سے تصدیق کرتا اور پھر میڈیا ادارہ اسے نشر یا شائع کرتا تھا۔

ان کے مطابق اب ہر شخص کے ہاتھ میں معلومات پھیلانے کا ذریعہ موجود ہے۔ ہر شخص کے پاس موبائل فون ہے، ہر شخص کسی نہ کسی واقعے کو ریکارڈ کر سکتا ہے اور ہر شخص اسے خبر سمجھ کر دوسروں تک پہنچاتا ہے، لیکن ہر شخص نے صحافت کے بنیادی اصول، خبر کے معیار، تصدیق اور دونوں فریقوں کا مؤقف لینے کا عمل نہیں سیکھا۔
منظور علی کہتے ہیں کہ عام صارف اکثر صرف ایک پہلو دیکھ کر اسے آگے بڑھا دیتا ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ ایک صحافی کے پاس کسی خبر کو جانچنے کے لیے ذرائع، متعلقہ اداروں اور مختلف فریقوں تک رسائی موجود ہوتی ہے۔ یہی فرق ایک عام پوسٹ اور صحافتی خبر کے درمیان بنیادی فرق پیدا کرتا ہے۔
ان کے مطابق سیاسی اور سیکیورٹی سے متعلق جعلی معلومات خاص طور پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگی کشیدگی، پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کے دوران زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔

قدرتی آفات بھی جعلی معلومات کے لیے ایک حساس میدان بن جاتی ہیں۔ زلزلہ، سیلاب یا دھماکے کے بعد لوگ فوری معلومات چاہتے ہیں اور اسی لمحے پرانی تصاویر، مصنوعی ذہانت سے بنے مناظر یا غیر مصدقہ دعوے نئے واقعے کے ساتھ جوڑ کر پھیلائے جاتے ہیں۔
منظور علی ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیچھلے سال پشاور میں ایک بچے کو پولیو کے قطرے پلائے گئے، جس کے بعد اسے الٹی ہوئی۔ بچے کے خاندان کے ایک جاننے والے نے اس کیفیت کو پولیو کے قطروں سے جوڑ دیا اور بات آگے پھیل گئی۔

اس افواہ کے بعد خوف اس قدر پھیلا کہ بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کو لے کر پشاور کے مختلف اسپتالوں میں پہنچ گئے۔ منظور علی کے مطابق تقریباً چالیس ہزار بچے پشاور کے مختلف اسپتالوں تک پہنچے۔ بعد کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ بچے کو معمول کی الٹی ہوئی تھی اور اس واقعے کو پولیو کے قطروں سے جوڑنے کی بات درست نہیں تھی۔
یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ ایک غیر مصدقہ دعویٰ صرف سوشل میڈیا کی اسکرین تک محدود نہیں رہتا۔ وہ لوگوں کے فیصلے بدل سکتا ہے، اسپتالوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے، سرکاری وسائل استعمال کروا سکتا ہے اور معاشرے میں غیر ضروری خوف پیدا کر سکتا ہے۔
منظور علی کے مطابق بعض اوقات کسی شخص کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد بھی سوشل میڈیا پر اسے براہِ راست مجرم بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے، حالانکہ ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) الزام کا آغاز ہے، جرم ثابت ہونے کا فیصلہ نہیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ پیچھلے دنوں ایک صحافی نے سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی موت کی جھوٹی خبر دی اور یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس خبر کی تصدیق مختلف ذرائع سے کی۔

منظور علی کہتے ہیں کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ خبر جتنی بڑی ہو، اس کی تصدیق کا عمل اتنا ہی زیادہ محتاط اور وقت طلب ہونا چاہیے۔ بڑی خبر کو چند منٹ پہلے نشر کرنے کی خواہش، اگر تصدیق کے عمل کو متاثر کرے، تو پوری خبر کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ان کے مطابق کسی بڑی شخصیت کی موت جیسی خبر کو بھی صرف ایک ذریعے کی بنیاد پر نشر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی خبر کے لیے متعلقہ اداروں، سرکاری ذرائع اور دیگر معتبر ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔ خبر سب سے پہلے دینے کی دوڑ میں تصدیق کے بنیادی اصول قربان نہیں ہونے چاہئیں۔
وہ کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے پاس اگر صحافیوں جیسے ذرائع اور نیٹ ورک موجود نہیں تو بھی وہ چند بنیادی اقدامات کے ذریعے جعلی مواد کے پھیلاؤ کو روکنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کسی مشکوک تصویر کو ریورس امیج سرچ سے چیک کیا جا سکتا ہے، جبکہ کسی تحریری خبر کو مختلف معتبر میڈیا اداروں کی ویب سائٹس پر تلاش کیا جا سکتا ہے۔

سرکاری نوٹیفکیشن اور ملازمتوں کے اشتہارات کی صورت میں متعلقہ سرکاری ادارے کی آفیشل ویب سائٹ، سرکاری پورٹل یا متعلقہ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے تصدیق ضروری ہے۔ صرف واٹس ایپ گروپ، فیس بک پوسٹ یا کسی غیر معروف پیج پر موجود اشتہار کو سرکاری اعلان سمجھ لینا خطرناک ہوتا ہے۔
پاکستان میں غلط معلومات سے نمٹنے کے لیے فیکٹ چیک پلیٹ فارمز بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی مشکوک دعوے کو مختلف معتبر ذرائع سے ملانے کے ساتھ ساتھ پاکستان سے متعلق فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارمز پر بھی تلاش کیا جا سکتا ہے۔
جعلی معلومات کے اس دور میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ خبر کتنی تیزی سے آپ تک پہنچی، بلکہ یہ ہے کہ وہ خبر آپ تک پہنچنے سے پہلے کتنی بار جانچی گئی تھی۔

ایک جھوٹی خبر سویرا کے لیے کئی راتوں کی بے خوابی بن سکتی ہے، ایک جعلی اشتہار ثناء اللہ سے پانچ لاکھ روپے چھین سکتا ہے، ایک جعلی تصویر عائشہ جیسے کسی صارف کے جذبات کو مجروح کر سکتی ہے اور ایک غیر مصدقہ دعویٰ ہزاروں والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ اسپتال پہنچا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر صرف ایک اطلاع نہیں ہوتی، وہ کسی کے خوف، کسی کے فیصلے، کسی کی محنت کی کمائی اور کبھی پورے معاشرے کے رویے کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے معلومات کے اس تیز رفتار دور میں سب سے ذمہ دار رویہ یہی ہے کہ کسی بھی دعوے کو آگے بڑھانے سے پہلے ایک لمحہ رک کر اس کے ماخذ اور حقیقت کو جانچا جائے۔
کیونکہ جھوٹی خبر پھیلانے میں صرف ایک کلک لگتا ہے، لیکن اس کے اثرات ختم ہونے میں کہیں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں پہلے خبر کی تصدیق کریں، پھر شیئر کریں۔
