ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر مذاکرات اور ادارہ جاتی رابطے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے قابلِ تصدیق انسدادِ دہشتگردی اقدامات ضروری ہیں۔

 

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے افغان دفتر خارجہ کی جانب سے پاکستان پر افغانستان میں مداخلت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کے سینکڑوں سرکاری سکول غیر فعال کیوں؟ رپورٹ میں اہم انکشاف

 

ترجمان نے کہا کہ افغان عبوری حکومت دوحہ فریم ورک سمیت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے اور ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت پاکستان مخالف عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان مؤثر سرحدی انتظام اور دہشتگردی کے خلاف ایسے اقدامات چاہتا ہے جن کی تصدیق کی جا سکے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ کسی بھی مذاکراتی عمل میں عملی اور قابلِ تصدیق پیشرفت کو اہمیت دیتا ہے۔