خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 7 خوارج ہلاک ہوگئے، جبکہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں مزید 4 دہشتگرد مارے گئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں اور جنوبی وزیرستان میں خفیہ اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ بنوں میں کارروائی کے دوران 2 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جن کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا گیا، جبکہ بارودی مواد کی مدد سے دہشتگردوں کا ٹھکانہ بھی تباہ کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: بیوی کے قتل میں شوہر سمیت سسرالی گھر کے 4 افراد گرفتار
ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی کے دوران 5 خارجی دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگا کر کارروائی کی۔
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے ساسول میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی کے دوران 4 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے ڈرون کی مدد سے دہشتگردوں کو نشانہ بنایا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک عزمِ استحکام کے تحت کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
پانچ روز قبل بھی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کی کارروائیوں کے دوران 49 دہشتگرد ہلاک کیے گئے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی اور ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا۔ کارروائیوں کے دوران دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈی ڈیٹونیٹنگ ریموٹس، اسلحہ، گولہ بارود اور موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی تھیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز بھی جاری ہیں تاکہ دیگر دہشتگردوں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیوں کے ذریعے دہشتگردوں کی کوششیں ناکام بنائیں۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ کھڑی ہے
