وحید اللہ 

 

پاکستان میں مقیم افغان شہریوں کی واپسی اور ممکنہ بے دخلی کے باعث ہزاروں افغان خاندانوں کو مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

 

 ان میں ایسے طلبہ بھی شامل ہیں جن کے لیے پاکستان سے واپسی کا مطلب صرف ایک ملک چھوڑنا نہیں بلکہ برسوں کی محنت اور تعلیم ادھوری چھوڑنا بھی ہے۔

 

 

پشاور میں زیرِ تعلیم افغان طالب علم زوہیب بھی انہی نوجوانوں میں شامل ہے جو اپنے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے پریشان ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی پشاور میں ہیلتھ ٹیکنالوجی کے شعبے میں پانچویں سمسٹر کا طالب علم زوہیب کہتا ہے کہ یونیورسٹی کی تعلیم اس کے لیے محض ایک ڈگری نہیں بلکہ بہتر مستقبل کی امید ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر: تیراہ میں عوامی سہولت کے لیے پیندی چینہ میں ضلعی انتظامیہ کا دفتر قائم کرنے کے احکامات

 

زوہیب نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے برسوں محنت کی اور اب وہ اپنی ڈگری کی تکمیل کے اہم مرحلے میں پہنچ چکا ہے، تاہم پاکستان میں افغان شہریوں کی واپسی کے عمل نے اس کے لیے مستقبل کے حوالے سے خدشات  پیدا کردیے ہیں۔

 

 

زوہیب کے مطابق واپسی کے عمل کے باعث وہ اور اس کا خاندان مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں آزادانہ نقل و حرکت بھی مشکل محسوس ہوتی ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے حراساں کیے جانے اور پاکستان سے نکالے جانے کا خوف بھی ہر وقت موجود رہتا ہے۔

 

تاہم زوہیب کے لیے سب سے بڑا خدشہ اس کی تعلیم ادھوری رہ جانے کا ہے۔ پانچویں سمسٹر تک پہنچنے کے بعد وہ نہیں چاہتا کہ برسوں کی محنت کسی ایسے فیصلے کے نتیجے میں ضائع ہوجائے جس پر اس کا اختیار نہیں۔

 

وہ بتاتا ہے کہ اس کا منتخب کردہ شعبہ ہیلتھ ٹیکنالوجی افغانستان میں موجود نہیں، اس لیے اگر اسے پاکستان چھوڑ کر افغانستان واپس جانا پڑا تو اپنی موجودہ تعلیم جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔

 

 

زوہیب کے مطابق تعلیم ادھوری رہنے سے اس کے کیریئر اور مستقبل کے منصوبے بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ایک جانب وہ اپنی ڈگری مکمل کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسے یہ خدشہ لاحق ہے کہ پاکستان میں رہنے کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں اسے اچانک تعلیم چھوڑ کر افغانستان واپس جانا پڑ سکتا ہے۔

 

زوہیب کے گھر والے بھی اس کی تعلیم اور ممکنہ واپسی کے حوالے سے مسلسل پریشان ہیں۔ خاندان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ زوہیب اپنی تعلیم مکمل کر پائے گا یا اسے کسی بھی وقت پاکستان چھوڑ کر افغانستان واپس جانا پڑ سکتا ہے۔

 

زوہیب کے ذہن میں بار بار یہ سوال آتا ہے کہ اگر اسے پانچویں سمسٹر کے بعد پاکستان چھوڑنا پڑا تو وہ اپنی تعلیم کہاں اور کیسے مکمل کرے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ افغان طلبہ کو کم از کم اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

 

 

اس کے لیے تعلیم جاری رکھنے کا موقع صرف ڈگری حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ برسوں کی محنت، مستقبل کے خواب اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی امید سے جڑا ہے۔ زوہیب چاہتا ہے کہ حالات معمول پر آئیں اور اسے اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے خواب ادھورے چھوڑنے پر مجبور نہ ہو۔

 

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے عمل کے دوران زوہیب جیسے طلبہ کی مشکلات اس معاملے کا ایک اہم انسانی اور تعلیمی پہلو سامنے لاتی ہیں۔ ایک طرف ریاست کی جانب سے غیر قانونی قیام کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تو دوسری طرف پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کئی برس سے زیرِ تعلیم افغان طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے فکرمند ہیں۔