بچپن کا نام آتے ہی ذہن میں کتنی ہی خوبصورت تصویریں بننے لگتی ہیں۔ گڑیا سے کھیلنا، گھر گھر کھیلنا، گڑیا کے لیے چھوٹے چھوٹے کپڑے بنانا، کبھی گڑیا کو تیار کرنا اور کبھی اس کے لیے اپنی ایک خیالی دنیا بسا لینا، یہ سب بچپن کی یادوں کا حصہ ہیں۔ بچوں کے لیے کھیل صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ کھیل ہی کھیل میں بہت کچھ سیکھتے اور سمجھتے ہیں۔
لیکن آج جب میں بچوں کے کھلونوں کی دنیا دیکھتی ہوں تو ذہن میں ایک سوال ضرور آتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں آخر کیا دے رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیے: اسٹیٹ بینک کا 10 روپے کا نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ
کچھ عرصہ پہلے میں خود بازار گئی۔ وہاں بچوں کے کھلونوں کی ایک دکان پر میری نظر کچھ باربی ڈولز پر پڑی۔ پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا۔ سوشل میڈیا پر ایسی گڑیوں کی تصاویر پہلے بھی دیکھی تھیں، لیکن میں نے سوچا تھا کہ شاید یہ صرف سوشل میڈیا تک محدود کوئی غیر معمولی چیز ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایسی گڑیاں عام دکانوں پر بھی دستیاب ہوں گی۔

جب میں نے اپنی آنکھوں سے وہ باربی ڈولز دیکھیں تو مجھے حیرت ہوئی۔یہ صرف ایسی گڑیاں نہیں تھیں جنہیں حاملہ دکھایا گیا ہو بلکہ ان میں حمل اور بچے کی پیدائش کے عمل کو بھی ایک مخصوص انداز میں دکھایا گیا تھا۔ گڑیا کے پیٹ کو کھولا جا سکتا تھا اور اس کے اندر موجود چیز کو نکالا جا سکتا تھا۔ یوں حمل اور پیدائش کے ایک عمل کو کھلونے کی صورت میں پیش کیا گیا تھا۔
میں کچھ دیر وہاں کھڑی یہ سب دیکھتی رہی اور سوچتی رہی کہ کیا اس طرح کے کھلونے واقعی بچوں کے لیے موزوں ہیں؟
اس موقع پر میرے ذہن میں کئی سوال آئے۔ ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا بچوں کے کھلونوں میں ہر طرح کے تصورات شامل کرنا ضروری ہے؟ یا ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی کھلونا بچے کی عمر اور ذہنی نشوونما کے لحاظ سے کتنا مناسب ہے؟

یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ کسی دکاندار کے بارے میں محض ایک ذاتی تاثر کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کرنا درست نہیں۔ ممکن ہے وہ اسے صرف ایک عام کھلونے کے طور پر فروخت کر رہا ہو۔ اصل سوال دکاندار سے زیادہ اس رجحان کا ہے کہ بچوں کے لیے بنائے جانے والے کھلونوں میں کن موضوعات کو شامل کیا جا رہا ہے۔
باربی ڈول برسوں سے بچیوں کے کھیل کا حصہ رہی ہیں۔ بچیاں انہیں تیار کرتی ہیں، ان کے کپڑے تبدیل کرتی ہیں، ان کے بال بناتی ہیں، ان کے لیے گھر بناتی ہیں اور اپنی خیالی دنیا میں انہیں مختلف کردار دیتی ہیں۔ یہ سب بچوں کے تخیل اور کھیل کا فطری حصہ ہے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کھلونوں میں ایسے موضوعات شامل ہونے لگیں جو بچے کی عمر اور سمجھ سے کہیں آگے ہوں۔ ایک چھوٹی بچی کے لیے گڑیا محض ایک کھلونا ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود والدین کے لیے یہ سوچنا ضروری ہے کہ بچے کو کھیل کے ذریعے کس طرح کا تصور دیا جا رہا ہے۔
میرے خیال میں ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔ بچے کو دنیا کی ہر حقیقت ایک ہی عمر میں سمجھانا ضروری نہیں۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جنہیں والدین وقت کے ساتھ، بچے کی عمر اور سمجھ کے مطابق بیان کرتے ہیں۔ اسی طرح کھلونوں کے انتخاب میں بھی عمر اور ذہنی نشوونما کو مدنظر رکھنا مناسب ہے۔
یہ معاملہ صرف باربی ڈولز تک محدود نہیں۔ بچوں میں کھلونا پسٹل، بندوقیں اور جنگی کھلونوں کا شوق بھی عام ہے۔ کئی بچے کھیل ہی کھیل میں ایک دوسرے پر کھلونا بندوق تان کر کہتے ہیں، "میں نے تمہیں مار دیا۔" دوسرا بچہ زمین پر گر جاتا ہے اور کچھ دیر بعد دونوں دوبارہ ہنس کر کھیلنے لگتے ہیں۔

یقیناً ہر بچہ جو کھلونا بندوق سے کھیلتا ہے، لازماً تشدد پسند نہیں بن جاتا۔ بچوں کے کھیل اور حقیقی زندگی میں فرق ہوتا ہے۔ تاہم والدین کو یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ بچے کے کھیل میں کس طرح کے موضوعات بار بار آ رہے ہیں۔
کھیل بچے کی نشوونما کا اہم حصہ ہے۔ بچہ کھیل کے دوران کردار ادا کرتا ہے، کہانیاں بناتا ہے، نئی چیزیں سیکھتا ہے اور اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی لیے کھلونوں کا انتخاب بھی اہم ہے۔
ہم اکثر بچے کی خوشی کے لیے فوراً کھلونا خرید دیتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ وہ کھلونا بچے کو کیا سکھا رہا ہے اور اس کے کھیل میں کیا کردار ادا کر رہا ہے۔

اگر ہمارے پاس انتخاب موجود ہو تو ایسے کھلونے کیوں نہ خریدیں جو بچے کی تخلیقی صلاحیت بڑھائیں؟ بلاکس، پزلز، رنگ، کتابیں اور مختلف مثبت کرداروں پر مبنی کھلونے بچے کو کھیل کے ساتھ سیکھنے کا موقع بھی دیتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کو ہر حقیقت سے دور رکھا جائے۔ بہت سی باتیں بچے وقت کے ساتھ خود سمجھتے ہیں۔ والدین کا کردار انہیں ہر چیز سے خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ عمر اور سمجھ کے مطابق رہنمائی کرنا ہے۔
اگر بچہ کسی ایسے کھلونے میں دلچسپی لے جو والدین کو اس کی عمر کے لیے مناسب نہ لگے تو فوراً ڈانٹنے کے بجائے اس کے ساتھ بات کرنا بہتر ہے۔ بچے کو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ "یہ مت کرو"، بلکہ اسے بہتر متبادل بھی دینا چاہیے۔
ہم مارکیٹ میں موجود ہر چیز کو ختم نہیں کر سکتے، لیکن اپنے گھر میں آنے والی چیزوں کا انتخاب ضرور کر سکتے ہیں۔ والدین یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ بچے کے لیے کون سا کھلونا مناسب ہے اور کون سا نہیں۔

اگلی بار جب ہم بچے کے لیے کوئی کھلونا خریدیں تو صرف اس کی خوبصورتی یا بچے کی پسند نہ دیکھیں بلکہ یہ بھی سوچیں کہ اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے بچے کو کس طرح کے تصورات مل سکتے ہیں۔ کیونکہ بچپن سیکھنے اور تخیل کی عمر ہے۔
یہ وہ عمر ہے جب بچہ مٹی سے گھر بناتا ہے، ایک گڑیا کو اپنا دوست سمجھتا ہے اور معمولی سی چیز میں بھی خوشی تلاش کر لیتا ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اس خوبصورت بچپن میں کھیل، تخیل اور سیکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ جگہ ہو۔
میرا مقصد کسی خاص دکاندار یا کسی ایک کھلونے کو نشانہ بنانا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس طرح کا بچپن دے رہے ہیں اور ان کے کھیل کے ذریعے ان کے سامنے کس طرح کی دنیا پیش کر رہے ہیں؟

شاید ہمیں کھلونوں کو صرف "کھلونا" کہہ کر نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے انتخاب پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ہر کھلونا لازماً بچے کی شخصیت پر گہرا اثر نہیں ڈالتا، لیکن والدین کا محتاط انتخاب بچے کے لیے بہتر ماحول ضرور بنا سکتا ہے۔
آخر میں بات صرف اتنی ہے کہ بچے کے ہاتھ میں کھلونا ضرور ہونا چاہیے، لیکن ایسا کھلونا جو اس کے تخیل کو وسعت دے، اسے سیکھنے کا موقع دے اور اس کے بچپن کو خوبصورت بنائے۔ کیونکہ بچپن زندگی کا وہ دور ہے جو دوبارہ واپس نہیں آتا۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
