وزارتِ ریلوے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ خیبرپختونخوا کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہوگئے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

 

معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا میں مختلف ریلوے منصوبوں کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا، جبکہ وفاقی ریلوے موجودہ انفراسٹرکچر کے استعمال میں سہولت اور تکنیکی تعاون فراہم کرے گا۔

 

یہ بھی پڑھیے: صوابی: سماعت و گویائی سے محروم 15 سالہ لڑکی سے 70 سالہ شخص کا نکاح ناکام، ملزم گرفتار

 

معاہدے کے تحت گریٹر پشاور سرکلر ریلوے منصوبے کے ذریعے پشاور، نوشہرہ، مردان اور چارسدہ کو جدید ریلوے ٹریک سے منسلک کیا جائے گا، جبکہ پشاور ویلی ریلوے کے آئندہ مراحل میں نوشہرہ، مردان اور درگئی کے درمیان ریلوے رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

 

 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نوشہرہ، جہانگیرہ ریلوے روٹ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا اور اس روٹ کی فزیبلٹی کے لیے کنسلٹنسی کا ٹھیکہ 30 اگست تک ایوارڈ کر دیا جائے گا۔

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ریلوے کے جدید روابط سے لاکھوں مسافروں، طلبہ، مزدوروں اور تاجروں کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ تجارت، سیاحت، روزگار اور علاقائی رابطہ کاری کو فروغ ملے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ ریلوے منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد صوبے کی ترقی کے لیے اہم ہے اور امید ہے کہ ان منصوبوں کو فاسٹ ٹریک بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا۔

 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ مردان، چارسدہ اور پشاور، طورخم ریلوے روابط کو بھی منصوبے کے آئندہ مراحل میں شامل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کے تعاون کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے دونوں کی ذمہ داری ہے کہ ریلوے کے شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔

 

حنیف عباسی نے صوبائی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ریلوے ایسا نیٹ ورک ہے جو تمام صوبوں کو آپس میں جوڑتا ہے، جبکہ عوامی فلاح حدود و قیود سے بالاتر ہے۔ انہوں نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے بھرپور تعاون اور تیز رفتاری سے پیش رفت یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

 

بریفنگ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت تاریخی ریلوے اسٹیشنز کی بحالی اور تزئین و آرائش کرے گی، جس کے لیے رواں سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 

وفاقی حکومت کی موجودہ ریلوے سہولیات کو صوبے میں سب اربن ریلوے سروس کے لیے استعمال کیا جائے گا، جبکہ نوشہرہ، مردان اور درگئی ریلوے رابطے کو بھی مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔

 

فریم ورک معاہدے میں تاریخی ریلوے ورثے کی بحالی بھی شامل ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نیا ریلوے منصوبہ شروع کیے جانے کی صورت میں خیبرپختونخوا حکومت انتظامی تعاون فراہم کرے گی۔