کچھ دن پہلے میں ایک رکشے میں سفر کر رہی تھی۔ سفر تھوڑا طویل تھا، اس لیے میرے ساتھ بیٹھی ایک خاتون سے بات چیت شروع ہوگئی۔
باتوں باتوں میں انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں کہاں کام کرتی ہوں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) کے ساتھ کام کرتی ہوں جو صحت، تعلیم اور نوجوانوں کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔

اس کے مختلف پروگرامز میں نوجوانوں کی صلاحیتیں بہتر بنانے، تعلیم کو فروغ دینے اور صحت کی سہولیات سے متعلق مختلف اقدامات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، 3 روز میں کتنا مہنگا ہوا؟
وہ خود ایک اسکول میں ایس ایس ٹی ٹیچر تھیں۔ یعنی ایک ایسی خاتون جو تعلیم یافتہ تھیں، بچوں کو پڑھاتی تھیں اور روزانہ نئی نسل کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتی تھیں۔ لیکن جب انہوں نے میرے کام کے بارے میں سنا تو ان کا جواب میرے لیے حیران کن تھا۔

انہوں نے کہا کہ این جی او سیکٹر کو معاشرے میں اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ لوگ اس شعبے کے بارے میں مختلف باتیں کرتے ہیں اور اس میں کام کرنے کا آپ کے مستقبل پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ آپ کسی کو نہ بتائیں کہ آپ این جی او میں کام کرتی ہیں، کیونکہ لوگ آپ کو اچھا نہیں سمجھیں گے۔
میں نے ان سے پوچھا کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ ایک ایسا کام جو لوگوں کی مدد، تعلیم، صحت، خواتین اور بچوں کے مسائل پر کام کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، وہ کسی کے مستقبل کے لیے برا کیسے ہوسکتا ہے؟

ان کی بات سن کر میں کچھ دیر خاموش رہی، لیکن میرے ذہن میں ایک سوال ضرور آیا۔ اگر ایک تعلیم یافتہ اور اسکول میں پڑھانے والی خاتون کی این جی اوز کے بارے میں ایسی سوچ ہے تو پھر عام لوگوں کی سوچ کیا ہوگی؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ ایک ٹیچر اپنے طلبہ کو کیا سکھائے گی؟ کیا صرف کتابیں پڑھانے سے ہم تعلیم یافتہ بن جاتے ہیں یا ہماری سوچ کا وسیع ہونا بھی ضروری ہے؟
میرے خیال میں کسی بھی شعبے کو صرف لوگوں کی باتوں کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھنا درست نہیں۔ این جی او سیکٹر بھی دوسرے شعبوں کی طرح کام کرنے کا ایک میدان ہے، جہاں مختلف لوگ مختلف مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ بہت سی تنظیمیں تعلیم، صحت، بچوں کے حقوق، خواتین کی بہتری، غربت، ماحول، ہنگامی حالات اور معاشرے کے دوسرے مسائل پر کام کرتی ہیں۔

اس شعبے میں کام کرنے والے لوگ بھی اپنی محنت سے روزی کماتے ہیں اور معاشرے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے صرف یہ کہنا کہ این جی او میں کام کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا، کسی کے کام یا کردار کو غلط ثابت نہیں کرتا۔
لیکن اس بات کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ادارہ ایک جیسا نہیں ہوتا اور ہر جگہ کام کرنے کا ماحول بھی ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ جگہوں پر مقامی ثقافت، روایات اور لوگوں کے جذبات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔
بعض اوقات باہر سے آنے والے لوگ یا ادارے مقامی لوگوں کی سوچ اور ثقافت کو سمجھے بغیر کام شروع کردیتے ہیں۔ اس وجہ سے مقامی لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور پھر وہ پورے این جی او سیکٹر کو ایک ہی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔

کچھ اداروں یا افراد کے غلط طریقۂ کار کی وجہ سے پورے شعبے کو برا سمجھنا بھی درست نہیں، لیکن این جی اوز کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ جس معاشرے میں کام کر رہی ہیں، وہاں کی ثقافت، روایات اور لوگوں کے جذبات کا احترام کریں۔ اچھا کام صرف یہ نہیں کہ آپ کسی کے لیے کچھ کر رہے ہیں، بلکہ اچھا کام یہ بھی ہے کہ آپ لوگوں کی عزت، ثقافت اور احساسات کو سمجھتے ہوئے کریں۔
اگر کوئی ادارہ لوگوں کی مدد کرنے کے نام پر ان کے کلچر کو نظر انداز کرے گا تو ظاہر ہے کہ لوگوں کے ذہن میں سوال پیدا ہوں گے۔ اس لیے این جی اوز کو اپنی ذمہ داری سمجھنی چاہیے کہ وہ شفاف طریقے سے کام کریں، مقامی لوگوں کو ساتھ لے کر چلیں اور اپنے کام کے بارے میں لوگوں کو درست معلومات دیں۔
دوسری طرف معاشرے کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی ادارے یا شعبے کے بارے میں رائے بنانے سے پہلے اس کے کام کو دیکھنا چاہیے۔ اگر کسی ایک جگہ غلط کام ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس شعبے سے وابستہ ہر شخص غلط ہے۔

مجھے اس رکشے کے سفر میں اس خاتون کی بات شاید اس لیے زیادہ محسوس ہوئی کیونکہ وہ خود ایک ٹیچر تھیں۔ ایک ٹیچر صرف بچوں کو کتابیں نہیں پڑھاتی بلکہ ان کی سوچ بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچے اپنے اساتذہ سے صرف کتابی علم نہیں سیکھتے بلکہ لوگوں اور معاشرے کو دیکھنے کا انداز بھی سیکھتے ہیں۔
اگر ایک بچہ اپنے استاد سے یہ سیکھے کہ کسی شعبے یا انسان کو صرف لوگوں کی باتوں کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاسکتا ہے تو اس کی سوچ بھی محدود ہوسکتی ہے۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی شخص یا پیشے کے بارے میں رائے بنانے سے پہلے حقیقت کو سمجھیں۔ سوال کریں، تحقیق کریں اور پھر اپنی رائے بنائیں۔

این جی او میں کام کرنا کسی کے کردار کی تعریف نہیں، بالکل اسی طرح جیسے کسی اسکول میں کام کرنا بھی کسی انسان کے کردار کی مکمل ضمانت نہیں۔ اصل چیز انسان کا رویہ، اس کی نیت، اس کا کام اور دوسروں کے ساتھ اس کا برتاؤ ہے۔
اس دن رکشے میں ہونے والی وہ مختصر سی گفتگو میرے لیے ایک لمبی سوچ چھوڑ گئی۔ مجھے محسوس ہوا کہ معاشرے کو صرف تعلیم یافتہ لوگوں کی نہیں بلکہ وسیع سوچ رکھنے والے لوگوں کی بھی ضرورت ہے۔
ہمیں این جی اوز سے بھی سوال کرنا چاہیے کہ وہ کیسے کام کر رہی ہیں، لیکن ہمیں پورے شعبے کو صرف افواہوں یا چند لوگوں کے تجربات کی بنیاد پر برا بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ این جی اوز بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں اور معاشرہ بھی اپنی سوچ کو کھلا رکھے۔ جہاں غلطی ہو، وہاں اس کی نشاندہی ہونی چاہیے، اور جہاں اچھا کام ہو رہا ہو، وہاں اسے تسلیم بھی کیا جانا چاہیے۔
کیونکہ کسی بھی شعبے کی اصل پہچان لوگوں کی باتیں نہیں بلکہ اس شعبے میں ہونے والا کام ہوتا ہے۔ اور شاید ہمیں اپنی اگلی نسل کو یہی سکھانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ کسی چیز کو صرف اس لیے برا نہ سمجھو کہ لوگ اسے برا کہتے ہیں۔ پہلے حقیقت کو سمجھو، سوال کرو، تحقیق کرو اور پھر اپنی رائے بناؤ۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
