ضلع کرم کے صحافی نسیم شاکر کو گزشتہ پندرہ برسوں سے ایک قومی میڈیا ادارے کے لیے کام کرنے کے باوجود کوئی مستقل تنخواہ نہیں ملتی۔ روزانہ خبروں کی کوریج، پریس کانفرنسوں میں شرکت، سکیورٹی خدشات کے درمیان رپورٹنگ اور بعض اوقات کئی کئی گھنٹے سفر کرنے کے باوجود ان کی آمدنی کا انحصار صرف چند خبروں کے عوض ملنے والے معمولی معاوضے پر ہے۔
یہ صورتحال صرف ایک صحافی کی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے درجنوں صحافیوں کی مشترکہ حقیقت ہے، جو پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود مالی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) میں صحافی ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گردی، بدامنی، انٹرنیٹ بندش، محدود رسائی اور معاشی مشکلات کے باوجود صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم ان صحافیوں کی بڑی تعداد آج بھی مستقل ملازمت، باقاعدہ تنخواہ اور بنیادی پیشہ ورانہ سہولیات سے محروم ہے۔

سابق فاٹا کے خیبر، کرم، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور اورکزئی سمیت خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں صحافیوں کی بڑی تعداد مستقل ملازمتوں اور باقاعدہ تنخواہوں سے محروم ہے۔
بیشتر میڈیا ادارے مقامی صحافیوں کو مستقل ملازم کے بجائے "اسٹرنگر" یا فری لانس نمائندے کے طور پر رکھتے ہیں، جنہیں نہ ویج بورڈ کے مطابق تنخواہ ملتی ہے، نہ طبی سہولیات، نہ انشورنس اور نہ ہی ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ کئی صحافی ایسے بھی ہیں جو صرف اپنی پیشہ ورانہ شناخت برقرار رکھنے یا عوامی مسائل اجاگر کرنے کے جذبے کے تحت بغیر کسی ماہانہ تنخواہ کے صحافت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
قبائلی اضلاع کے بیس صحافیوں سے تنخواہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں صرف تین افراد کو تنخواہ ملتی ہے، باقی 17 صحافیوں نے جواب میں بتایا کہ وہ بغیر تنخواہ کے رپورٹنگ کرتے ہیں، جبکہ ہر صحافی کو دہشت گردی، ذہنی اور مالی مسائل کا سامنا ہے۔

نسیم شاکر کا کہنا ہے کہ اپنے شوق کی وجہ سے وہ صحافت کو نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ علاقے کے مسائل کو دیکھ کر اپنی جیب سے پیسے لگاتا ہے، لیکن خبر کی رسائی تک ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ نسیم شاکر کا کہنا ہے کہ اسے تنخواہ تو دور کی بات ہے، اسے ابھی تک ادارے کی طرف سے کوئی ٹریننگ بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔
میڈیا واچ ڈاگ فریڈم نیٹ ورک کی 2024 کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق ضم شدہ قبائلی اضلاع میں صحافیوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ معاشی عدم تحفظ ہے۔ رپورٹ میں قبائلی اضلاع کے صحافیوں سے مختلف سوالات پوچھے گئے تھے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحافیوں کو کم معاوضے اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث ان کے لیے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صحافیوں کو رپورٹنگ کے لیے سفری اخراجات، انٹرنیٹ، موبائل فون اور دیگر ضروری وسائل اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑتے ہیں، جبکہ بیشتر میڈیا ادارے ان اخراجات کی ادائیگی بھی نہیں کرتے۔
جب صحافی اپنی جیب سے اشتہار لگاتا ہے
ضلع خیبر، باڑہ سے قومی اخبار کے لیے نمائندہ محمد فاروق آفریدی پچھلے چھ سال سے ہر ماہ اس کشمکش میں رہتا ہے کہ وہ اخبار کے لیے کہاں سے اشتہار پیدا کرے، جبکہ چھ سال سے بغیر تنخواہ کے رپورٹنگ بھی کرتا رہتا ہے۔
فاروق آفریدی کا کہنا ہے کہ اخبار کے ساتھ کام کرنا، علاقے کے مسائل کو دنیا کے سامنے لانا اور پریس کلب کی ممبرشپ قائم رکھنے کے لیے کر رہے ہیں، جبکہ گھر کے اخراجات باڑہ بازار میں الیکٹرانکس کی دکان میں مزدوری سے پورے کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے تمام دیگر ساتھی صحافیوں کو بھی اخبار سے تنخواہ ملنے کی پریشانی نہیں، بلکہ ہر ماہ اشتہار پیدا کرنا اصل چیلنج ہے۔ کبھی کبھی وہ اپنی جیب سے کسی دوست کے لیے اشتہار لگاتے ہیں تاکہ اخبار مالک کی جانب سے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔

قبائلی اضلاع کے دیگر علاقوں کے صحافیوں کا بھی یہی گلہ ہے کہ وہ اخبار سے تنخواہ کی فکر نہیں کرتے، بلکہ ان سے جب میڈیا مالکان اشتہار مانگتے ہیں تو اشتہار کے لیے کسی کو پیدا کرنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔
جنوبی وزیرستان سے قومی اخبار اور ٹی وی کے لیے پچھلے آٹھ سال سے کام کرنے والے صحافی قسمت وزیر کا کہنا ہے کہ اسے کسی ادارے کی جانب سے کوئی تنخواہ نہیں ملی، کبھی کبھی بین الاقوامی ادارے کے لیے کوئی تصویر، ویڈیو یا کوئی بڑی خبر دینے کے بدلے کچھ معاوضہ مل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کے مسائل کو دیکھ کر دل نہیں چاہتا کہ صحافت سے کنارہ کشی اختیار کروں۔
بین الاقوامی اداروں کے لیے رپورٹنگ
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے اسلام گل آفریدی، جو بی بی سی اور آسٹریلین براڈکاسٹ سروس کے لیے تحقیقاتی رپورٹنگ کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع کے صحافی ملک کے حساس ترین علاقوں میں رپورٹنگ کرتے ہیں، لیکن انہیں پاکستان کے دیگر شہروں میں کام کرنے والے صحافیوں کے مقابلے میں کہیں کم معاوضہ ملتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحافی اضافی روزگار، کاروبار یا سرکاری و غیر سرکاری منصوبوں میں عارضی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں تاکہ اپنے خاندانوں کی کفالت کر سکیں۔
عوامی صحافت یا اشتہاری صحافت
خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر کاشف الدین کا کہنا ہے کہ جب صحافی معاشی طور پر غیر محفوظ ہوں تو آزاد اور غیر جانبدار صحافت بھی متاثر ہوتی ہے۔ کم تنخواہیں اور مالی مشکلات نہ صرف پیشہ ورانہ معیار کو متاثر کرتی ہیں بلکہ صحافیوں کو مختلف سیاسی، تجارتی اور سماجی دباؤ کے سامنے بھی کمزور بنا دیتی ہیں۔

ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے صحافی یوسف خان نے بتایا کہ وہ پچھلے سات سال سے ایک قومی اخبار کے ساتھ ضلع کرم سے رپورٹر ہیں، جس کی طرف سے انہیں ادارے کی جانب سے ابھی تک ایک روپیہ بھی نہیں ملا ہے، جبکہ ادارہ ان سے ماہانہ اشتہارات مانگ رہا ہے۔
یوسف خان نے بتایا کہ وہ صحافت کے ساتھ ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹیچنگ بھی کر رہے ہیں، جس سے بمشکل گھر کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔

شاہ خالد ضلع باجوڑ سے مختلف اداروں کے لیے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انگلش لرننگ اکیڈمی کھول لی ہے، جس سے گھر کے اخراجات پورے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قبائلی اضلاع سے وہ لوگ صحافت کر رہے ہیں جن کی آمدن کہیں اور سے بھی ہو یا اکثر افراد مشترکہ خاندان میں رہتے ہیں، جن کے گھر کے اخراجات کوئی اور پورا کرتا ہے۔
قبائلی اضلاع سے باہر کیا صورت حال ہے؟
صحافیوں کی معاشی مشکلات صرف قبائلی اضلاع تک محدود نہیں ہیں۔ مئی 2026 میں خیبر یونین آف جرنلسٹس کی کال پر خیبرپختونخوا بھر میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، جبری برطرفیوں اور لیبر قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف احتجاج کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعدد میڈیا ادارے کئی کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کر رہے۔
عدالت کا مالکان کو سخت حکم
رواں سال 2026 میں پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا کے اخبار مالکان کی خیبرپختونخوا محکمہ اطلاعات سے تقریباً چالیس کروڑ روپے کے بقایاجات وصولی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
عدالت میں درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ اخبار مالکان کے محکمہ اطلاعات پر اشتہارات کے بقایاجات ہیں اور انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اشتہارات کے بقایاجات ادا نہیں کرتا، جس کی وجہ سے اخبارات کے مالکان کو مالی مسائل کا سامنا ہے۔

جس پر محکمہ اطلاعات کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل نے عدالت کو بتایا کہ صحافیوں کی 17 شکایات آئی ہیں، جن کے اخبارات پر بقایاجات ہیں۔
ہمیں رپورٹ آئی ہے کہ اخبار مالکان صحافیوں اور ملازمین کو کم از کم اجرت سے کم تنخواہ دے رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق اخبارات پر صحافیوں کے ڈیڑھ کروڑ روپے کے بقایاجات ہیں، اخبار کے مالکان کی جانب سے صحافیوں کو 5 ہزار، 8 ہزار، 10 ہزار روپے تنخواہ دی جا رہی ہے۔
اس پر ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد اعجاز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے بتایا کہ ایک اخبار ہے، وہ پانچ ہزار کی تنخواہ دے رہا ہے اور ایک درخواست ہے کہ پانچ مہینے کی تنخواہ 75 ہزار روپے ہیں، وہ بھی نہیں ملے۔

جسٹس محمد اعجاز خان نے بتایا کہ ہم اس پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے، حکومت نے تو 45 ہزار کم از کم تنخواہ مقرر کی ہے، وہ اخبار مالکان نے دینی ہے۔ جسٹس محمد اعجاز خان نے بتایا کہ قانون کے مطابق جس ادارے میں کوئی بھی ملازم ہو، اس کو 45 ہزار تنخواہ دیں گے، اخبار والے خود تو کروڑوں کما رہے ہیں اور جرنلسٹ کو تنخواہ 8 ہزار، 10 ہزار دے رہے ہیں، اس مہنگائی میں 5 ہزار، 10 ہزار سے کیا ہوتا ہے، آپ یہ تنخواہ دے رہے ہیں۔
عدالت نے اخبار مالکان کو حکم دیا کہ ایک مہینے میں بقایاجات کلیئر کریں اور آئندہ سماعت تک اس حوالے سے رپورٹ جمع کریں۔ اگر رپورٹ جمع نہیں کی تو پھر آپ کے خلاف کارروائی کریں گے۔
پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ اشفاق داودزئی کا کہنا ہے کہ مزدور کے حقوق اور دیگر مسائل کے کیسز کے لیے لیبر کورٹ موجود ہیں، جس میں کسی مزدور یا نوکر کے کیسز حل ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر کسی شخص کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ تنخواہ نہیں ملتی تو وہ عدالت میں کیس جمع کرا سکتا ہے اور پوری تنخواہ نہ دینے والوں کو کیس کے مطابق بھاری جرمانہ یا بڑی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔
پریس کلب کیا کرتے ہیں؟
اس وقت قبائلی اضلاع کے 14 پریس کلب ہیں، جن میں ضلع باجوڑ میں ایک ڈسٹرکٹ پریس کلب خار، ضلع مہمند میں ایک پریس کلب ڈسٹرکٹ پریس کلب غلنئی، ضلع خیبر میں تین پریس کلب، ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل، جمرود پریس کلب، باڑہ پریس کلب، ضلع کرم میں دو پریس کلب، ڈسٹرکٹ پریس کلب پاراچنار، صدہ پریس کلب، ضلع اورکزئی میں ایک ڈسٹرکٹ پریس کلب اورکزئی، ضلع شمالی وزیرستان میں دو پریس کلب، ڈسٹرکٹ پریس کلب میران شاہ، مییرعلی پریس کلب جو اب مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔

اسی طرح ضلع جنوبی وزیرستان لوئر میں ایک ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا، اپر جنوبی وزیرستان میں دو پریس کلب، ایک ڈسٹرکٹ پریس کلب اپر جنوبی وزیرستان اور ایک محسود پریس کلب شامل ہیں۔ ان تمام پریس کلبوں میں 413 رجسٹرڈ صحافی کام کر رہے ہیں۔
ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق تقریباً سو صحافیوں کے علاوہ باقی سارے بغیر تنخواہ کے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔
ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے فنانس سیکرٹری دلدار حسین کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں صحافت کا سب سے بڑا مسئلہ معاشی عدم تحفظ ہے۔ چونکہ بیشتر قومی میڈیا اداروں کے وہاں مستقل دفاتر موجود نہیں، اس لیے مقامی رپورٹرز کو "اسٹرنگر" یا فری لانس بنیادوں پر رکھا جاتا ہے۔

اکثر صحافی خبروں کے بدلے باقاعدہ تنخواہ کے بجائے فی خبر یا انتہائی محدود معاوضہ حاصل کرتے ہیں، جبکہ کئی صحافی سماجی خدمت یا پیشہ ورانہ شناخت برقرار رکھنے کے لیے بغیر معاوضہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکومت کیا کر رہی ہے؟
محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع کے پریس کلبوں کو صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیے سالانہ ایک مرتبہ گرانٹ دی جاتی ہے۔
دیگر سہولیات میں صحافی یا ان کے بچوں کی شادی کے لیے دو لاکھ روپے تک میرج گرانٹ، دورانِ فرائض شہادت کی صورت میں دس لاکھ روپے شہداء پیکیج، علاج معالجے کے لیے ایک لاکھ روپے میڈیکل مالی معاونت سمیت دیگر فلاحی اقدامات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ حکومت خیبرپختونخوا صحافیوں کی پیشہ ورانہ اور سماجی بہبود کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہے اور انہیں درپیش مسائل کے حل اور ضروری مواقع پر ہرممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے، ان اقدامات کا مقصد صحافی برادری کی فلاح، تحفظ اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔
ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے فنانس سیکرٹری کا تعلق ضلع کرم سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ضلع کے ایک پریس کلب کو سالانہ ایک مرتبہ فنڈ ملتا ہے، جبکہ قبائلی علاقوں کے ہر ضلع میں ایک سے زیادہ پریس کلب موجود ہیں، جس کی وجہ سے دیگر پریس کلبوں کے صحافی اس گرانٹ سے محروم ہوتے ہیں۔
ضلع خیبر سے سینئر صحافی ساجد کوکی خیل کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایک سال گرانٹ ملتا ہے، پھر دو تین سال تک غائب ہوتا ہے۔ ساجد کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع کے دیگر پریس کلبوں کی طرح ان کے پریس کلب میں پریس کانفرنس کی مد میں آنے والے پیسے اور کسی سیاسی رہنما یا سرکاری ادارے سے کبھی کبھی فنڈ ملتا ہے، جو صحافیوں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے، جبکہ پریس کلب کے اخراجات ضلعی انتظامیہ اور سیاسی لوگوں کے ذریعے پورے کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس کی فیس صحافیوں میں تقسیم
ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے فنانس سیکرٹری نے بتایا کہ پریس کلب کے اخراجات ضلعی انتظامیہ سے پورے کرتے ہیں، جبکہ پریس کانفرنس کی مد میں آنے والے پیسے ممبران کے درمیان تقسیم کیے جاتے ہیں۔

دلدار حسین کا کہنا ہے کہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کی فیس تین ہزار سے لے کر آٹھ ہزار تک ہوتی ہے، جبکہ سب سے زیادہ جمرود پریس کلب میں ماہانہ بیس سے تیس تک پریس کانفرنس ہوتی ہیں، جبکہ کچھ میں تو پورے مہینے میں ایک پریس کانفرنس بھی نہیں ہوتی، جس میں ضلع کرم، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان کے پریس کلب شامل ہیں۔
صحافتی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ حکومت، میڈیا مالکان اور ترقیاتی ادارے ضم شدہ اضلاع کے صحافیوں کے لیے خصوصی معاونت پروگرام، ویج بورڈ ایوارڈ پر عملدرآمد، انشورنس، قانونی معاونت، حفاظتی تربیت اور پریس کلبوں کے لیے فنڈز فراہم کریں تاکہ اس پسماندہ خطے میں آزاد اور پائیدار صحافت کو یقینی بنایا جائے۔
