وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر  کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ہوگا اور اس بار 20 نہیں بلکہ 40 لاکھ افراد لے کر جائیں گے۔ نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔

 

ہنگو کے ابوبکر صدیق چوک میں اسٹریٹ موومنٹ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق 3 ججز کے فیصلے کو حکومت اور انتظامیہ نے ردی کی ٹوکری میں پھینک کر ججز کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: ٹیکسلا: ٹک ٹاکر عائشہ گیلامنہ قتل کیس میں اہم پیش رفت

 

انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر اس ملک کے ’’ان ٹچیبل‘‘ نے ثابت کردیا کہ وہ آئین اور قانون سے بالاتر ہیں۔ ہمارے خلاف عدالت، ایف آئی اے یا کوئی اور ادارہ حکم دے تو ایک گھنٹے میں عملدرآمد ہوجاتا ہے اور 15 منٹ میں پولیس پہنچ جاتی ہے، لیکن عمران خان کے علاج کے لیے عدالتوں کی جانب سے 2 دن کا وقت دیے جانے کے باوجود فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

 

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون نہیں ہوسکتا۔ اگر عدالتیں طاقتور لوگوں کو کٹہرے میں نہیں لاسکتیں تو انہیں مظلوموں کو سزا سنانے کا بھی حق نہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر ظالموں اور طاقتوروں کو سزائیں نہیں دی جاسکتیں تو عدلیہ سے گزارش ہے کہ جن کمزور لوگوں کو قید کیا گیا ہے انہیں بھی آزاد کردیا جائے۔

 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عمران خان نے حقیقی آزادی کی جو جدوجہد شروع کی ہے، اس کا مقصد کمزور اور طاقتور کے لیے ایک ہی قانون کا نفاذ ہے۔ عدالتوں کو سوچنا ہوگا کہ وہ ملک کو کس طرف لے جارہی ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ کسان پریشان ہے جبکہ صنعتکار اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کررہا ہے۔ اگر فیصلہ طاقتور کو بچانے کا ہے تو ہم اس فیصلے سے باغی ہیں۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خواتین پر ظلم و جبر کیا جارہا ہے اور عمران خان کی بہنوں کی بے توقیری کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب ان کے پاس ’’عورت کارڈ‘‘ کا پتا بھی ختم ہوگیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم عمران خان سے جنون کی حد تک عشق کرتے ہیں اور خان کی بہن کے ایک ایک آنسو کی قیمت چکائیں گے۔