ایمان ظاہر شاہ
استاد کا مقام ہر تعلیم حاصل کرنے والے بچے کی زندگی میں اہم ہوتا ہے۔ بچے کی شخصیت اور خود اعتمادی کو پروان چڑھانے میں استاد کا رویہ ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔
استاد کی جانب سے تعاون، حوصلہ افزائی اور احترام جہاں بچے میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے، وہیں مسلسل نظرانداز کیے جانے یا منفی رویے کا سامنا بچے کی سیکھنے کی صلاحیت اور خود اعتمادی
کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: کن اضلاع میں بارش ہوگی؟ پی ڈی ایم اے کا نیا الرٹ جاری
اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے بین الاقوامی طلبہ کے تعلیمی جائزے (پیسا) کی ایک رپورٹ کے مطابق، جن طلبہ کو اپنے اساتذہ کی جانب سے تعاون، حوصلہ افزائی اور احترام کا احساس ہوتا ہے، ان کی تعلیمی کارکردگی بہتر ہوتی ہے، وہ اسکول سے زیادہ وابستگی محسوس کرتے ہیں اور ان کی خود اعتمادی بھی نسبتاً مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، مسلسل نظرانداز کیے جانے یا منفی رویے کا سامنا کرنے والے طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت اور اعتماد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

28 سالہ خدیجہ شیخ، جو پشاور سے تعلق رکھتی ہیں، بتاتی ہیں کہ وہ اسکول میں کبھی اپنی کلاس کی ٹاپر طالبہ نہیں رہیں اور خود کو اوسط سے کم کارکردگی دکھانے والی طالبہ سمجھتی تھیں۔ ان کے مطابق، جب بھی وہ اپنی اسکول کی کلاس ٹیچر سے کوئی سوال پوچھنے کی کوشش کرتیں تو انہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا، جبکہ بعض اوقات ٹیچر طنزیہ انداز میں ان پر ہنستی بھی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کتنی ہی محنت کیوں نہ کی، ٹیچر نے کبھی ان کی کوشش کو سراہا نہیں اور ان کی تمام تعریف اور توجہ ہمیشہ کلاس کے ٹاپر طلبہ کے لیے مخصوص رہتی تھی۔
خدیجہ بتاتی ہیں کہ جب وہ چھٹی جماعت میں تھیں تو انہوں نے انگریزی کے پرچے کے لیے بہت تیاری کی تھی، لیکن طبیعت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے ان کا پرچہ اچھا نہیں ہوا اور نمبر کم آئے۔ اس پر ان کی ٹیچر نے ان سے کہا کہ “تم زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتیں، تم ہمیشہ ناکام رہو گی۔”

خدیجہ کے مطابق، ان الفاظ نے ان کی خود اعتمادی پر بہت گہرا اثر ڈالا۔ ان کی تمام تر تعلیمی زندگی میں انہیں ہر بار یہ محسوس ہوتا رہا کہ وہ فیل ہو جائیں گی۔ باوجود محنت کے ان کے کبھی اچھے نمبر نہیں آئے، کیونکہ پرچہ لکھتے وقت بھی انہیں اپنے لکھے ہوئے جوابات پر شک ہوتا تھا کہ کہیں وہ سوال کا جواب غلط تو نہیں لکھ رہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ اس تجربے کے اثرات آج بھی ان کی زندگی میں موجود ہیں۔ جب وہ کسی ملازمت کے انٹرویو کے لیے جاتی ہیں تو پہلے ہی یہ یقین ہوتا ہے کہ ان کا انتخاب نہیں ہوگا۔ اسی احساس کی وجہ سے وہ ملازمت کے بہت سے مواقع پر درخواست دینے سے بھی گریز کرتی ہیں اور بہت سے مواقع ضائع کر چکی ہیں۔
کلینیکل سائیکالوجسٹ اور پشاور میں خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک مینٹل ہیلتھ اینڈ بیہیویئرل سائنسز کی سربراہ ہما کنول کے مطابق، جب کوئی بچہ بار بار استاد کی جانب سے نظرانداز یا مسترد ہونے کا تجربہ کرتا ہے تو ابتدا میں وہ الجھن کا شکار ہوتا ہے کہ آخر اس کی محنت کو کیوں سراہا نہیں جا رہا۔

رفتہ رفتہ وہ اس ناانصافی کو اپنی کمزوری سمجھنے لگتا ہے اور اس کے ذہن میں ایسے خیالات جنم لینے لگتے ہیں کہ ’’میں ذہین نہیں ہوں‘‘ یا ’’مجھ میں ہی کوئی کمی ہے۔‘‘
ہما کنول کہتی ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ بچے کلاس میں ہاتھ اٹھانا، سوال پوچھنا یا اپنی رائے دینا چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ بچے ہر وقت استاد کے تاثرات پر نظر رکھتے ہیں تاکہ اندازہ لگا سکیں کہ کہیں وہ دوبارہ تنقید کا نشانہ تو نہیں بنیں گے۔ بالآخر وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ چاہے وہ کتنی بھی محنت کریں، کچھ نہیں بدلے گا۔ یہ احساس صرف تعلیمی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ان کی سماجی زندگی، ملازمت اور پیشہ ورانہ روابط کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ہما کنول کے مطابق، استاد کا ایک منفی جملہ بھی برسوں تک بچے کے ذہن میں محفوظ رہ سکتا ہے۔ جب تنقید کسی بااختیار شخصیت کی جانب سے آتی ہے تو دماغ اسے معمولی بات نہیں بلکہ ایک اہم اور جذباتی تجربہ سمجھ کر طویل عرصے کے لیے محفوظ کر لیتا ہے۔
بچے کے اسکول چھوڑنے کے بعد بھی اساتذہ کے ساتھ قائم ہونے والے تعلقات اس کی عملی اور پیشہ ورانہ زندگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اگر استاد طالب علم کو مسلسل حوصلہ دے، اس کی بات سنے اور رائے کا احترام کرے تو وہ مستقبل میں باس یا سپروائزر کے سامنے بھی زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنی بات رکھ سکتا ہے۔

اس کے برعکس، اگر استاد کا رویہ ہمیشہ ڈانٹنے یا خوفزدہ کرنے والا ہو تو طالب علم عملی زندگی میں اپنی رائے کا اظہار کرنے، رہنمائی حاصل کرنے یا نئے مواقع قبول کرنے سے ہچکچا سکتا ہے۔
استاد کے رویے کے اثرات صرف تعلیمی کارکردگی یا کلاس روم تک محدود نہیں رہتے بلکہ بچے کے دوسروں کے سامنے بات کرنے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔
27 سالہ جاوید خان، جو مالاکنڈ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وقت لندن سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کر رہے ہیں، بتاتے ہیں کہ وہ کبھی بھی اردو روانی سے نہیں بول پاتے تھے۔
ان کے مطابق، گریجویشن کے تیسرے سمسٹر میں ایک بار انہوں نے کلاس میں اپنے پروفیسر سے سوال پوچھا تو پروفیسر نے پوری کلاس کے سامنے ان کا مذاق اڑایا اور طنزیہ انداز میں کہا:“براہِ کرم خاموش ہو جاؤ، اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں مجھ سے سوال مت کرو۔”

جاوید خان کے مطابق، اس واقعے نے ان کا اعتماد مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے پریزنٹیشن دینا چھوڑ دی، کیونکہ انہیں ہر وقت یہ خوف رہتا تھا کہ سب لوگ ان پر ہنسیں گے۔ آج بھی جب وہ اردو بولتے ہیں تو انہیں شرمندگی اور عدم تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔
اس حوالے سے ہما کنول کہتی ہیں کہ ان کے پاس آنے والے کئی بالغ افراد آج بھی دہائیوں پہلے اپنے استاد کے کہے ہوئے الفاظ، آواز کا انداز اور کلاس روم کا منظر لفظ بہ لفظ یاد رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے ایسے جملوں کو اپنی شخصیت کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
اگر استاد کسی بچے سے کہہ دے کہ ’’تم کبھی ریاضی میں اچھے نہیں ہو سکتے‘‘ یا ’’تمہاری زبان غلط ہے‘‘ تو بچہ اسے اپنی مستقل شناخت سمجھنے لگتا ہے۔ ہما کنول کے مطابق، اگر ایک بچہ روزانہ یہ دیکھے کہ اس کے ساتھیوں کی تعریف کی جا رہی ہے جبکہ اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے تو وہ صرف یہ نہیں سوچتا کہ دوسرا طالب علم اس سے بہتر ہے بلکہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید دوسرا انسان ہونے کے ناطے بھی اس سے زیادہ اہم ہے۔

اسی طرح کسی بچے کے بولنے کے انداز پر تنقید کے حوالے سے ہما کنول نے کہا کہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ثقافتی شناخت کا حصہ بھی ہے۔ اگر استاد کسی بچے کے لہجے یا مادری زبان کا مذاق اڑائے تو بچہ صرف اپنی زبان ہی نہیں بلکہ اپنی ثقافت، خاندان اور شناخت کو بھی کمتر سمجھنے لگتا ہے۔
ان کے مطابق، یہی احساس بعد میں اسے عوامی سطح پر بولنے، اپنی رائے دینے یا پیشہ ورانہ زندگی میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے۔
ہما کنول اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اس مسئلے کا حل مشکل نہیں۔ ان کے مطابق، اساتذہ روزمرہ تدریسی عمل میں چند آسان اصول اپنا کر ہر بچے کو اہمیت کا احساس دلا سکتے ہیں۔

ان میں تمام طلبہ کو برابر توجہ دینا، صرف نمبروں کے بجائے کوشش اور محنت کی تعریف کرنا، بچوں کی زبان اور ثقافتی شناخت کا احترام کرنا، اصلاح ہمیشہ نجی طور پر کرنا اور ہر طالب علم کے ساتھ روزانہ کم از کم ایک مثبت اور ذاتی نوعیت کا مکالمہ کرنا شامل ہے۔
ان کے بقول، اگر ہر بچہ یہ محسوس کرتے ہوئے اسکول سے نکلے کہ وہ قابلِ احترام ہے اور اس کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے تو یہی احساس اس کی ذہنی صحت، تعلیمی کامیابی اور مستقبل کی شخصیت کی تعمیر میں سب سے مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
