سوات کے برطانہ میں ایک خاندان کے  لیے بارش اب صرف موسم کی تبدیلی نہیں رہی۔ آسمان پر بادل چھاتے ہیں تو 2022  کی وہ تباہی بھی یاد آ جاتی ہے جب سیلاب ان کا گھر بہا لے گیا تھا۔ 

 

محمد حذیفہ کا خاندان پہلے ایک قدرتی نالے کے کنارے رہتا تھا، جہاں گھر کے ساتھ زمین، روزگار اور روزمرہ زندگی کی سہولتیں بھی جڑی ہوئی تھیں۔ مگر سیلاب نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ گھر صرف وہ جگہ نہیں جہاں زمین دستیاب ہو، بلکہ وہ مقام بھی ہونا چاہیے جہاں خطرہ نسبتاً کم ہو۔

 

یہ بھی پڑھیے: زمین کی ملکیت کا ریکارڈ لینے کے لیے اب کہاں جانا ہوگا؟ خیبرپختونخوا میں نئی سہولت منظور

 

اب حذیفہ کا خاندان نسبتاً اونچے علاقے میں کرائے کے گھر میں رہتا ہے۔ نئے گھر کے لیے جگہ دیکھتے ہوئے ان کی پہلی ترجیح پانی سے دور اور بلند مقام ہے۔ اونچی بنیاد، مضبوط دیواریں اور بارش کے پانی کی نکاسی اب ان کے لیے تعمیر کے اضافی انتظامات نہیں بلکہ بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔

 

 

یہ تبدیلی صرف ایک خاندان تک محدود نہیں۔ سوات میں بدلتے موسم، شدید بارشوں، سیلاب اور زمینی کٹاؤ کے تجربات نے بعض لوگوں کو اپنے گھروں کی جگہ اور تعمیر کے انداز پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا ہے۔

 

بارش کے بعد جب پہاڑوں سے پانی اترتا ہے تو دریاؤں اور نالوں کے قریب بسنے والے خاندانوں میں سب سے پہلے یہ فکر  پیدا ہوتی ہے کہ پانی کس طرف جائے گا۔ کہیں لوگ گھروں کے گرد نکاسیٔ آب کے راستے صاف کرتے ہیں، کہیں چھتوں اور بنیادوں کا جائزہ لیتے ہیں، جبکہ کچھ خاندان ماضی کے سیلابوں کے بعد پانی کے قریب سے نقل مکانی کرکے نسبتاً بلند مقامات کا رخ کر چکے ہیں۔ یوں بدلتے موسم نے سوات میں گھر کو محض رہائش نہیں بلکہ تحفظ کا معاملہ بھی بنا دیا ہے۔

 

سوات کے پرانے گھروں کو دیکھا جائے تو ماضی میں مٹی اور لکڑی سے بنے مکانات عام تھے۔ یہ گھر مقامی موسم اور دستیاب وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیے جاتے تھے اور گرمیوں میں نسبتاً ٹھنڈے اور سردیوں میں گرم رہتے تھے۔ وقت کے ساتھ آبادی میں اضافہ ہوا، تعمیرات کا انداز بدلا اور سیمنٹ، بلاک اور سریے سے بنے پکے گھروں کا رجحان بڑھ گیا۔ لوگ کھیتوں، سڑکوں، دریاؤں اور نالوں کے قریب بھی آباد ہوتے گئے، کیونکہ ان علاقوں میں زمین، آمدورفت اور کاروبار تک رسائی نسبتاً آسان تھی۔

 

 

سوات کے علاقے  خریڑے سے تعلق رکھنے والی ستر  سالہ اختر جہاں نے اپنی زندگی میں گھروں کی اس تبدیلی کو قریب سے دیکھا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ پہلے مٹی اور لکڑی کے گھر زیادہ ہوتے تھے اور ان میں گرمی نسبتاً کم محسوس ہوتی تھی، لیکن بے وقت بارشیں مٹی کے گھروں کو نقصان پہنچا دیتی تھیں۔ اب سیمنٹ کے پکے گھر عام ہیں۔ ان کے مطابق موسم میں تبدیلی کے ساتھ گھروں کے انداز میں بھی فرق آیا ہے اور لوگ بڑی کھڑکیوں اور ہوا دار گھروں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

 

اختر جہاں کے مطابق ان کے اپنے گھر میں بھی بارش اور گرمی سے بچاؤ کے لیے تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ چھت پر مٹی کی تہہ، موٹی دیواریں اور گھر کے گرد نکاسیٔ آب کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ بارش کا پانی گھر میں داخل نہ ہو۔ ان کے نزدیک آج گھر بناتے وقت سب سے اہم چیز اس کا محفوظ ہونا ہے، جس کے لیے مضبوط بنیاد، مناسب جگہ اور موسم سے بچاؤ ضروری ہے۔

 

انفرادی تجربات کے پیچھے موجود بڑے موسمی خطرات کے سرکاری اعداد و شمار بھی اس تبدیلی کی اہمیت واضح کرتے ہیں۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ریکارڈ کے مطابق 2022  کے سیلاب میں سوات میں 1731 گھرانے متاثر ہوئے تھے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیلاب کا خطرہ سوات میں رہائش اور تعمیرات کے فیصلوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔مقامی لوگوں اور سرکاری اداروں کی مطابق متاثرہ خاندانوں میں زیادہ تر وہ لوگ تھی جو دریا کے قریب رہتے تھے۔

 

سیلاب کے ساتھ ساتھ بڑھتی گرمی بھی گھروں کے انداز کو متاثر کر رہی ہے، خصوصاً مینگورہ جیسے نسبتاً گنجان اور شہری علاقوں میں۔ یہاں موسم کی شدت سے بچنے کے لیے بعض لوگ اپنے گھروں کے نقشے میں ہوا کی آمدورفت اور درجۂ حرارت کو قابو میں رکھنے کے طریقوں پر توجہ دے رہے ہیں۔ کھلی اور ہوا دار رہائش کے ساتھ بعض علاقوں میں بند گھروں کا رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں لوگ گرمی اور بیرونی موسمی حالات سے بچنے کے لیے گھر کو زیادہ محفوظ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

 

گھروں کی تعمیر میں ہونے والی ان تبدیلیوں کو تعمیراتی کام سے وابستہ افراد بھی محسوس کر رہے ہیں۔ سوات کے قمبر سے تعلق رکھنے والے مستری محمد نذیر کے مطابق پہلے مٹی اور لکڑی سے گھر زیادہ بنائے جاتے تھے، جبکہ اب سیمنٹ، بلاک اور سریے کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق 2022  کے سیلاب کے بعد گھر بنانے والے لوگ دریا اور نالوں سے فاصلے، گھر کی اونچائی اور بارش کے پانی کے اخراج کو بھی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

 

محمد نذیر کے مطابق مینگورہ میں گرمی کی شدت محسوس ہونے کے باعث گھروں کے انداز میں بھی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ بعض لوگ بڑی کھڑکیوں، ہوا کی آمدورفت اور موٹی دیواروں کو اہمیت دیتے ہیں، جبکہ بعض گھروں میں گرمی اور سردی سے بچاؤ کے لیے موصلیت کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق تعمیر کے دوران چھت کی ساخت اور بارش کے پانی کے اخراج کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

 

تاہم ماہرِ تعمیرات کے مطابق موسمی خطرات سے محفوظ گھر بنانے کے لیے صرف تعمیراتی مواد تبدیل کرنا کافی نہیں۔ گھر کہاں بنایا جا رہا ہے، اس کی بنیاد کتنی مضبوط ہے اور پانی کی نکاسی کا راستہ کہاں ہے، یہ تمام فیصلے تعمیر سے پہلے کرنا ضروری ہیں۔

 

دوسری جانب سوات سے تعلق رکھنے والے ماہرِ فن تعمیر انجینئر رشید احمد خان کے مطابق اگر کسی علاقے میں دریا، نالہ یا پانی کی قدرتی گزرگاہ موجود ہو تو وہاں تعمیرات کرتے وقت سیلاب کے خطرے کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق گھر کی بنیاد اور فرش کی سطح کو مقامی خطرات کے مطابق ترتیب دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی گرمی سے بچنے کے لیے گھروں میں قدرتی ہوا کی آمدورفت، کھلی جگہوں اور درختوں کا انتظام بھی اہم ہے۔

 

 

انجینئر رشید احمد خان کے مطابق موٹی دیواریں اور موصلیت گھر کے اندر نسبتاً آرام دہ ماحول پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، تاہم بنیادی اہمیت گھر کے مجموعی نقشے اور اس کے درست نفاذ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ  مناسب مقام، درست تعمیراتی نقشہ اور مضبوط ساخت مل کر گھر کو موسمی خطرات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ رشید خان کہتے ہیں کہ گھر کو پانی سے فاصلے پر رکھنا اور علاقے کے موسمی حالات کی مناسبت سے نقشہ تیار کرنا ضروری ہے تاکہ عمارت کی ساخت متوازن اور محفوظ رہے۔

 

 یونیورسٹی آف سوات کے شعبۂ ماحولیاتی سائنس کے لیکچرار اور پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر فیاض امین کے مطابق سوات میں گزشتہ برسوں کے دوران موسمی حالات میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ گرمیوں میں درجۂ حرارت میں اضافہ، بارشوں کے انداز میں تبدیلی، کم وقت میں شدید بارش، سیلاب اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات بڑھ رہے ہیں، جبکہ سردیوں میں برف باری کے دورانیے اور مقدار میں بھی تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔

 

ڈاکٹر فیاض امین کے مطابق ان موسمی تبدیلیوں کا اثر اب لوگوں کے رہائشی فیصلوں پر بھی پڑ رہا ہے۔ 2022 کے سیلاب کے بعد بعض خاندان دریاؤں اور نالوں کے قریب سے نسبتاً بلند اور محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوئے ہیں، جبکہ پہاڑی علاقوں میں لوگ زمین کی ساخت اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کو بھی گھر بنانے کی جگہ کے انتخاب میں اہمیت دینے لگے ہیں۔

 

 

فیاض امین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں گھر بناتے وقت صرف تعمیراتی مواد کو دیکھنا کافی نہیں ہوگا بلکہ دریا اور نالوں سے فاصلے، زمین کی سطح، پانی کی قدرتی گزرگاہ، نکاسیٔ آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کے باعث گھروں میں ہوا کی مناسب آمدورفت، سایہ، درختوں اور گرمی سے بچاؤ کے انتظامات بھی اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ اقدامات بدلتے موسمی حالات کے ساتھ مقامی سطح پر مطابقت پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔

 

 

سوات کے لوگوں کے یہ فیصلے کسی ایک منصوبے کا نتیجہ نہیں بلکہ اپنے تجربات سے سیکھنے کا عمل ہیں۔ کسی نے سیلاب کے بعد گھر کی جگہ بدلی تو  کسی نے اپنے موجودہ گھر میں نکاسیٔ آب بہتر کی، کسی نے دیواریں موٹی کیں اور کسی نے ہوا کی آمدورفت اور سایہ فراہم کرنے کے انتظامات کیے۔ یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اس بڑے عمل کا حصہ ہیں جس میں سوات کے لوگ بدلتے موسمی حالات کے ساتھ اپنی رہائش کو خود بھی ڈھال رہے ہیں۔

 

یاد رہے کہ موسمیاتی تغیر  نے سوات کے لوگوں کے سامنے خطرات ضرور بڑھائے ہیں، لیکن ان خطرات کے ساتھ رہنے کے طریقے بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب گھر بنانے کا فیصلہ صرف اس بات پر نہیں ہوتا کہ زمین کہاں دستیاب ہے، بلکہ یہ سوال بھی اہم ہوتا جا رہا ہے کہ وہ جگہ کتنی محفوظ ہے، بارش کا پانی کہاں جائے گا، گرمی سے کیسے بچا جائے گا اور آنے والے موسموں میں یہ گھر اپنے مکینوں کو کس حد تک تحفظ فراہم کر سکے گا۔