پشاور کے علاقے پھندو میں کمسن لڑکی کی شادی کی اطلاع پر ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس، چائلڈ پروٹیکشن کمیشن اور پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 13 یا 14 سالہ لڑکی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔
متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ کمسن لڑکی کی شادی پنجاب میں طے ہوئی ہے اور اس کی شادی کی تیاری کی جارہی ہے۔ اطلاع ملنے پر ڈائریکٹوریٹ آف ہیومن رائٹس نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چائلڈ پروٹیکشن کمیشن اور پھندو پولیس کو آگاہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے: مردان: پولیس اہلکار نے بھائی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے زیرِحراست ملزم کو فائرنگ کرکے قتل کردیا
پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے اہلکاروں نے شفتل بانڈہ میں کارروائی کرتے ہوئے کومل نامی بچی کو تحویل میں لیا، جس کے بعد اسے پشاور کے زمونگ کور گرلز سیکشن منتقل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق بچی کو فی الحال متعلقہ ادارے نے حفاظتی تحویل میں رکھا ہے اور اسے آج چائلڈ پروٹیکشن کورٹ میں پیش کیا جائے گا، جہاں عدالت معاملے کا جائزہ لے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کمسن لڑکی کے خاندان کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی کیونکہ لڑکی کی صرف شادی طے ہوئی تھی اور گھر میں شادی کی تقریب منعقد نہیں ہورہی تھی۔ عدالتی فیصلے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ملک میں نافذ نئے قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی پر پابندی عائد ہے۔
