افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مغربی علاقے دشتِ برچی میں ایک اسکول میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 42 بچے زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق زخمی ہونے والے بچوں کی عمریں 9 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کرم کے آپریشن متاثرین کو کئی ماہ بعد بھی معاوضہ نہ ملا، جرگے میں حکام سے کیا مطالبہ کیا گیا؟
افغانستان کے ڈائریکٹوریٹ آف مائن ایکشن کوآرڈینیشن کے مطابق پیر کی دوپہر اسکول میں ایک دستی بم پھٹا، جس کے نتیجے میں درجنوں بچے زخمی ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے افغانستان میں انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینٹ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’گھناؤنا حملہ‘‘ قرار دیا۔
ایک مقامی خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب بچوں کو اسکول سے چھٹی دی جا رہی تھی۔ سکیورٹی خدشات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے والی خاتون کے مطابق دھماکے کے بعد اتنے زیادہ افراد زخمی ہوئے کہ وہ انہیں گن بھی نہیں سکیں۔
نجی پرائمری اسکول نے اپنے فیس بک پیج پر زخمیوں کے لیے دعا کی اپیل کی، تاہم واقعے سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں کئی دہائیوں کی جنگ کے باعث جنگی دھماکا خیز مواد اب بھی موجود ہے۔ افغانستان ایسے مواد سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح کے اعتبار سے دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔
دشتِ برچی میں اس سے پہلے بھی کئی ہلاکت خیز دھماکے ہوچکے ہیں۔ 2021 میں لڑکیوں کے ایک اسکول کے باہر کار بم دھماکے میں 90 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
