زالان آفریدی
قبائلی اضلاع پولیس کا مطالبات کے حق میں تاریخی باب خیبر دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا۔ پہلے مرحلے میں پولیو مہم کی سکیورٹی سے بائیکاٹ کا اعلان سمیت وردی پہننے پر پابندی کا اعلان کر دیا گیا، جبکہ اگلے مرحلے میں ڈی پی اوز کے دفاتر کو تالے لگا دیے جائیں گے۔
آل فاٹا پولیس کے چیئرمین سید جلال وزیر نے جمرود میں جاری احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع پولیس کے ساتھ مخلص نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کی سہ ملکی ون ڈے سیریز کا شیڈول سامنے آگیا
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور پولیس کے درمیان ہونے والے معاہدے کو حتمی شکل دی جائے اور اہلکاروں کے مسائل فوری حل کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ 22 نکات پر الیون کور میں ایپکس کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ہمارے سارے مطالبات تسلیم کیے گئے تھے، لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔
سید جلال نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حلقے میں کئی دنوں سے پولیس اہلکار وردیوں میں سراپا احتجاج ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اگر دو دن کے اندر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تمام قبائلی اضلاع میں پولیو مہم کے دوران سکیورٹی فراہم کرنے سے بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وردی پہننے پر پابندی ہوگی، پولیس اہلکار پینٹ شرٹ اتار کر سابقہ خاصہ دار فورس کی وردی پہنیں گے اور اپنی قوم کے پاس جائیں گے۔
سید جلال کے مطابق احتجاج کے اگلے مرحلے میں ضم اضلاع کے ڈی پی او دفاتر کو تالے لگانے کا اقدام بھی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قومی مشران بھی پولیس اہلکاروں کے مطالبات کے حق میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے کر ضم اضلاع پولیس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو عملی شکل دی جائے تاکہ احتجاج مزید شدت اختیار نہ کرے۔
