باجوڑ: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں معمولی تلخ کلامی کے بعد پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے باجوڑ کی تحصیل سلارزئی، گاؤں وربلی سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائی اور ان کے چچازاد بھائی کی میتیں آبائی علاقے پہنچا دی گئیں، جہاں ہفتے کے روز ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
تین میتیں ایک ساتھ آبائی گاؤں پہنچنے پر پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔
جاں بحق ہونے والوں میں احمد گل، محمد خان اور صدام حسین شامل ہیں۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ تینوں روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم تھے اور ایک ہی رہائشی ہجرے میں رہتے تھے۔ سعودی عرب میں ہجرہ عموماً ایسی جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں ایک ہی علاقے یا برادری سے تعلق رکھنے والے محنت کش کام کے بعد اکٹھے رہتے اور رات گزارتے ہیں۔
اہلِ خانہ کے مطابق تنازع اس شخص کے ساتھ تکرار سے شروع ہوا جو مقتولین کے ہجرے میں بطور مہمان آیا تھا۔ مذکورہ شخص کا دوسرے فریق کے ساتھ پہلے سے لین دین کا تنازع تھا۔ جب وہ ہجرے سے باہر نکلا تو ملزمان نے اسے روک کر تلخ کلامی اور تشدد شروع کر دیا۔
اہلِ خانہ کے مطابق مقتول محمد خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا مہمان ہے اور ہجرے کے سامنے اس کے ساتھ بدسلوکی مناسب نہیں۔ اس بات پر دونوں فریقین کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ مقتولین کے چچا کے مطابق اسی دوران صدام حسین وہاں پہنچا اور اپنے کزن محمد خان کو زخمی حالت میں دیکھ کر مداخلت کی، تاہم اس پر چاقو سے حملہ کیا گیا اور گردن پر وار کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اس کے بعد محمد خان کو بھی چھری کے پے در پے وار کرکے قتل کیا گیا۔ اپنے بھائی کو خون میں لت پت دیکھ کر احمد گل وہاں پہنچا تو اسے بھی سینے پر چاقو کے وار کرکے قتل کر دیا گیا۔
یوں چند ہی لمحوں میں معمولی تکرار کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے دو سگے بھائی اور ان کا چچازاد بھائی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
مقتولین کے چچا کے مطابق واقعے کے بعد نامزد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، جس کے بعد مقامی پولیس کو اطلاع دی گئی۔ اہلِ خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ نامزد ملزمان کی تعداد پانچ ہے، جن میں سے تین کے پاس مبینہ طور پر چھریاں تھیں جبکہ دو افراد نے مقتولین کو پکڑ رکھا تھا۔
ایک ہی گاؤں کے لوگ، مگر دیارِ غیر میں خونی تنازع
اہلِ خانہ کے مطابق دونوں فریقین کا تعلق باجوڑ کے ایک ہی گاؤں سے ہے اور وہ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے۔ مقتولین کے والد کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی میں دوسرے فریق کے خاندان کے افراد کی سعودی عرب میں رہائش اور روزگار کے سلسلے میں مدد بھی کی تھی، جس کے باعث موجودہ واقعے نے ان کے دکھ کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
مقتولین کے والد سعد گل کے مطابق صدام حسین کو سعودی عرب گئے ابھی صرف 15 روز ہوئے تھے۔ وہ روزگار کی تلاش میں دیارِ غیر پہنچا تھا، لیکن چند ہی دن بعد اس کی میت واپس آگئی۔
انہوں نے کہا کہ دو بیٹوں اور ایک بھتیجے کی موت نے انہیں زندگی کے مشکل ترین دور سے دوچار کر دیا ہے۔
سعد گل کے مطابق خاندان اور علاقے کے بعض افراد نے ملزمان کے گھروں کی مسماری کا مشورہ دیا، تاہم وہ کسی کو مزید تنازع میں نہیں دھکیلنا چاہتے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ سعودی عرب میں موجود قانون نافذ کرنے والے ادارے نامزد ملزمان کو گرفتار کرکےقانون کے مطابق سزا دیں۔

تین جنازے، ایک ہی قبرستان اور پورا علاقہ سوگوار
سعودی عرب سے اسلام آباد اور وہاں سے میتیں باجوڑ کی تحصیل سلارزئی کے گاؤں وربلی پہنچیں تو غمزدہ خاندانوں کے ساتھ پورا علاقہ بھی سوگ میں ڈوب گیا۔
ہفتے کے روز عصر کے وقت تینوں مرحومین کی نمازِ جنازہ آبائی گاؤں کے قبرستان میں ادا کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں اہلِ علاقہ نے شرکت کی۔
روزگار کی تلاش میں گھر سے ہزاروں میل دور جانے والے ان نوجوانوں کے خاندان اب اپنے پیاروں کی واپسی کے بجائے ان کی میتیں وصول کر رہے ہیں۔
اہلِ علاقہ اور متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ واقعے کی اصل حقیقت، ذمہ داروں کا تعین اور قانونی کارروائی کا حتمی فیصلہ متعلقہ سعودی حکام کی تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
