محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبر پختونخوا میں پی وی سی ایکریڈیشن کارڈز کی پرنٹنگ کئی ماہ سے بند ہے، جس کے باعث صوبے بھر کے سینکڑوں صحافی ایکریڈیشن کارڈز کے حصول میں مشکلات کا شکار ہیں۔

 

محکمہ اطلاعات کے مطابق پی وی سی کارڈ پرنٹر کا ٹونر کئی ماہ قبل ختم ہو گیا تھا، تاہم تاحال نیا ٹونر خریدنے کے لیے بجٹ جاری نہیں کیا جا سکا۔ ٹونر کی مالیت تقریباً ایک لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: کبھی آٹے سے آزادی کی خوشیاں سجاتے تھے، آج اسی آٹے کی قیمت سوچتے ہیں

 

محکمہ اطلاعات کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے متعلق اعلیٰ حکام کو متعدد مرتبہ تحریری اور زبانی طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم مسئلہ حل نہ ہونے کے باعث ایکریڈیشن کارڈز کی پرنٹنگ کا عمل مکمل طور پر معطل ہے۔

 

ایکریڈیشن کارڈز کے حصول کے لیے صحافیوں کو بار بار رجسٹرار آفس کے چکر لگانے پڑ رہے ہیں، جہاں انہیں تاحال کارڈز کی پرنٹنگ شروع نہ ہونے کے باعث مایوسی کا سامنا ہے۔

 

صحافی حلقوں نے ایکریڈیشن کارڈ کی پرنٹنگ میں کئی ماہ کی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایکریڈیشن کارڈ صحافیوں کے لیے محض شناختی دستاویز نہیں بلکہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے اہم ضرورت ہے۔

 

صحافی برادری نے وزیر اطلاعات شفیع جان اور سیکرٹری اطلاعات مطیع اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مطلوبہ فنڈز جاری کیے جائیں اور ٹونر کی خریداری یقینی بنا کر ایکریڈیشن کارڈز کی پرنٹنگ بحال کی جائے۔