خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کو صوبے کے حصے سے 6.4 ارب روپے کاٹنے کا اختیار نہیں، صوبائی حکومت نے مجوزہ کٹوتی کی نہ منظوری دی اور نہ ہی اس سے اتفاق کیا ہے۔

 

5 اگست کو وفاقی وزارت خزانہ نے جولائی کی وفاقی مالیاتی منتقلی میں خیبر پختونخوا کو واجب الادا رقم سے 6.4 ارب روپے کی براہ راست کٹوتی کی تجویز دی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کو واپس لانے کا نیا منصوبہ تیار

 

سہیل آفریدی کے مطابق محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا نے 13 اگست کے خط میں مجوزہ کٹوتی پر صوبائی حکومت کی عدم رضامندی واضح کردی ہے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران کو صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر 6.4 ارب روپے کی کٹوتی یا اس حوالے سے کوئی کارروائی نہ کرنے کی تحریری ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

 

اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی صوبائی حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر اس حوالے سے کوئی لین دین درج یا نافذ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

وزیر اعلیٰ کے مطابق وفاقی حکومت نے بجٹ سے قبل دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا سے بھی اضافی رقم کا تقاضا کیا تھا۔ ایف بی آر کا 15,260 ارب روپے کا ہدف حاصل ہونے کی صورت میں خیبر پختونخوا کا حصہ تقریباً 175 ارب روپے بنتا تھا۔

 

اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا گیا تھا۔ ضم شدہ اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں آئینی اور جائز حصہ دینا بھی صوبائی حکومت کی شرط تھی۔

 

سہیل آفریدی کے مطابق وفاق نے چھ ماہ میں ضم شدہ اضلاع کو جائز حصہ دینے کی شرط تسلیم کرکے اسے این ایف سی کی کارروائی کا حصہ بنا دیا تھا۔ چھ ماہ میں جائز حصہ نہ ملنے کی صورت میں 7ویں این ایف سی کے تحت سمری اور آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

 

بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے کے باعث خیبر پختونخوا نے اضافی رقم سے متعلق مفاہمتی یادداشت نہ منظور کی اور نہ ہی اس پر دستخط کیے۔

 

اسی اصول کے تحت مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی اضافی رقم بھی شامل نہیں کی گئی۔ وفاق کی جانب سے گردش کرنے والی مفاہمتی یادداشت نہ صوبائی کابینہ نے منظور کی اور نہ صوبائی حکومت نے اس پر دستخط کیے، جبکہ بجٹ میں بھی اس انتظام کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

 

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے آئینی اور مالیاتی حق کا معاملہ ہے۔ محکمہ خزانہ کے مطابق آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبے کی واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا۔

 

صوبے کے مالیاتی حق میں کٹوتی کے لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے۔

 

سہیل آفریدی کے مطابق ان کی ہدایت پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کے متعلقہ افسران سے فوری ملاقات کی اور صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر 6.4 ارب روپے کی کٹوتی نہ کرنے کی تحریری ہدایات جاری کی گئیں۔

 

خیبر پختونخوا حکومت قومی مالیاتی کمیشن کے آئینی حق کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست دائر کرچکی ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے آئینی، مالیاتی اور قومی مالیاتی کمیشن کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ وفاق کو غیر منظور شدہ اور غیر دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کی بنیاد پر صوبے کے حصے سے رقم کاٹنے کا اختیار نہیں۔

 

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر قانونی، آئینی اور ادارہ جاتی راستہ اختیار کرے گا اور صوبے کے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کرے گا۔