خیبر پختونخوا میں سکول سے باہر بچوں کی درست تعداد اور ان کے مقامات معلوم کرنے کے لیے گھر گھر جامع سروے کرانے اور ’’ون میپ‘‘ نظام تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں 60 فیصد بچوں کو فوری طور پر سکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی موجودگی میں سکول سے باہر بچوں کو سکولوں میں واپس لانے کے لیے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم، محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق خیبر پختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 49 لاکھ بچے ہیں، جبکہ محکمہ تعلیم کے مطابق 26 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔
یہ بھی پڑھیے: ایک دن، 27 حادثات اور درجنوں زخمی، خیبرپختونخوا میں یومِ آزادی کی صورتحال کیا رہی؟
چاروں محکمے مشترکہ حکمت عملی کے تحت سکول سے باہر بچوں کی نشاندہی اور انہیں تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے کام کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ’’ون میپ‘‘ نظام کے ذریعے بچوں کی تعداد، مقامات اور ضروریات کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا۔
بریفنگ کے مطابق بچوں کو سکولوں میں واپس لانے کے لیے سرکاری سکولوں، ڈبل شفٹ، کمیونٹی سکولز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی شعبے کے تعاون سے استفادہ کیا جائے گا۔
غربت کے باعث سکول چھوڑنے والے بچوں کو وظائف، زکوٰۃ اور دیگر سماجی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ وظائف کی ادائیگی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی۔
14 سے 16 سال کے نوجوانوں کو اقوام متحدہ کے پروگرام ’’جنریشن ان لمیٹڈ‘‘ کے تحت فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔
منصوبے کے تحت 0 سے 5 سال تک کے بچوں کا ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں سکولوں کی منصوبہ بندی بہتر انداز میں کی جا سکے۔
منصوبے کی نگرانی کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر سٹیئرنگ کمیٹیاں قائم کی جائیں گی، جبکہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے ایک آزاد ادارہ سروے کیے گئے ڈیٹا کے 5 فیصد حصے کی تصدیق کرے گا۔
