14 اگست پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جب ایک قوم نے آزادی کا خواب حقیقت بنتے دیکھا۔ یہ دن صرف سبز ہلالی پرچم لہرانے، قومی نغمے سننے یا تقریبات میں شرکت کرنے کا نام نہیں، بلکہ ہماری یادوں، جذبات اور اُن چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی جڑا ہے جو بچپن سے ہمارے دلوں میں محفوظ رہتی ہیں۔
ہر سال 14 اگست آتی ہے تو گلیاں، بازار اور گھر سبز و سفید رنگوں سے سج جاتے ہیں۔ بچے جھنڈیاں خریدتے ہیں، گھروں پر پرچم لہرائے جاتے ہیں اور ہر طرف جشن کا ماحول نظر آتا ہے۔ لیکن آزادی کے دن سے جڑی ہر شخص کی اپنی کوئی نہ کوئی یاد ضرور ہوتی ہے۔ میری ایک ایسی ہی خوبصورت یاد جھنڈیوں اور آٹے سے وابستہ ہے۔

بچپن میں 14 اگست ہمارے لیے صرف ایک قومی دن نہیں، خوشیوں کا ایک تہوار ہوا کرتا تھا۔ ہم کئی دن پہلے ہی تیاری شروع کر دیتے تھے۔ رنگین کاغذ خریدے جاتے، چھوٹی چھوٹی جھنڈیاں بنائی جاتیں اور پھر انہیں دیواروں، دروازوں اور کھڑکیوں پر سجانے کا مرحلہ آتا۔
یہ بھی پڑھیے: پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کی نرس کی مبینہ خودکشی
اُس زمانے میں ہمارے گھر میں گوند یا ٹیپ ہر وقت موجود نہیں ہوتی تھی، اس لیے ہم امی سے تھوڑا سا آٹا مانگ لیا کرتے تھے۔ امی مسکرا کر تھوڑا سا آٹا دے دیتیں اور ہم بڑے شوق سے اسی کی مدد سے جھنڈیاں دیواروں پر چپکا دیتے۔
کبھی ہم بہن بھائی مل کر گھر سجاتے، کبھی امی اور ابو بھی ہمارے ساتھ شامل ہوجاتے۔ اُس وقت یہ سب ہمارے لیے محض ایک کھیل اور خوشی کا حصہ تھا۔
ہمیں کیا معلوم تھا کہ جس آٹے کو ہم اتنی بے فکری سے جھنڈیاں لگانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، ایک وقت آئے گا جب وہ بھی گھر کے بجٹ میں خاص اہمیت اختیار کرلے گا۔

کبھی کبھی تو گوندھے ہوئے آٹے میں سے ایک چھوٹا سا پیڑا نکال کر ہم اس سے کھیلنے لگتے تھے۔ ہاتھوں سے مختلف شکلیں بناتے، ایک دوسرے کو دکھاتے اور ہنستے رہتے۔ اُس وقت نہ مہنگائی کا احساس تھا، نہ گھر کے اخراجات کی فکر اور نہ ہی مستقبل کی کوئی پریشانی۔ بس ایک سادہ سا بچپن تھا، جس میں چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی بڑی خوشی دے دیتی تھیں۔
پھر وقت گزرتا گیا۔ بچپن پیچھے رہ گیا اور زندگی نے ہمیں اُن حقیقتوں سے آشنا کردیا جن کا اُس وقت ہمیں اندازہ بھی نہیں تھا۔
آج 14 اگست آتی ہے تو جھنڈیاں اب بھی اچھی لگتی ہیں، قومی نغمے آج بھی دل کو خوش کرتے ہیں اور سبز و سفید رنگ آج بھی ماحول کو خوبصورت بنا دیتے ہیں، لیکن ان خوشیوں کے ساتھ زندگی کی حقیقتوں کا احساس بھی پہلے سے زیادہ گہرا ہوگیا ہے۔
آج وہی بچے، جو کبھی امی سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر جھنڈیاں لگایا کرتے تھے، زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صبح سے شام تک محنت کر رہے ہیں۔ کوئی ملازمت کررہا ہے، کوئی کاروبار سے وابستہ ہے، کوئی مزدوری کررہا ہے اور کوئی بہتر مستقبل کی تلاش میں دن رات کوشش کررہا ہے۔

اب محنت صرف اپنی خواہشیں پوری کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ گھر کا کرایہ، بجلی کا بل، بچوں کی تعلیم، علاج، راشن اور روزمرہ کی دیگر ضروریات بھی اسی محنت سے پوری کرنی ہوتی ہیں۔ والدین کا سہارا بننے اور اپنے بچوں کے لیے بہتر مستقبل بنانے کی ذمہ داری بھی اسی نسل کے کندھوں پر ہے۔
اسی لیے آج آٹا صرف باورچی خانے میں رکھی ایک عام چیز نہیں رہا، بلکہ بہت سے گھرانوں کے ماہانہ بجٹ کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
آج اگر کوئی بچہ گوندھے ہوئے آٹے میں سے کھیلنے کے لیے ایک چھوٹا سا پیڑا نکال لے تو شاید ماں فوراً کہے:“بیٹا، آٹا ضائع نہ کرو۔”
یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک ماں کی فکر، گھر کا محدود بجٹ اور موجودہ معاشی حالات کی پوری کہانی چھپی ہوتی ہے۔
مہنگائی نے صرف اشیا کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، اس نے ہماری زندگی گزارنے کا انداز بھی بدل دیا ہے۔ اب بازار جاتے ہوئے خواہش سے پہلے ضرورت دیکھی جاتی ہے۔

کوئی چیز خریدنے سے پہلے اس کی قیمت پر غور کیا جاتا ہے اور کئی خواہشیں صرف اس لیے مؤخر کردی جاتی ہیں کہ گھر کی بنیادی ضروریات زیادہ اہم ہوتی ہیں۔
ایک ماں گھر کا خرچ پورا کرنے کے لیے حساب لگاتی ہے، ایک باپ بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اضافی محنت کرتا ہے اور نوجوان نسل اپنے مستقبل کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان کی ذمہ داریاں بھی اٹھا رہی ہے۔
کیا آزادی صرف یہ ہے کہ ہم گھروں پر سبز ہلالی پرچم لہرائیں، قومی نغمے سنیں اور سڑکوں پر جشن منائیں؟ یا آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہر بچے کو تعلیم کا حق ملے، ہر نوجوان کو باعزت روزگار کا موقع ملے، ہر خاندان بنیادی ضروریات آسانی سے پوری کرسکے اور کسی ماں کو آٹے کے ایک پیڑے کے ضائع ہونے پر بھی فکر مند نہ ہونا پڑے؟
شاید آزادی کی اصل خوبصورتی تب ہے جب اس کے ثمرات عام آدمی کی زندگی میں بھی نظر آئیں۔

ہمیں 14 اگست پر جشن ضرور منانا چاہیے۔ گھروں پر پرچم لگانے چاہئیں، بچوں کو جھنڈیاں دینی چاہئیں اور انہیں اس دن کی تاریخ بھی بتانی چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ اُن لوگوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جو جشن کے دن بھی اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے کام کررہے ہوتے ہیں۔
وہ مزدور جو چھٹی کے دن بھی روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے، وہ دکاندار جو تہوار کے دن بھی دکان کھولے بیٹھا ہے، وہ ڈرائیور جو لوگوں کو ان کی منزل تک پہنچا رہا ہے اور وہ والدین جو اپنی خواہشوں سے پہلے بچوں کی ضروریات کو ترجیح دیتے ہیں، یہ سب بھی ہماری آزادی کی کہانی کا حصہ ہیں۔
14 اگست ہمیں اپنے ماضی کو یاد کرنے کے ساتھ اپنے حال کو سمجھنے اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ آزادی ہمیں صرف ایک ملک نہیں دیتی، بلکہ اس ملک کو بہتر بنانے کی ذمہ داری بھی دیتی ہے۔
آج جب ہم سبز ہلالی پرچم دیکھیں تو شاید اپنے بچپن کو بھی یاد کریں۔ اُس وقت کو یاد کریں جب امی سے مانگا ہوا تھوڑا سا آٹا ہمارے لیے جھنڈیاں لگانے کا ذریعہ بن جاتا تھا۔ اُن والدین کو بھی یاد کریں جنہوں نے ہماری چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے اپنی بہت سی ضرورتیں پیچھے رکھ دیں۔

کبھی جس آٹے سے ہم آزادی کی خوشیاں سجایا کرتے تھے، آج اسی آٹے سمیت زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہماری پوری نسل محنت کررہی ہے۔
وقت بدل گیا، حالات بدل گئے، مگر بچپن کی وہ یاد آج بھی دل میں زندہ ہے۔
شاید یہی یاد ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ خوشیاں صرف مہنگی چیزوں میں نہیں ہوتیں۔ کبھی ایک چھوٹا سا آٹے کا پیڑا، چند جھنڈیاں اور والدین کا ساتھ بھی بچپن کی سب سے بڑی خوشی بن جاتا ہے۔
اور شاید آزادی کا ایک خوبصورت مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اُن سادہ خوشیوں کو محفوظ رکھیں، اُن لوگوں کی قدر کریں جو ہمارے لیے قربانیاں دیتے ہیں اور ایسا معاشرہ بنانے کی کوشش کریں جہاں آنے والے بچوں کو اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے بنیادی ضروریات کی فکر نہ کرنی پڑے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
