پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) انتظامیہ نے سابق ڈاکٹر محمد آصف شاہ کی سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر آصف شاہ نے حقائق چھپا کر من گھڑت کہانی پیش کی۔
ایچ ایم سی انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹر محمد آصف شاہ نے ابتدا میں تین ماہ کی چھٹی کی درخواست دی تھی، جو منظور کرلی گئی، تاہم چھٹی کی مدت مکمل ہونے کے بعد انہوں نے سرکاری ڈیوٹی دوبارہ جوائن نہیں کی اور مسلسل غیر حاضر رہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کے دوران ڈاکٹر آصف شاہ نجی کلینک میں مریضوں کا معائنہ کرتے رہے جبکہ نجی کلینک کی تشہیری ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں۔
ایچ ایم سی کے مطابق ڈاکٹر آصف شاہ کو متعدد سرکاری مراسلوں کے ذریعے ڈیوٹی پر واپس آنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ بورڈ آف گورنرز نے بھی ان کا مؤقف سنا اور انہیں سرکاری ڈیوٹی دوبارہ جوائن کرنے کی ہدایت کی۔
انتظامیہ کے مطابق بورڈ آف گورنرز کے سامنے ڈاکٹر آصف شاہ نے نجی کلینک جانے کا اعتراف بھی کیا، جس کے بعد ان کی غیرحاضری کی مدت کو بغیر تنخواہ چھٹی کے طور پر ایڈجسٹ کیا گیا۔
ایچ ایم سی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر آصف شاہ کو دو مرتبہ ذاتی سماعت کے لیے طلب کیا گیا، تاہم وہ پیش نہیں ہوئے۔
انتظامیہ کے مطابق مسلسل غیرحاضری اور فرائض میں غفلت پر متعلقہ قوانین و ضوابط کے تحت کارروائی کی گئی اور ڈاکٹر محمد آصف شاہ کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر آصف شاہ کی برطرفی سے متعلق تمام معاملات سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہیں، قوانین و ضوابط کی پابندی تمام ملازمین، بشمول ڈاکٹرز، پر لازم ہے۔
انتظامیہ نے مزید کہا کہ ڈاکٹر آصف شاہ اب سوشل میڈیا پر خود کو مظلوم ظاہر کرکے حقائق مسخ کر رہے ہیں، جبکہ ان کے خلاف کارروائی سرکاری ڈیوٹی سے مسلسل غیرحاضری اور نجی کلینک میں کام کرنے کے معاملے پر کی گئی۔
یاد رہے کہ پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے معروف پلاسٹک سرجن پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف شاہ نے سوشل میڈیا پر ویڈیو جاری کی تھی۔
ویڈیو میں ڈاکٹر آصف شاہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ہسپتال انتظامیہ نے انہیں بغیر کسی وجہ کے عہدے سے برطرف کردیا۔
ڈاکٹر آصف شاہ نے اپنی ویڈیو میں برطرفی کے اقدام پر سوالات اٹھاتے ہوئے اپنا مؤقف پیش کیا تھا۔
