ملک بھر کی طرح نوشہرہ سمیت خیبرپختونخوا میں بھی گڈز ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال چوتھے روز بھی جاری ہے، جبکہ اٹک خیرآباد پل، رشکئی انٹرچینج اور تاروجبہ میں ٹرانسپورٹرز نے دھرنے دے رکھے ہیں۔ احتجاج کے باعث شاہراہوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔

 

آل کے پی کے گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر سکندر خان کا کہنا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رہے گی۔

 

یہ بھی پڑھیے: شانگلہ یا کان کنوں کا قبرستان؟

 

انہوں نے کہا کہ مہنگائی، ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل، ٹول ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں میں اضافے نے گڈز ٹرانسپورٹرز کو شدید مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔ ان کے مطابق ڈرائیوروں کو مبینہ طور پر رشوت نہ دینے پر ہراساں کیا جاتا ہے۔

 

احتجاج کے دوران ہڑتال کی خلاف ورزی کرنے والے درجنوں ٹرکوں کے ٹائروں سے ہوا نکال دی گئی، جبکہ بعض ٹرکوں سے سامان سڑک پر پھینکے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین نے حکومت کے اقدامات کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

 

 

صوبائی جنرل سیکرٹری آل کے پی کے گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن حاجی اطلس خان کے مطابق حکومت کے سامنے متعدد مطالبات رکھے گئے ہیں، جن میں ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ردوبدل کا خاتمہ، ٹول ٹیکس کو 30 جون 2024 کے شیڈول پر واپس لانا، ودہولڈنگ ٹیکس 2 فیصد کرنا اور ٹوکن، پرمٹ و فٹنس ٹیکس میں حالیہ اضافہ واپس لینا شامل ہیں۔

 

انہوں نے موٹروے اور ٹریفک پولیس کے مبینہ غیر منصفانہ رویے، اوور لوڈنگ پر عائد بھاری جرمانوں اور کسٹم، ایف بی آر و ایکسائز کی چیکنگ کے نام پر ٹرانسپورٹرز کو مبینہ ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

 

ٹرانسپورٹرز کے مطابق تمام مال بردار گاڑیاں صرف کارخانوں اور بندرگاہوں پر ان لوڈنگ کریں گی، جبکہ بندرگاہوں اور فیکٹریوں سے امپورٹ و ایکسپورٹ کنٹینرز کی لوڈنگ مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے۔

 

 

حاجی اطلس خان نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کے اگلے مرحلے میں ملک بھر کی شاہراہیں بند کی جائیں گی۔ کراچی سے خیبر تک ٹرانسپورٹرز اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں گے اور اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے، جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔