زمین کے اندھیروں میں اترنے والے کان کنوں کے لیے ہر دن ایک نئی آزمائش ہوتا ہے۔ چند ہزار روپے کی روزی کمانے کے لیے یہ مزدور سینکڑوں اور ہزاروں فٹ گہرائی میں اترتے ہیں، جہاں ایک طرف گھر کے چولہے جلانے کی امید ہوتی ہے تو دوسری طرف زندگی کے خاتمے کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ کوئلہ کان کنی کو دنیا کے مشکل ترین اور خطرناک پیشوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ معمولی غفلت بھی بڑے سانحے کا سبب بنتی ہے۔
گزشتہ دنوں بلوچستان کے کوئٹہ کے نواحی علاقے سوررنج میں سردار عثمان جگیزئی کول کمپنی کی کوئلے کی کان میں پیش آنے والے حادثے نے ایک بار پھر کان کنوں کو درپیش خطرات اور ان کے خاندانوں کی مشکلات کو سامنے لا دیا۔
انتظامیہ کے مطابق کان میں گیس بھرنے کے باعث دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں متعدد کان کن جاں بحق ہوئے۔ اس حادثے میں شانگلہ سے تعلق رکھنے والے 36 نوجوان جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر ایسے مزدور شامل تھے جو روزگار کی تلاش میں اپنے گھروں سے دور بلوچستان کی کانوں میں کام کر رہے تھے۔

شانگلہ کے کئی گھروں میں اس حادثے کے بعد خوشیوں کی جگہ ماتم نے لے لی۔ میاں کلے سمیت کئی علاقوں میں اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کرنے والی آنکھوں کے سامنے تابوت پہنچے۔ مقامی افراد کے مطابق شانگلہ میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کوئلے کی کانوں کا رخ کرتی ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ شانگلہ میں روزگار کے مواقع انتہائی محدود ہیں، اسی وجہ سے کئی نوجوان میٹرک یا ایف اے، ایف ایس سی کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے بجائے بلوچستان کی کانوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق شانگلہ کے تقریباً 80 فیصد نوجوان کان کنی سے وابستہ ہیں۔
شانگلہ کے علاقے میاں کلے کے رہائشیوں کے مطابق یہ علاقہ طویل عرصے سے کان کنوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہاں کے کئی نوجوان برسوں سے بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں کام کرتے آئے ہیں اور مختلف حادثات میں متعدد خاندان اپنے کفیل کھو چکے ہیں۔ ان کے مطابق میاں کلے میں کوئلہ کان کنوں کی 500 سے زائد بیوائیں موجود ہیں جبکہ سینکڑوں بچے یتیم ہو چکے ہیں۔
حالیہ حادثے نے میاں کلے کے کئی خاندانوں کو متاثر کیا۔ جاں بحق ہونے والے 24 نوجوانوں کا تعلق بھی میاں کلے سے ہے۔ بعض گھروں میں ایک سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔ دو خاندانوں میں چار، چار افراد جبکہ ایک گھر کے تین بھائی بھی کوئلے کی کان کے حادثے میں جان کی بازی ہار گئے۔ یہ اموات صرف چند خاندانوں کا نقصان نہیں بلکہ پورے میاں کلے گاؤں کے لیے ایک اجتماعی صدمہ بن گئیں۔
حادثے میں جاں بحق ہونے والے 17 سالہ سفیان کی کہانی بھی کئی سوالات چھوڑ گئی۔ اہلِ خانہ کے مطابق سفیان اپنے خاندان کا واحد کفیل تھا۔ میٹرک کے بعد اس نے بلوچستان کی کوئلے کی کان میں کام شروع کیا تھا۔ اس سے قبل وہ سلائی کا کام کرتا تھا، لیکن اس سے گھر کے اخراجات پورے نہیں ہو پاتے تھے۔ والد کی خراب ذہنی صحت کے باعث گھر کی ذمہ داری بھی اس کے کندھوں پر تھی، اسی مجبوری میں وہ گزشتہ ماہ بلوچستان گیا تھا۔

اہلِ خانہ نے کہا ہے کہ حادثے والے دن سفیان شانگلہ واپس آنے کی تیاری کر رہا تھا تاکہ اپنے میٹرک کے نتیجے کے بارے میں معلوم کر سکے، مگر اس سے پہلے ہی اس کی موت کی خبر گھر پہنچ گئی۔ ایک کم عمر نوجوان، جس کے سامنے تعلیم، روزگار اور مستقبل کے خواب تھے، اپنے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھاتے ہوئے خود ہی دنیا سے چلا گیا۔
اسی حادثے میں شبیر بھی جاں بحق ہوا، جس نے حال ہی میں میٹرک کا امتحان دیا تھا۔ اس کے خاندان کے لیے بھی امتحان کے نتیجے کا انتظار ایک ایسے غم میں بدل گیا جس کا شاید کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
رفیق نامی نوجوان کی موت نے بھی کئی دلوں کو توڑ دیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق اس کی شادی کو صرف 15 دن ہوئے تھے۔ اس کی شادی بھی اس کی غیر موجودگی میں ہوئی تھی۔ وہ اپنی نئی زندگی کے آغاز کے خواب لیے روزگار کے لیے گیا تھا اور حادثے والے دن اپنی دلہن سے ملنے گھر واپس آنے والا تھا، لیکن اس کے گھر میں خوشیوں کے بجائے اس کا جنازہ پہنچا۔
اسی دوران گزشتہ رات شاہرگ، ہرنائی بلوچستان میں جاں بحق ہونے والے ایک اور کوئلہ کان کن کی میت بھی شانگلہ لائی گئی۔ اس کے پانچ بچے ہیں، جن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔ دونوں بیٹوں میں ایک کی عمر 8 سال جبکہ دوسرے کی عمر 2 سال ہے۔ ایک اور خاندان کے لیے روزگار کی تلاش میں بلوچستان جانے والا شخص اب واپس تو آیا، مگر زندہ نہیں۔
حادثے کے بعد لاشوں کی منتقلی کے حوالے سے بھی متاثرہ خاندانوں اور مقامی افراد نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ بعض لواحقین اور مقامی افراد کے مطابق انہیں اپنے پیاروں کی میتیں منتقل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ایمبولینس کی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شدید گرمی میں انہیں طویل سفر کے دوران اپنے پیاروں کی میتیں اپنی مدد آپ کے تحت منتقل کرنا پڑیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ میتیں فلائنگ کوچ کی چھت پر رکھ کر شانگلہ لائی گئیں۔ متاثرہ خاندانوں نے اس صورتحال پر دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پیاروں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں ہونا چاہیے تھا۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ نہ بلوچستان حکومت اور نہ ہی خیبرپختونخوا حکومت نے انہیں مطلوبہ مدد فراہم کی اور ایمبولینس تک فراہم نہیں کی گئی، جس کے بعد انہیں اپنی مدد آپ کے تحت میتیں طویل سفر طے کرکے شانگلہ لانا پڑیں۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ حکومت نے ان کے شہداء کی توہین کی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق، “کان کنوں کی محنت سے ملک کی صنعتیں چلتی ہیں، لیکن اس کے باوجود حکومت نے ان کی میتیں گھروں تک پہنچانے کے لیے ایمبولینس فراہم نہیں کی۔”
دوسری جانب شانگلہ کے ایک متاثرہ خاندان سے تعلق رکھنے والی فاطمہ (فرضی نام) کے مطابق ان کے شوہر پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا شکار تھے۔ ان کے پانچ بچے ہیں، جن میں چار بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہے، جبکہ بڑی بیٹی کی عمر 12 سال ہے۔
فاطمہ کے مطابق، “میرے شوہر بے روزگار تھے اور قرض میں ڈوبے ہوئے تھے۔ لوگ قرض واپس کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے۔ اسی مجبوری میں انہوں نے کان میں کام شروع کیا۔ گزشتہ سال وہ کوئلے کی کان میں جان کی بازی ہار گئے۔ حکومت کی طرف سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملی۔ میرے شوہر نے صرف ایک ماہ کان میں کام کیا تھا۔ کچھ قرض خواہوں نے قرض معاف کر دیا، لیکن کچھ قرض ابھی باقی ہیں، جو ہمیں ادا کرنے ہوں گے۔”
شانگلہ کے ایک مزدور محمد کے مطابق کانوں میں کام کرنے والے کئی مزدور مناسب حفاظتی سہولیات سے محروم ہیں۔

محمد کا کہنا ہے، “ہمیں مکمل حفاظتی سامان فراہم نہیں کیا جاتا۔ دستانے، حفاظتی جوتے اور دوسری ضروری چیزیں موجود نہیں ہوتیں۔ ہیلمٹ بھی کئی مزدور خود استعمال کرتے ہیں، وہ بھی اس لیے کہ اس پر ٹارچ لگا کر روشنی حاصل کی جا سکے۔ کئی جگہوں پر تربیت کا مناسب انتظام بھی نہیں ہوتا، حالانکہ کان میں کام کرنے کے لیے تجربہ اور مہارت بہت ضروری ہے۔”
ان کے مطابق زیادہ تر وہی لوگ کانوں کا رخ کرتے ہیں جو قرض میں ڈوبے ہوتے ہیں یا شدید غربت کا شکار ہوتے ہیں۔
شانگلہ کے کان کن اکبر خان (فرضی نام)، جو گزشتہ دس سال سے مختلف کوئلے کی کانوں میں کام کا تجربہ رکھتے ہیں، ان کے مطابق کان کنی میں مزدوری کام کی نوعیت، کان کی گہرائی اور خطرات کے حساب سے طے ہوتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایک مزدور روزانہ تقریباً آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے، جبکہ بعض اوقات حالات کے مطابق کام کا دورانیہ بڑھ بھی جاتا ہے۔ ان کے مطابق مزدوری تقریباً 2 ہزار سے 5 ہزار روپے روزانہ تک ہوتی ہے، تاہم یہ کان، ٹھیکے، کام کی نوعیت اور خطرات پر منحصر ہوتی ہے۔
اکبر خان کہتے ہیں کہ کئی مزدور زمین سے 1500 سے 2000 فٹ تک گہرائی میں کام کرتے ہیں، جبکہ بعض کانیں اس سے بھی زیادہ گہری ہوتی ہیں اور 4000 سے 5000 فٹ تک گہرائی میں واقع ہوتی ہیں۔
اکبر خان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں:
“کان میں کام صرف طاقت کا نہیں بلکہ تجربے اور احتیاط کا کام ہے۔ جو لوگ نئے آتے ہیں، انہیں مکمل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ چھوٹی سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ ہر کان میں ایک ایسا ذمہ دار شخص ہونا چاہیے جو مزدوروں کو باقاعدہ تربیت دے، خاص طور پر نوجوانوں کو، کیونکہ کئی لوگ بغیر تجربے کے صرف مجبوری کی وجہ سے اس کام میں آ جاتے ہیں۔”

اکبر خان حکومت سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ کان کنوں کے حقوق سے متعلق بنائے گئے قوانین اور ایکٹس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق حکومت کو کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی تربیت اور حفاظتی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے۔
“ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ گیس کی مقدار بڑھ جائے تو کام روکنا چاہیے، لیکن نئے آنے والے مزدور اکثر ان خطرات سے واقف نہیں ہوتے۔ حکومت اور کمپنیاں اگر تربیت کا نظام بہتر کریں تو حادثات کم ہو سکتے ہیں۔”
کوئلے کی کان میں کام کرنے والا مزدور صرف حادثات ہی کا سامنا نہیں کرتا بلکہ روزانہ کی بنیاد پر ایسے خطرات سے بھی گزرتا ہے جو وقت کے ساتھ اس کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ زیرِ زمین محدود جگہ، کوئلے اور معدنی دھول، زہریلی گیسیں، گرمی، نمی اور مسلسل جسمانی محنت کان کنوں کی زندگی کامشکل بنا دیتی ہے۔ “اکبر خان نے کہا”

کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے افراد میں پھیپھڑوں کی بیماریوں کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں حفاظتی انتظامات کمزور ہوں۔ یہ کہنا ہے سوات سے تعلق رکھنے والی چسٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر شاہین کا۔ وہ کہتی ہے کہ “کان کنوں میں بلیک لنگ ڈیزیز اور تپِ دق (TB) کا خطرہ عام آبادی کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں حفاظتی اقدامات ناکافی ہوں۔ مسلسل کوئلے، سلکا (Silica) اور دیگر معدنی دھول میں سانس لینے سے پھیپھڑوں کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے بلیک لنگ ڈیزیز پیدا ہوتی ہے۔ یہی دھول پھیپھڑوں کی قدرتی دفاعی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے، جس سے ٹی بی کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔”
ڈاکٹر شاہین کے مطابق اگر کانوں میں مناسب وینٹیلیشن، معیاری ماسک، باقاعدہ طبی معائنہ اور حفاظتی اصولوں پر عمل نہ کیا جائے تو یہ بیماریاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
وہ مزید کہتی ہیں، “1000 سے 2000 فٹ گہرائی میں روزانہ 8 سے 12 گھنٹے کام کرنا انسانی جسم پر شدید جسمانی اور ذہنی دباؤ ڈالتا ہے۔ ایسے ماحول میں آکسیجن کی کمی، دھول، گرمی، نمی اور محدود ہوا کی وجہ سے پھیپھڑوں، دل اور عضلات پر مسلسل بوجھ پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سانس کی دائمی بیماریاں، دل کے مسائل، جوڑوں اور کمر کے مسائل، سماعت میں کمی، ذہنی دباؤ اور شدید تھکن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔”

خیبرپختونخوا کی کانوں کے حوالے سے محکمہ معدنیات کی جانب سے حفاظتی نظام بہتر بنانے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ انسپکٹر آف مائنز مردان ڈویژن اور سینئر انسپکٹر آف مائنز ماہم وحید کے مطابق خیبرپختونخوا میں 3,482 کانیں موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر کانیں کے پی مائنز رجسٹریشن رولز 1996 (KP Mines Registration Rules, 1996) کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔
ماہم وحید کے مطابق کانوں میں حادثات کی بڑی وجوہات میں چھت کا گرنا، کان کی سائیڈ کا گرنا، میتھین گیس کا دھماکا، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے باعث دم گھٹنا، ڈھلوان کا بیٹھ جانا (Slope Failure)، دھماکہ خیز مواد کا استعمال، چٹانوں سے گرنا، بجلی کے حادثات اور مشینری کی خرابی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ محکمہ معدنیات نے نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیبرپختونخوا میں 18 انسپکٹرز تعینات کیے ہیں، جنہیں مختلف علاقوں کی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ یہ انسپکٹرز کانوں کا معائنہ کرتے ہیں، خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر نوٹس، جرمانے اور قانونی کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
ماہم وحید کے مطابق، "کانوں میں حادثات کم کرنے کے لیے معائنہ، قوانین پر عمل درآمد اور تربیت یافتہ افراد کی موجودگی بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر زیرِ زمین کانوں میں جدید طریقہ کار، تربیت اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔" تاہم حکومت کی جانب سے اس پر کام جاری ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ حادثے کی صورت میں کمشنریٹ آف مائنز کی جانب سے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے ڈیتھ گرانٹ جبکہ زخمی یا معذور ہونے والے مزدوروں کے لیے مستقل اور عارضی معذوری کی گرانٹس فراہم کی جاتی ہیں۔
ماہم وحید نے یہ بھی کہا کہ “فی الحال ہمارے پاس دوسرے ممالک کے مقابلے میں جدید مشینری موجود نہیں، تاہم مستقبل میں مشینری کی فراہمی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اور کان کنوں کے تحفظ کے لیے بھی کام جاری ہے۔”

دوسری جانب شانگلہ کے مقامی افراد حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر علاقے میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے جا سکتے تو نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کے مراکز قائم کیے جائیں، تاکہ وہ محفوظ شعبوں میں روزگار حاصل کر سکیں اور انہیں اپنی زندگی خطرے میں ڈال کر دور دراز علاقوں کی کوئلے کی کانوں میں مزدوری نہ کرنا پڑے۔ یا شانگلہ کے لوگوں کے لیے کان کنی کی مہارت سیکھنے کے مراکز قائم کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کو تحفظ ملے۔
کوئلے کی کانوں میں ہونے والے حادثات صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ان کے پیچھے خاندان، بچوں کے مستقبل اور خواتین کی مشکلات چھپی ہوتی ہیں۔ ہر تابوت کے ساتھ ایک خاندان کی امیدیں بھی واپس آتی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان مزدوروں کو صرف حادثے کے بعد یاد کیا جائے گا یا ان کی حفاظت کے لیے پہلے سے مؤثر اقدامات بھی کیے جائیں گے؟
شانگلہ کے وہ جوان جو اپنے گھروں کے لیے روزی کمانے نکلتے ہیں، ان کا حق صرف معاوضہ نہیں بلکہ ایک محفوظ، باعزت اور محفوظ روزگار بھی ہے۔
