خدیجہ یوسفی
پشاور کے تاریخی بورڈ بازار میں روایتی افغان ملبوسات اور گلدوزی کے کاروبار سے وابستہ افغان تاجروں کا کہنا ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے بعد ان کے کاروبار کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
ان کے مطابق نہ صرف فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے بلکہ آن لائن آرڈرز بھی متاثر ہوئے ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کرک: مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک شخص کون تھا؟ لواحقین کا احتجاج، انڈس ہائی وے بند
پشاور کے بورڈ بازار میں واقع اپنی دکان پر بیٹھے ذبیح اللہ گزشتہ دو دہائیوں سے روایتی افغان ملبوسات اور گلدوزی کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کی پیدائش پاکستان میں ہوئی، تاہم ان کا آبائی تعلق افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ہے اور وہ بچپن ہی سے یہیں مقیم ہیں۔

ذبیح اللہ 2003 سے یہ کاروبار کر رہے ہیں۔ ان کے بقول افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے بعد پہلی بار ان کا کاروبار اس قدر شدید بحران کا شکار ہوا ہے کہ دکان کی رونقیں ماند پڑ گئی ہیں۔
ذبیح اللہ کے مطابق ان کے تقریباً 85 سے 90 فیصد گاہک افغان شہری تھے، جبکہ باقی گاہک پاکستانی تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے روزانہ تقریباً 30 سوٹ تیار کیے جاتے تھے، تاہم افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے بعد کاروبار اس حد تک متاثر ہوا ہے کہ اب روزانہ پانچ سوٹ بھی تیار نہیں ہو پاتے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا کاروبار صرف دکان تک محدود نہیں تھا بلکہ آن لائن بھی اچھی فروخت ہوتی تھی، تاہم افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد آن لائن آرڈرز میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔
ان کے بقول جو افغان شہری واپس جا چکے ہیں، وہ تو چلے گئے، جبکہ جو اب بھی پاکستان میں موجود ہیں، وہ بھی خوف کے باعث بازار آنے سے گریز کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے کاروبار مزید متاثر ہو رہا ہے۔
ذبیح اللہ کا کہنا ہے کہ بورڈ بازار کے بیشتر دکانداروں نے اپنی دکانوں اور سامان پر لاکھوں روپے کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، اس لیے ان کے لیے کاروبار سمیٹنا آسان نہیں۔ ان کے مطابق کسی کے پاس 50 لاکھ، کسی کے پاس 60 لاکھ، جبکہ بعض تاجروں کے پاس ایک کروڑ روپے تک کا سامان موجود ہے، جس میں افغانستان سے لائی گئی روایتی کڑھائی، گلدوزی اور ملبوسات شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ان کے زیادہ تر گاہک افغان شہری تھے، تاہم پاکستانی نوجوان بھی یونیورسٹیوں، ثقافتی تقریبات، شادیوں اور دیگر فنکشنز کے لیے روایتی افغان لباس خریدتے اور سلوا کر پہنتے ہیں۔ اسی طرح بعض تعلیمی اداروں اور ثقافتی پروگراموں میں طالبات بھی افغان طرز کے ملبوسات کو ترجیح دیتی ہیں، جس کے باعث مقامی سطح پر بھی ان مصنوعات کی طلب برقرار ہے۔
ذبیح اللہ کے مطابق ان کی ورکشاپ میں مرد کاریگر گلدوزی اور سلائی کا کام انجام دیتے ہیں، جبکہ خواتین کاریگر وہاں کام نہیں کرتیں۔
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پشاور کے بورڈ بازار سے وابستہ روایتی دستکاری، گلدوزی اور ملبوسات کی صنعت کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے نہ صرف تاجروں بلکہ اس شعبے سے وابستہ کاریگروں کا روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب ایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان خان کا کہنا ہے کہ جن غیر ملکیوں کے ویزوں کی مدت ختم ہو چکی ہے یا جن کے پاس پاکستان میں قیام کے لیے قانونی دستاویزات موجود نہیں، انہیں حکومتی پالیسی کے تحت واپس بھیجا جا رہا ہے۔

فرحان خان کے مطابق جن غیر ملکیوں کے پاکستانی شہریوں کے ساتھ قانونی خاندانی تعلقات ہیں، مثلاً جن کی شریکِ حیات پاکستانی ہے، انہیں فی الحال ڈیپورٹ نہیں کیا جا رہا۔
