حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور (ایم ٹی آئی ایچ ایم سی) نے چارج نرس شکیلہ ناز کی جانب سے ہسپتال، ڈاکٹروں اور انتظامیہ پر عائد تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ شکیلہ ناز کے خلاف کی گئی تمام کارروائیاں انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات، بورڈ آف گورنرز کے فیصلوں اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق کی گئیں، جبکہ ادارے نے ہتکِ عزت سمیت قانونی کارروائی کا حق بھی محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ہراسمنٹ سے مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں تک، ایچ ایم سی کی نرس کے حیران کن الزامات
ترجمان کے مطابق محکمہ گائنی اینڈ آبسٹیٹرکس کے ایک سینئر کنسلٹنٹ کی شکایت پر 22 ستمبر 2025 کو انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے تحقیقات کے بعد شکیلہ ناز کے خلاف ہسپتال کی ادویات، سرجیکل سامان اور دیگر ڈسپوزیبل اشیا کی مبینہ خردبرد اور سینئر ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے کے الزامات کو درست قرار دیتے ہوئے انہیں ایم ٹی آئی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے فارغ کرکے محکمہ صحت خیبرپختونخوا واپس بھیجنے کی سفارش کی، جس پر عمل درآمد کیا گیا۔
بیان کے مطابق بعد ازاں شکیلہ ناز نے عدالت سے رجوع کیا، جہاں انہیں عبوری ریلیف ملا۔ اس کے بعد 16 مارچ 2026 کو تین رکنی نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے دوبارہ تحقیقات کے بعد پہلی رپورٹ کے نتائج برقرار رکھے۔
ادارے کے مطابق دوسری انکوائری میں یہ بھی سامنے آیا کہ شکیلہ ناز نے فروری 2023 سے دسمبر 2025 تک ایک ہی شفٹ میں دوہری ڈیوٹی ظاہر کرکے 31 ماہ کے دوران 7 لاکھ 41 ہزار 767 روپے بطور آئی بی پی مراعات وصول کیں، جو مالی اور انتظامی ضوابط کی خلاف ورزی قرار دی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ 6 جون 2026 کو بورڈ آف گورنرز کے 52ویں اجلاس میں انکوائری رپورٹ کی منظوری دیتے ہوئے مذکورہ رقم کی ریکوری اور شکیلہ ناز کو محکمہ صحت خیبرپختونخوا واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔
حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کا کہنا ہے کہ ادارہ شفافیت، احتساب اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر مکمل یقین رکھتا ہے اور کسی بھی فرد کو بے بنیاد الزامات کے ذریعے ادارے یا اس کے طبی عملے کی ساکھ متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چارج نرس شکیلہ ناز نے الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ہراساں کیا گیا، انکار پر ان کے خلاف متعدد انکوائریاں شروع کی گئیں اور ان کی تنخواہ بھی بند کر دی گئی۔
شکیلہ ناز کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 18 برس سے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں خدمات انجام دے رہی ہیں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گائنی یونٹ میں غیر قانونی اسقاط حمل کیے جا رہے ہیں، جبکہ خواتین کے پلاسنٹا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے مردہ بچوں کی لاشیں چین فروخت کی جا رہی ہیں۔
