ایاز مندو خیل
کوئٹہ میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے 29، 30 اور 31 اگست کو کوئٹہ میں جنوبی پختونخوا کی سطح پر پشتون قومی جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان کے مطابق جرگے کا مقصد بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، عوام کے جان و مال کے تحفظ، آئینی حقوق اور پشتون علاقوں کو درپیش مسائل پر اجتماعی مشاورت کرنا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں امن و امان، سیاسی استحکام اور عوامی مسائل پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔ بعض مبصرین اس جرگے کو مکالمے اور مشاورت کے ذریعے مسائل کے حل کی ایک اہم کوشش قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے نزدیک اس کی کامیابی کا انحصار اس کے فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: اورکزئی: محکمہ صحت میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر اینٹی کرپشن نے ڈی ایچ او آفس کا 4 سالہ ریکارڈ طلب کر لیا
کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور مختلف علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی مؤثر تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے زیارت اور ہنہ اڑک کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ان معاملات پر عوام کے سامنے وضاحت پیش کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے اہم قومی معاملات میں پارلیمنٹ کا کردار مؤثر ہونا چاہیے اور آئین کی بالادستی ہی مسائل کے پائیدار حل کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اور عوامی مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جرگے میں امن و امان، عوامی حقوق، زمینوں کے معاملات، سیاسی صورتحال اور دیگر اہم علاقائی مسائل پر مختلف قبائل، سیاسی رہنماؤں، سماجی شخصیات اور نمائندوں کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔
پشتون معاشرے میں جرگے کی روایت
پشتون معاشرے میں جرگہ صدیوں پر محیط ایک روایتی مشاورتی نظام تصور کیا جاتا ہے، جہاں اجتماعی نوعیت کے معاملات پر مختلف قبائل اور عمائدین باہمی مشاورت کے ذریعے فیصلوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماضی میں بھی بلوچستان کے پشتون علاقوں میں مختلف قومی جرگے منعقد ہوتے رہے ہیں، جن میں امن و امان، زمینوں کے تنازعات، جمہوری عمل، تعلیم، صحت، روزگار اور پاک۔افغان تجارت جیسے اہم موضوعات زیر بحث آتے رہے ہیں۔
جیو اکنامک اور سیاسی امور کے مبصر فرید مندوخیل کے مطابق پشتون بیلٹ جیو اکنامک اور تجارتی کوریڈورز کا بنیادی حصہ ہے، اس لیے یہاں قومی اور سیاسی یکجہتی ہر لحاظ سے ناگزیر ہے۔ ان کے بقول، اسی تناظر میں قومی جرگے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے کوئٹہ میں بلایا گیا پشتون قومی جرگہ ایک ایسے وقت میں منعقد ہونے جا رہا ہے جب خطہ سیاسی غیر یقینی، امن و امان کی خراب صورتحال، معاشی مشکلات اور موجود قدرتی وسائل کے استعمال سے متعلق متفقہ پالیسی کے فقدان کے باعث بے چینی کا شکار ہے۔
فرید مندوخیل کے مطابق، یہ جرگہ صرف ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ اجتماعی مشاورت، قومی یکجہتی اور پشتون علاقوں کو درپیش مسائل کو منظم انداز میں اجاگر کرنے کی ایک اہم کوشش بھی ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر جرگے میں تمام طبقات کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی گئی تو یہ مکالمے کو آگے بڑھانے، مختلف فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور عوام و حکومت کے درمیان اعتماد سازی میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار ایڈووکیٹ ہمایون کاسی کے مطابق، چونکہ یہ جرگہ جنوبی پختونخوا کی سطح پر منعقد ہو رہا ہے، اس لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔
ان کے بقول، جرگے میں امن و امان، مختلف علاقوں کی مجموعی صورتحال، بلوچ وطن میں پشتونوں کے جان و مال اور کاروبار سے متعلق خدشات، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کو درپیش مسائل سمیت متعدد اہم موضوعات زیر بحث آنے کی توقع ہے۔

تاہم ایڈووکیٹ ہمایون کاسی کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی متعدد جرگے مشترکہ اعلامیے جاری کر چکے ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد کے لیے مؤثر طریقہ کار سامنے نہیں آ سکا۔
ان کے مطابق، اگر اس مرتبہ جرگہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے واضح لائحہ عمل اور فالو اپ کا مؤثر نظام وضع کرتا ہے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ بھی گزشتہ جرگوں کی طرح محدود اثرات تک ہی رہ سکتا ہے۔
محمود خان اچکزئی کے مطابق، تین روزہ جرگے کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس میں امن و امان، عوامی حقوق اور دیگر اہم معاملات سے متعلق سفارشات پیش کی جا سکتی ہیں۔
