خیبر پختونخوا کے محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) اورکزئی کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کے سلسلے میں سال 2022 سے اب تک کا تفصیلی مالی اور انتظامی ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

 

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا کو ارسال کیے گئے مراسلے کے مطابق ڈی ایچ او اورکزئی، متعلقہ عملے اور دیگر افراد کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: پشاور: تعلیمی بورڈ نے میٹرک سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا اعلان کر دیا

 

 مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انکوائری میں کرپشن، غیر قانونی ذرائع سے اثاثے بنانے، سرکاری فنڈز میں خرد برد، غیر معیاری سامان کی خریداری، جعلی میڈیکل کلیمز اور سرکاری اختیارات کے مبینہ غلط استعمال سمیت متعدد الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے اینٹی کرپشن نے سال 2022 سے اب تک ادویات، طبی آلات، فرنیچر، اسٹیشنری، پرنٹنگ، پٹرولیم مصنوعات، ٹی اے/ڈی اے، ٹرانسپورٹ اور دیگر مدات کے بجٹ کے اجرا اور استعمال کی مکمل تفصیلات طلب کی ہیں۔

 

مراسلے میں سپلائی آرڈرز، بلز، سپلائرز کو جاری کیے گئے چیکس، کیش بکس، اسٹاک رجسٹر، ڈلیوری چالان، ادویات کی تقسیم کا ریکارڈ، فزیکل ویری فکیشن کمیٹیوں کی تفصیلات، مختلف صحت مراکز کی ڈیمانڈز، ڈی ڈی اوز اور اسٹور کیپرز کی معلومات بھی فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

اس کے علاوہ سال 2022 سے ہونے والی تمام بھرتیوں کا مکمل ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں اشتہارات، شارٹ لسٹنگ، سلیکشن کمیٹیوں کے منٹس، تقرری کے احکامات، تقرری کرنے والے مجاز افسران کی تفصیلات، برطرف، ایڈجسٹ اور بحال کیے گئے ملازمین کی فہرستیں اور آڈٹ رپورٹس شامل ہیں۔

 

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے ڈی جی ہیلتھ سروسز خیبر پختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ این ایم ڈیز کے فوکل پرسن کے ذریعے مطلوبہ تمام تصدیق شدہ ریکارڈ جلد از جلد فراہم کیا جائے تاکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔