خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ کے آن لائن اسلحہ لائسنس نظام "دستک" سے مبینہ طور پر مشکوک لائسنس جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ کی آرمز برانچ کی منظوری کے بغیر 200 سے زائد اسلحہ لائسنس پرنٹ کیے گئے، جبکہ یہ لائسنس متعلقہ ڈپٹی کمشنرز، ضلعی پولیس افسران (ڈی پی اوز) اور محکمہ داخلہ سے مقررہ طریقہ کار کے مطابق منظور یا پراسیس نہیں ہوئے۔

 

یہ بھی پڑھیے: آج سونے کی قیمت میں کتنی کمی ہوئی؟

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا نظام کو ہیک کیا گیا، فراڈ کیا گیا یا کسی نے لائسنس کی منظوری کے لیے استعمال ہونے والا سرکاری لاگ اِن غیرقانونی طور پر استعمال کیا۔

 

ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ کی لائسنس برانچ نے احتیاطی اقدام کے طور پر تمام اضلاع میں "دستک" ایپ کے ذریعے اسلحہ لائسنسوں کی تصدیق کا عمل عارضی طور پر روک دیا ہے۔

 

دوسری جانب خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر عاکف خان نے تصدیق کی ہے کہ محکمہ داخلہ کی جانب سے "دستک" ایپ سے متعلق شکایت موصول ہوئی ہے۔

 

ایم ڈی آئی ٹی بورڈ کے مطابق ابتدائی طور پر 21 مشکوک اسلحہ لائسنسوں کا فرانزک آڈٹ کیا جا رہا ہے تاکہ معاملے کی حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ "دستک" ایپ اس وقت اپ گریڈیشن کے باعث بند ہے اور مستقبل میں اسلحہ لائسنس کے اجرا کے نظام میں فیشل ریکگنیشن سمیت مزید جدید سکیورٹی فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

 

واضح رہے کہ 2023 میں بھی خیبرپختونخوا کے محکمہ داخلہ کی آرمز برانچ سے 5 ہزار جعلی سرکاری اسلحہ لائسنس جاری ہونے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس کے بعد لائسنس کے نظام پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔