افغانستان میں زیرِ تعلیم تقریباً 913 پاکستانی طلبہ نے کابل میں پاکستان کے سفارت خانے سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں طورخم سرحد کے راستے جلد از جلد وطن واپسی کی سہولت فراہم کی جائے۔

 

طلبہ کی جانب سے پاکستانی سفارت خانے کو ارسال کیے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جامعات میں موسمِ گرما کی تعطیلات شروع ہو چکی ہیں، اس لیے وہ اپنے گھروں کو واپس جانا چاہتے ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے: پاک افغان سرحدی گزرگاہوں کی بحالی کا مطالبہ، بارڈر چیمبرز آف کامرس کا مشترکہ مؤقف

 

خط میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان پہلے ہی انہیں طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان جانے کی اجازت دے چکے ہیں، تاہم وطن واپسی کے لیے پاکستانی حکام کی جانب سے ضروری انتظامات کا انتظار ہے۔

 

طلبہ کے مطابق افغانستان میں مزید قیام سے انہیں مالی اور سفری مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ وہ نئے تعلیمی سمسٹر کے آغاز سے قبل اپنے اہلِ خانہ سے بھی ملنا چاہتے ہیں۔

 

انہوں نے پاکستانی سفارت خانے سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جلد از جلد وطن واپسی کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔