پاک افغان سرحدی تجارت، سرحدی گزرگاہوں کی بحالی اور سابق قبائلی اضلاع کو درپیش تجارتی و معاشی مسائل پر بارڈر چیمبرز آف کامرس کے مشترکہ اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا۔ ا
جلاس میں پاک افغان سرحدی گزرگاہوں، خصوصاً انگور اڈہ، غلام خان، خرلاچی، طورخم، چمن اور بدینی بارڈر کی بحالی، سرحدی تجارت کے فروغ اور متاثرہ تاجروں کے مسائل کے حل پر اتفاق کیا گیا۔
سرحدی تجارت کی بحالی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور تاجروں کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں نصف صدی گزارنے والے افغان مہاجرین کو وطن واپسی میں کن مشکلات کا سامنا ہے؟
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی وزیرستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سیف الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفاد سب سے مقدم ہیں، تاہم قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدی تجارت کی بحالی اور عوام کو درپیش مشکلات کا حل بھی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے ہزاروں تاجر، ٹرانسپورٹرز، مزدور اور کاروبار سے وابستہ خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے تمام صوبائی چیمبرز پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر مشترکہ مؤقف اختیار کریں تاکہ تاجروں اور عوام کے مسائل مؤثر انداز میں متعلقہ حکام تک پہنچائے جا سکیں۔
اجلاس میں شریک تمام صوبائی چیمبرز کے صدور نے مطالبات کی متفقہ حمایت کرتے ہوئے سرحدی گزرگاہوں کی جلد بحالی کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اس موقع پر پیٹرن اِن چیف ایس ایم تنویر نے بتایا کہ 30 جولائی کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے تمام متعلقہ سرحدی چیمبرز کی مشترکہ ملاقات ہوگی، جس میں سرحدی گزرگاہوں کی بحالی، سرحدی تجارت کے فروغ اور تاجروں کو درپیش مسائل پیش کیے جائیں گے۔
یہ اجلاس سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پشاور کے محسن ہال میں منعقد ہوا، جس کی صدارت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ اور پیٹرن اِن چیف ایس ایم تنویر نے کی۔
